دل پہ جو گزری کوئی کیا جانے

تحت اللفظ

دل پہ جو گزری کوئی کیا جانے
یہ تو ہم جانیں یا خدا جانے

خاک جھیلے گا وہ مصیبتِ عشق
جو لگا کر نہ پھر بجھا جانے

تو ہی اپنا مقام جانتا ہے
اک ظلوم و جہول کیا جانے

کیا کرے عرضِ مدعا وہ بشر
ابتدا کو جو انتہا جانے

بادہ نوشوں کا حشر کیا ہوگا
مجھ بلانوش کی بلا جانے

بات رندی کی مجھ کو آتی ہے
پارسائی کی پارسا جانے

تجھ کو اپنی خبر نہیں اے جوشؔ
تو خدائی کے راز کیا جانے

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!