کچھ سوچ کے پروانہ محفل میں جلا ہوگا

تحت اللفظ

کچھ سوچ کے پروانہ محفل میں جلا ہوگا
شاید اسی مرنے میں جینے کا مزا ہوگا

ہر سعیِ تبسم پر آنسو نکل آئے ہیں
انجامِ طرب کوشی کیا جانیے کیا ہوگا

گمراہِ محبت ہوں پوچھو نہ مری منزل
ہر نقشِ قدم میرا منزل کا پتا ہوگا

کیا تیرا مداوا ہو دردِ شبِ تنہائی
چپ رہیے تو بربادی کہیے تو گلہ ہوگا

کترا کے تو جاتے ہو دیوانے کے رستے سے
دیوانہ لپٹ جائے قدموں سے تو کیا ہوگا

میخانے سے مسجد تک ملتے ہیں نقوشِ پا
یا شیخ گئے ہوں گے یا رند گیا ہوگا

فرزانوں کا کیا کہنا ہر بات پہ لڑتے ہیں
دیوانے سے دیوانہ شاید ہی لڑا ہوگا

رندوں کو حفیظؔ اتنا سمجھا دے کوئی جا کر
آپس میں لڑو گے تم واعظ کا بھلا ہوگا

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!