در پہ نالے کیے اتنے کہ گلے بیٹھ گئے

تحت اللفظ

تھے ہم استادہ ترے در پہ ولے بیٹھ گئے
تو نے چاہا تھا کہ ٹالے نہ ٹلے بیٹھ گئے

غیر بدوضع ہیں محفل سے شتاب ان کی اٹھو
پاس ایسوں کے تم اے جان بھلے بیٹھ گئے

گھر سے نکلا نہ تو اور منتظروں نے تیرے
در پہ نالے کیے اتنے کہ گلے بیٹھ گئے

ناتواں ہم ہوئے یاں تک کہ تری محفل تک
گھر سے آتے ہوئے سو بار چلے بیٹھ گئے

اشک اور آہ کی شدت نہ تھمی گرچہ بقاؔ
گھر کے گھر اس میں ہزاروں کے جلے بیٹھ گئے

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ