پڑتی ہے آ کے جان پر آخر بلائے دل

تحت اللفظ

پڑتی ہے آ کے جان پر آخر بلائے دل
یا رب کسی بشر کا کسی پر نہ آئے دل

تیرے بغیر کس کی تمنا کرے بشر
تو آرزوئے جان ہے تو مدعائے دل

جو کچھ سلوک تو نے کیے اس غریب سے
کیوں بے وفا بتا تو یہی تھی جزائے دل

تاب و توان و صبر و خرد کب کے چل دیے
رکھتے ہیں کائنات میں ہم کیا سوائے دل

گاڑا فلک نے پھر کسی عاشق کو خاک میں
مرقد سے آ رہی ہے صدا ہائے ہائے دل

ایسا کہاں انیس کہاں ایسا غم گسار
بیگانہ سب سے ہے جو ہوا آشنائے دل

غفراں پناہ جب سے لہو ہو کے بہہ گیا
سینے میں آ کے درد رہا ہے بجائے دل

چھوڑا اگر اجل نے وفا زیست نے بھی کی
او بے وفا دکھاؤں گا تجھ کو وفائے دل

افسردگی نے کر دیا اس درجہ مضمحل
آتی نہیں ہے سینے سے باہر صدائے دل

آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل

قربان ہے وہ تجھ پہ تصدق ہوں اس پہ میں
دل تجھ پہ ہے نثار تو میں ہوں فدائے دل

غم کا گزر ہے اس میں نہ غصے کا دخل ہے
سنسان مدتوں سے ہے ماتم سرائے دل

اشکوں کے ساتھ وہ بھی لہو ہو کے بہہ گیا
اے رندؔ دیکھ لو یہ ہوئی انتہائے دل

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!