ایمان پر ایک ایمان دارانہ نظر

2 اگست 2019 ء

صحت مندانہ اور معقول طرزِ حیات کے حوالے سے انسانیت کچھ عالمگیر اصول رکھتی ہے۔ یہ اصول اس لحاظ سے نہایت لائقِ اعتنا ہیں کہ ان کے مطابق چلنے والے لوگ پسند کیے جاتے ہیں اور معقول اور مہذب وغیرہ کہلاتے ہیں۔ تاہم عقلی اعتبار سے یہ قاعدے بالکل احمقانہ اور بےبنیاد ہیں اور منطق ان کا کوئی جواز فراہم نہیں کرتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن لوگوں میں عقلیت اور منطقیت کا مادہ ترقی کر جائے وہ ان اصولوں سے بغاوت کر کے الٹا خبطی اور دیوانے بھی کہلاتے ہیں۔

مجھے مثال سے واضح کرنے دیجیے۔ آپ گھر سے نکلتے ہیں اور کسی کام سے بازار کا رخ کرتے ہیں۔ کیا آپ نے گھر چھوڑتے ہوئے یہ حساب کیا کہ آپ کے کسی حادثے کا شکار ہو جانے کے امکانات کس قدر ہیں؟ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ واپس گھر نہ آ سکیں؟ کیا آپ ہی جیسے لوگ اتنے ہی اعتماد اور بھروسے سے گھر سے نہیں نکلتے جنھیں سڑکوں پر گاڑیاں کچل ڈالتی ہیں؟ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ روزانہ کتنے لوگ سڑک کے حادثات میں معذور ہوتے ہیں اور جان دیتے ہیں؟ کیا ضمانت ہے آپ کے پاس کہ آج آپ بھی ان میں سے ایک نہیں ہوں گے؟ کیا وہ آپ جیسے نہیں ہوتے؟ کیا ان میں سے بہتیرے آپ سے زیادہ عقل مند اور محتاط نہیں ہوتے؟ کیا وہ بھی آپ کی طرح یہی سوچ کر نہیں نکلتے کہ ارے، کچھ نہیں ہوتا؟ کیا انھیں معلوم ہو کہ آج وہ مارے جائیں گے تو وہ گھر سے نکلیں؟ کیا سوچ رہے ہیں آپ؟

ایک عین منطقی اور عقلی بات یہ ہے کہ آپ کے پاس کوئی ضمانت اس بات کی نہیں کہ آپ گھر سے نکل کر سلامت لوٹ سکیں گے۔ مگر آپ کس قدر تسلی سے آتے جاتے ہیں۔ کیا یہ رویہ عقل نے آپ کو سکھایا ہے؟ کیا یہ ایک منطقی طرزِ عمل ہے؟ کیا یہ ایک سائنسی اور تحقیقی اسلوبِ حیات کا نمونہ ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ عقل، تحقیق، مشاہدے، تدبر اور منطق کا تقاضا اس کے بالکل برعکس یہ ہے کہ آپ گھر سے نہ نکلیں جب تک آپ صد فی صد یقین نہ کر لیں کہ آپ محفوظ رہیں گے۔ لیکن اگر کوئی شخص فی الوقع اس درجہ احتیاط اور چون و چرا سے کام لینا شروع کر دے تو دیوانہ اور خبطی نہیں کہلائے گا؟ وہی شخص جو عقل کے تقاضوں کے عین مطابق اپنا تحفظ یقینی بنانے کے بارے میں فکرمند ہے کیا ایک غیرمعقول اور وہمی آدمی نہیں معلوم ہو گا؟ کیا شائستہ اور سلیم الطبع لوگ ایسا کرتے ہیں؟ کیا ایسے عقل مند زندگی گزار سکتے ہیں؟ کیا ہوش و خرد کے ایسےپروانوں سے کوئی سیکھنا چاہے گا کہ زندگی کیا ہے اور کیسے بسر کرنی چاہیے؟

پھر یہی معاملہ مثلاً کھانے پینے کا بھی ہے۔ آپ نہیں جانتے کہ کب کوئی شے پیٹ میں درد پیدا کر دے گی اور کب کسی لذت کا کفارہ بیماری اور اذیت سے ادا کرنا پڑ جائے گا۔ آپ کبھی صد فی صد یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آپ کا صبح کا ناشتہ ضرور بالضرور قوت بخش اور نافع ثابت ہو گا۔ آپ کسی سے ملاقات کرتے ہیں توہرگز یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ آپ اس کا مدعا اور مقصد یقین کی حد تک جانتے ہیں اور وہ ملاقات آپ کے لیے مضر ثابت نہیں ہو گی۔ کیا لوگ سال ہا سال کے اعتماد کے بعد بھی دھوکا نہیں دیتے؟ کیا آپ دنیا کے سب سے عقل مند اور محتاط انسان ہیں جسے فریب دینا ناممکن ہے؟

یہ دیکھنا دشوار نہیں ہے کہ انسان کوئی عقلی اور منطقی مخلوق نہیں ہے۔ عقل اور منطق کے اصولوں پر تو روبوٹ اور کمپیوٹر پروگرام پورے اترتے ہیں مگر ہم جانتے ہیں کہ وہ کس قدر غیرانسانی اور عجیب مخلوق ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس قدر منطقیت اور اصول پرستی کے باوجود ٹیکنالوجی کے یہ شاہکار انسان کی حیثیت و مرتبت کے عشرِ عشیر کو بھی نہیں پہنچتے۔ تو کیا ہم یہ نتیجہ نکالنے میں حق بجانب ہیں کہ کہ نہ زندگی کوئی منطقی اور عقلی شے ہے اور نہ اسے کامیابی سے گزارنے والا انسان عقل پر تکیہ کرتا ہے؟

اچھا۔ ہم اپنے تحفظ کا یقین نہ رکھتے ہوئے بھی سڑک پر نکلتے ہیں، فریب کے امکان کے باوجود لوگوں سے میل جول رکھتے ہیں، کھانے کے مہلک ثابت ہونے کا خدشہ ہوتے ہوئے بھی کھاتے ہیں تو یہ رویے کس طرف اشارہ کرتے ہیں؟ کیا انسان ایک صحت مند زندگی کے سفر کے لیے عقل  کے سوا بھی کچھ زادِ راہ رکھتا ہے؟ یقیناً۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ زادِ راہ کھو جائے تو عقل و ہوش کے جفاکش رہواروں کے ہوتے ہوئے بھی انسان زندگی نہیں گزار پاتا جیسی کہ گزارنی چاہیے۔ ہماری دانست میں یہ زادِ راہ وہ چیز ہے جسے ایمان کہا جاتا ہے۔

ایمان عقل کی مخالف قوت نہیں ہے۔ یہ درحقیقت اس کی مالک ہے۔ عقل اپنی بساط اور تگ و دو کے موافق مختلف نتائج ایمان کے سامنے پیش کرتی ہے اور ایمان گویا ان کی تحویل و تعدیل کر کے فیصلے صادر کرتا ہے۔ مثلاً عقل بتاتی ہے کہ آپ جو کھانے لگے ہیں اس کے بارے میں عین ممکن ہے کہ وہ مہلک یا موذی ثابت ہو۔ آپ جس پل سے گزر رہے ہیں اس کے بارے میں کوئی ضمانت نہیں کہ وہ آپ کے گزرتے ہوئے ٹوٹ نہیں جائے گا۔ آپ جس طیارے پر سوار ہیں اس جیسے کئی ہر برس زمین پر آ رہتے ہیں اور کوئی نہیں بچتا۔ پھر عقل یہ بھی بتاتی ہے کہ کھانا کھانا ضروری ہے بصورتِ دیگر بھی موت کے امکانات روشن ہیں۔ پل سے گزرنا بھی ناگزیر ہے ورنہ فلاں فلاں مقصد فوت ہو جائے گا۔ طیارے پر سوار ہونا بھی لازم ہے نہیں تو بڑے بڑےکام رہ جائیں گے۔ اب اگر آپ خالصتاً عقل کی بنیاد پر یہ فیصلے کرنا چاہیں تو یہ ممکن نہیں ہے۔ دو امکانات کے درمیان انتخاب کسی طور پر عقل سے نہیں ہو سکتا۔ یہاں تک کہ آپ طاقت ور سے طاقت ور کمپیوٹر کی مدد سے بھی اس دبدھا کے حل کے لیے حساب کتاب کریں تو وہ زیادہ سے زیادہ آپ کو امکانات کی فیصد مقداریں بتا سکتا ہے جن کے بعد بھی یہ سوال اپنی جگہ رہے گا کہ خاص آپ  کی ذات کے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے؟ آپ کھانا کھا کر مریں گے یا بھوک مٹے گی؟ آپ پل سے کامیابی سے گزر جائیں گے یا پل ٹوٹ جائے گا؟ طیارہ زمین پر آ رہے گا یا بحفاظت منزل پر اتر جائے گا؟

صاف ظاہر ہے کہ عقل زندگی کے بارے میں روزمرہ تک کے فیصلوں سے عاجز ہے اور یہ فیصلے ایک نادیدہ حسیت کے زور پر ہوتے ہیں جسے ہم نے ایمان قرار دیا ہے۔ پھر محض انسانی زندگی ہی نہیں بلکہ کائنات کے تمام فطری مظاہر کے سلسلے میں بھی عقل اسی کوتاہی اور ضعف کا شکار ہے۔ اگر آپ غور کریں تو معلوم ہو گا کہ باوجودیکہ ہم روزانہ سورج کو مشرق سے ابھرتے اور مغرب میں ڈوبتے دیکھتے ہیں ہم اس بات کی صد فی صد ضمانت نہیں دے سکتے کہ کل بھی سورج یونہی طلوع اور غرب ہو گا۔ باوجودیکہ مون سون کی بارشیں ایک خاص نظام کے تحت ہوتی ہیں مگر ہم کسی سال کے بارے میں حتمی پیشگوئی نہیں کر سکتے کہ سب کچھ اسی قاعدے کے مطابق ہو گا۔ باوجودیکہ ہم ریاضیات اور شماریات میں بزعمِ خویش غیرمعمولی لیاقت کے حامل ہو گئے ہیں ہم کسی معنیٰ خیز تیقن کے ساتھ یہ طے نہیں کر سکتے کہ آئندہ برس معیشت کس نہج پر رواں ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل زندگی اور نظامِ زندگی کو سمجھنے کی کوشش تو کرتی ہے مگر اس پر اختیار نہیں رکھتی۔ لکیر دیکھ کر آپ یہ تو بتا سکتے ہیں کہ سانپ کدھر گیا ہے مگر سانپ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ فیصلہ کرنا محال ہے کہ وہ اب کدھر جائے گا۔  عقل ماضی کے واقعات کی بنیاد پر کچھ قاعدے اور نمونے وضع تو کر سکتی ہے مگر آپ کو یہ یقین کبھی نہیں دلا سکتی کہ فلاں راہ یا طرزِ عمل اختیار کر کے آپ بالکل سلامت اور مامون رہیں گے۔

ایمان وہ مسیحا ہے جو اس کشمکش اور گومگو سے پیدا ہونے والے ضعف کی چارہ گری کرتا ہےاور ہم میں کوئی راہ اختیار کرنے کی ہمت اور قوت پیدا کرتا ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ زندگی اور انسان کی فطرت میں یہ مادہ رکھ دیا گیا ہے کہ وہ عقل کی رو سے عمل نہیں کرتے۔ پس  یہ معاملہ کچھ مومنین سے خاص نہیں کہ وہ ایمان کے تحت زندگی بسر کرتے ہوں بلکہ ہر بشر کا یہی معاملہ ہے کہ خواہ مومن ہو خواہ کافر، زندگی ایک نادیدہ ایمان ہی کے سہارے گزارنے پر مجبور ہے۔ یہ ایمان چھین کر انسان  کومحض عقل کے آسرے پر چھوڑ دیا جائے تو وہ زندگی کی راہ میں عمل کا  ایک قدم بھی اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا۔

آپ جب صحت اور تقویت کی کسی عقلی اور منطقی یقین دہانی کے بغیر لقمہ لیتے ہیں تو یہ ایمان کے سبب ہے۔ آپ جب سڑک پر یہ جانتے ہوئے نکلتے ہیں کہ نکلنے والے گھروں کو نہیں بھی لوٹتے تو یہ ایمان کے طفیل ہے۔ آپ جب پل پر سے کچھ سوچے سمجھے اور حساب کتاب کیے بغیر خراماں خراماں گزرتے ہیں تو یہ ایمان کی وجہ سے ہے۔ عقل سے کام لیں تو قدم اٹھانا تو درکنا سانس تک نہ لے سکیں۔ مشہور ہے کہ ہزار پا سے کسی نے پوچھا کہ اتنے پاؤں کے ساتھ تو چلتا کیسے ہے؟ حساب کیونکر رکھتا ہے کہ کب فلاں پیر اٹھانا ہے اور کب فلاں رکھنا ہے؟ اس نے غور کرنا شروع کیا تو چلنا بھول گیا۔

انسان اس طرح پیدا ہی نہیں کیا گیا کہ وہ ایمان کے بغیر ایک لمحہ بھی گزار سکے۔ زندگی کی یہ روش ہی نہیں کہ وہ ٹھیٹ عقلی اور منطقی اصولوں کے مطابق چلے۔ عقل محض نقش ہائے قدم کا نام ہے۔ ماضی کے مزاروں کا۔ سانپ کی لکیروں کا۔ حال اور مستقبل کے فیصلے ایمان پر ہوتے ہیں۔ عقل ان فیصلوں کی مجاز ہو تو زندگی مردہ اور منجمد ہو کر رہ جائے۔ خود اس ماضی کی طرح جس کی لاش پر عقل کا پودا اگتا ہے۔

وہ ایمان جس کی مذہب ترغیب دیتا ہے کائنات کے انھی مشاہدات اور مطالعات سے جلا پا کر اس درجے پر پہنچ جاتا ہے کہ جس پر ایک بینا شخص کسی نابینا کے مقابلے میں ہوتا ہے۔ یعنی خدا پر ایمان رکھنے والا شخص بھی پل عبور کرتا ہے مگر کسی اندھے ایمان سے نہیں بلکہ ایک روشن ضمیری کے ساتھ کہ خدا نے زندگی لکھی ہے تو گزر جائے گا ورنہ پل سے پیچھے بھی موت آ جائے گی۔ وہ جانتا ہے کہ جس لقمے کو زہر ثابت ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا اس لیے مریضانہ احتیاط اور منطقی موشگافیوں کو رد کر کے کھاتا ہے اور شکر کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ منزل پر پہنچانے والی ذات خدا کی ہے اور اسی نے ہر سواری کی طرح اس کے طیارے کو بھی انسان کے لیے مسخر کیا ہے۔ پس وہ جب تک چاہے گا سفر ہو گا اور جب نہیں چاہے گا تو تمام ہو جائے گا خواہ بشر زمین پر محفوظ ترین پناہ گاہوں کی اوٹ ہی میں کیوں نہ چھپ جائے۔

عقل اور ایمان  کا تعلق جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا کسی مقابلے اور مناقشے کا نہیں ہے۔ بلکہ درحقیقت ایمان ہمیشہ عقل سے مدد لیتا ہے اور اس پر تفوق رکھتا ہے۔ بالکل ایک بادشاہ کی طرح جو رعایا پر حکمرانی بھی کرتا ہے مگر انھی پر اپنی سلطنت کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ جسے لوگ عقل اور ایمان کی لڑائی خیال کرتے ہیں وہ درحقیقت عقل ہی کے مختلف نظریات کا اختلاف ہے۔ ایک کہتا ہے کہ یوں کرو اور دوسرا تقاضا کرتا ہے یوں کرو۔ ایمان اس تمام جدل میں ایک برتر بادشاہ کی طرح اپنی جگہ قائم رہتا ہے اور جب فرد سچ مچ کچھ کرتا ہے تو وہ مطلقاً اسی کے امر کے موافق ہوتا ہے۔

ایمان زندگی کو زندگی بنانے والی قوت ہے۔ مومن اور کافر کے ایمان میں روشنی اور اندھیرے کا سا فرق ہے۔ جاننے اور نہ جاننے کا سا۔ مومن جانتا ہے کہ وہ کس کے آسرے پر چل رہا ہے۔ کافر نہیں جانتا کہ وہ جو کرتا ہے اس کی بنیاد کیا ہے۔ ایک بینا ہے اور ایک نابینا۔ ایک دیکھ بھال کر ہاتھ بڑھاتا ہے اور دوسرا ٹامک ٹوئیاں مارتا ہے۔ جو کہتا ہے کہ میں ایمان رکھتا ہوں وہ سچ کہتا ہے۔ جو کہتا ہے کہ میں ایمان نہیں رکھتا وہ جھوٹ بولتا ہے۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!