بے وفا کہتے ہیں تجھ کو اور شرماتا ہوں میں

تحت اللفظ

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
بھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں

ایک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں
اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں

او وفا نا آشنا کب تک سنوں تیرا گلہ
بے وفا کہتے ہیں تجھ کو اور شرماتا ہوں میں

آرزوؤں کا شباب اور مرگِ حسرت ہائے ہائے
جب بہار آئے گلستاں میں تو مرجھاتا ہوں میں

حشرؔ میری شعر گوئی ہے فقط فریادِ شوق
اپنا غم دل کی زباں میں دل کو سمجھاتا ہوں میں

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!