شامتِ اعمالِ ما صورتِ نادر گرفت

فارسی ضرب المثل (کہاوت)

شامتِ اعمالِ ما صورتِ نادر گرفت

ترجمہ

ہمارے اعمال کی شامت نے نادر کی صورت اختیار کر لی۔

مطلب

انسان کے گناہوں کی سزا بعض اوقات کسی ایسے انسان کی صورت میں نازل ہوتی ہے جو اس کے لیے سخت ناگوار بھی ہو اور مسلط بھی کر دیا گیا ہو۔

پس منظر

نادر قلی بیگ المعروف نادر شاہ افشار نے ۱۷۳۹ء میں کرنال کی جنگ جیت کر تاجِ دہلی پر قبضہ کر لیا تھا۔ جنگ میں ہزاروں مغل فوجی کھیت رہے اور بعد ازاں شورش سے نمٹنے کے لیے نادر نے قتلِ عام کا حکم دے دیا۔ غارت گری اور لوٹ مار کا وہ بازار گرم ہوا کہ ریاستِ مغلیہ اس سانحے کو پھر کبھی بھلا نہ سکی۔ اس موقع پر مبینہ طور پر پنجاب کے کسی شاعر نے یہ شعر کہا:

آدمیاں گم شدند ملکِ خدا خر گرفت
شامتِ اعمالِ ما صورتِ نادر گرفت

یعنی انسان غائب ہو گئے اور خدا کی زمین پر گدھا راج کرنے لگا۔ ہمارے اعمال کی شامت نے نادر کی صورت اختیار کر لی۔

استعمال

اس صورت میں بولا جاتا ہے جب کسی غلطی یا جرم کی پاداش میں یا محض بدقسمتی سے کوئی کندۂِ ناتراش لوگوں پر افسر وغیرہ کی صورت میں مسلط ہو جائے یا مثلاً کوئی احمق بن بلائے کسی جگہ گھس بیٹھے اور معمول کی سرگرمیوں میں رکاوٹ یا فتنہ پیدا کرے۔

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب ہیں۔

تمام ضرب الامثال
یہ کہاوت (ضرب المثل) اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مراسلے کے؟