خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

تحت اللفظ

مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا
ہم سبھی مہمان تھے واں تو ہی صاحب خانہ تھا

وائے نادانی کہ وقتِ مرگ یہ ثابت ہوا
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

حیف کہتے ہیں ہوا گل زار تاراجِ خزاں
آشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بیگانہ تھا

ہو گیا مہماں سرائے کثرتِ موہوم آہ
وہ دلِ خالی کہ تیرا خاص خلوت خانہ تھا

بھول جا خوش رہ عبث وے سابقے مت یاد کر
دردؔ! یہ مذکور کیا ہے آشنا تھا یا نہ تھا

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!