بہت سے لوگ مری شکل دیکھنے آئے

تحت اللفظ

یہ اور دور ہے اب اور کچھ نہ فرمائے
مگر حفیظؔ کو یہ بات کون سمجھائے

وفا کا جوش تو کرتا چلا گیا مدہوش
قدم قدم پہ مجھے دوست ہوش میں لائے

پری رخوں کی زباں سے کلام سن کے مرا
بہت سے لوگ مری شکل دیکھنے آئے

بہشت میں بھی ملا ہے مجھے عذاب شدید
یہاں بھی مولوی صاحب ہیں میرے ہمسائے

عذابِ قبر سے بد تر سہی حیات حفیظؔ
یہ جبر ہے تو بجز صبر کیا کیا جائے

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

قرأت ہائے تازہ

تنبیہ