آنکھوں کا تھا قصور چھری دل پہ چل گئی

تحت اللفظ

دیکھا جو حسنِ یار طبیعت مچل گئی
آنکھوں کا تھا قصور چھری دل پہ چل گئی

ہم تم ملے نہ تھے تو جدائی کا تھا ملال
اب یہ ملال ہے کہ تمنا نکل گئی

ساقی تری شراب جو شیشے میں تھی پڑی
ساغر میں آ کے اور بھی سانچے میں ڈھل گئی

دشمن سے پھر گئی نگہِ یار شکر ہے
اک پھانس تھی کہ دل سے ہمارے نکل گئی

پینے سے کر چکا تھا میں توبہ مگر جلیلؔ
بادل کا رنگ دیکھ کے نیت بدل گئی

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

قرأت ہائے تازہ

تنبیہ