فرض کرو

تحت اللفظ

فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں

فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو

فرض کرو تمھیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمھارے سچ مچ کے مے خانے ہوں

فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پر بھاری ہو

فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایا ہو

دیکھ مری جاں کہہ گئے باہو کون دلوں کی جانے ہو
بستی بستی صحرا صحرا لاکھوں کریں دوانے ہو

جوگی بھی جو نگر نگر میں مارے مارے پھرتے ہیں
کاسہ لیے بھبوت رمائے سب کے دوارے پھرتے ہیں

شاعر بھی جو میٹھی بانی بول کے من کو ہرتے ہیں
بنجارے جو اونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں

ان میں سچے موتی بھی ہیں ان میں کنکر پتھر بھی
ان میں اتھلے پانی بھی ہیں ان میں گہرے ساگر بھی

گوری دیکھ کے آگے بڑھنا سب کا جھوٹا سچا ہو
ڈوبنے والی ڈوب گئی وہ گھڑا تھا جس کا کچا ہو

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!