بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا

کہاوت

ضرب الامثال

بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا

بلی بھاگوں چھینکا ٹوٹا

چھینکا ٹوٹا بلی کے بھاگوں

معانی/مفہوم

بلی کی خوش قسمتی سے وہ جالی ٹوٹ گئی جس میں دودھ بندھا ہوا تھا۔

مطلب/وضاحت/تشریح

کوئی کام کرنا چاہتے تھے مگر طاقت نہ تھی یا حالات ساتھ نہ دیتے تھے۔ پھر گویا غیب سے مدد ہوئی اور اچانک اس کام کی راہ ہموار ہو گئی جس کے دور دور تک کوئی آثار نہ تھے۔

چھینکا اس جالی کو کہتے ہیں جس میں پرانے زمانوں میں دودھ کا برتن یا کھانے پینے کی چیزیں رکھ کر کسی اونچی جگہ لٹکا دیا جاتا تھا تاکہ بچوں اور جانوروں وغیرہ کی دسترس سے دور اور محفوظ رہے۔

بھاگ ہندی میں نصیب کو کہتے ہیں۔ بھاگوں یعنی نصیب سے۔ خوش قسمتی سے۔

پس منظر/کہانی

کوئی بلی بھوکی تھی۔ ادھر ادھر پھرتے ہوئے ایک گھر میں اسے چھینکا لٹکا نظر آیا۔ چھینکے میں ایک برتن تھا اور برتن میں دودھ۔ بلی دودھ کی مہک سے بےتاب ہو گئی۔ چاہا کہ کسی طرح اچھل کر اس تک پہنچ جائے۔ اونچی اونچی چھلانگیں لگائیں، کودی، پھاندی، مگر بےسود۔ چھینکا بہت اوپر تھا۔

مایوس ہو کر مڑی ہی تھی کہ زور کا کھٹکا ہوا۔ دیکھا تو چھینکا زمین پر گرا پڑا تھا اور برتن سے دودھ بہہ رہا تھا۔

چھینکا ٹوٹنے کی وجہ تو جو بھی رہی ہو مگر بلی کی مراد بر آئی۔ غٹاغٹ سارا دودھ پی گئی۔ وہاں سے یہ مثل مشہور ہوئی۔

استعمال/موقع

جب کوئی شخص کسی کام کا ارادہ رکھتا ہوں مگر کر نہ پا رہا ہو اور پھر اتفاق سے اس کام کے اسباب پیدا ہو جائیں تب کہتے ہیں۔ کسی نااہل کے لیے حالات غیرمتوقع طور پر سازگار ہونے یا غیب سے مدد ہونے پر بھی بولا جاتا ہے۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب۔

یہ ضرب المثل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ
عید مبارک - اردو گاہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!