کچھ لگی دل کی بجھا لوں تو چلے جائیے گا

تحت اللفظ

کچھ لگی دل کی بجھا لوں تو چلے جائیے گا
خیر سینے سے لگا لوں تو چلے جائیے گا

میں زخود رفتہ ہوا سنتے ہی جانے کی خبر
پہلے میں آپ میں آ لوں تو چلے جائیے گا

راستہ گھیرے ہیں ارمان و قلق حسرت و یاس
میں ذرا بھیڑ ہٹا لوں تو چلے جائیے گا

پیار کر لوں رخِ روشن کی بلائیں لے لوں
قدم آنکھوں سے لگا لوں تو چلے جائیے گا

میرے ہونے ہی نے یہ روزِ سیہ دکھلایا
اپنی ہستی کو مٹا لوں تو چلے جائیے گا

چھوڑ کر زندہ مجھے آپ کہاں جائیں گے
پہلے میں جان سے جا لوں تو چلے جائیے گا

آپ کے جاتے ہی بیدمؔ کی سنے گا پھر کون
اپنی بیتی میں سنا لوں تو چلے جائیے گا

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

قرأت ہائے تازہ

تنبیہ