انسان کی بنیادی ضروریات آج بھی روٹی، کپڑا، مکان سے آگے نہیں نکلیں۔ ہمیں موسم کی سختیوں سے بچنے کے لیے چھت چاہیے۔ پیٹ بھرنے کو روٹی چاہیے۔ چلنے کو جوتا اور نکلنے کو کپڑا چاہیے۔ تحفظ، تعلق اور تمدن وغیرہ کی تمام مجبوریاں وہی ہیں کہ جو تھیں۔ پس ہم جب اپنے زمانے کو جدید کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری ضروریات بدل گئی ہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ انھیں پورا کرنے کے کچھ نئے طریقے ہم نے اختیار کر لیے ہیں۔
پرانی بستیوں کا چلن تھا کہ کمھار کا بیٹا کمھار اور طبیب کا لڑکا طبیب بنتا تھا۔ سو ڈیڑھ سو برس میں جو انقلاب برپا ہوا اس نے عوام کو خواب دکھایا کہ اب لوہار کی اولاد کے لیے لوہے سے سر مارنا لازم نہیں۔ اسے چاہیے کہ تعلیم حاصل کرے اور اپنی مرضی سے موچی، بڑھئی، درزی، طبیب، گھڑی ساز، مدرس، مہاجن، حلوائی وغیرہ بن جائے۔ معلوم ہوتا ہے کہ پرانے لوگوں نے اس خیال کی پرزور مخالفت کی کیونکہ انھیں اندیشہ تھا کہ اس طرح ان کی صدیوں کی وراثت ضائع ہو جائے گی۔ مگر ریاست تعلیمی انقلاب کی پشت پناہ تھی۔ رفتہ رفتہ معاشرے کے تیور بدلنے لگے۔ نوجوانوں میں بغاوت تو ہوتی ہے۔ اب انھیں حمایت بھی مل گئی۔ لہٰذا ملا کا لڑکا پارچہ باف بن گیا، حلوائی کا منشی، درزی کا لوہار، قلعی گر کا سپاہی، سنار کا حکیم اور قصاب کا استاد۔ ریاست بہت خوش ہوئی اور اعلان کیا کہ اس نے فرد کی آزادی کو وہ معراج بخشی ہے جس کی مثال تاریخ میں ڈھونڈنی محال ہے۔
الناس علیٰ دین ملوکہم۔ لوگوں نے بھی مان لیا کہ تعلیم کے بغیر کوئی چارہ نہیں، کوئی زندگی نہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کوئی آزادی نہیں۔ تعلیم یافتہ شخص باشعور ہوتا ہے، بھلے برے میں تمیز کر سکتا ہے، صائب الرائے اور صاحبِ اختیار ہوتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ نقار خانے کے وہ طوطی جو ان سے متفق نہ تھے، رفتہ رفتہ تھک گئے، ہار گئے یا مر گئے۔ اب جو تہذیب سامنے آئی اس میں قاعدہ یہ مقرر ہوا کہ ہر فرد، یعنی ہر آزاد فرد پہلے تعلیم کے لیے ریاست کی چوکھٹ پر مجرا بجا لائے گا اور پھر اپنی مرضی کے میدان میں نوکری کے لیے جبہہ سائی کرے گا۔ ریاست بہت خوش تھی۔ اس نے اعلان کیا کہ ہم کپڑا بنانے اور سینے کے لیے کارخانے لگائیں گے جن میں ہزار ہا لوگوں کو نوکریاں ملیں گی۔ اسی طرح برتن، جوتے، گاڑیاں، پنکھے، ہتھیار، اوزار، پلنگ، دروازے، کھڑکیاں، چھری کانٹے وغیرہ بھی کارخانوں میں تیار کیے جائیں گے تاکہ علم والوں کو روٹی ملے اور عوام کو سہولت میسر آئے۔ اس قسم کی متعدد اصلاحات کے بعد شدہ شدہ نظام اس قابل ہو گیا کہ تعلیم یافتہ، باشعور اور صائب الرائے افراد کے بڑے بڑے سدھے سدھائے ریوڑوں کو جب چاہے جدھر چاہے، کامیابی سے ہانک دے۔ ریاست بہت خوش تھی۔
عوام نے جب اول اول کارخانوں کی جادوئی پیداوار دیکھی تو وہ بھی بہت مسرور ہوئے۔ چینی کا ایک کارخانہ دن میں منوں چینی پیدا کر رہا تھا جبکہ بستیوں کے پرانے، فرسودہ نظام میں سارا سارا دن کڑاہوں کے پاس جل بھن کر سیاہ ہو جانے والے مزدور بمشکل چند سیر گڑ بنا پاتے تھے۔ گاؤں کے موچی کو ایک کھسہ تیار کرنے میں کئی کئی گھنٹے اور کبھی کبھار دن لگ جاتے تھے مگر جوتوں کی فیکٹری روزانہ ہزاروں جوڑے کھٹا کھٹ نکال رہی تھی۔ کرسیاں بننے والوں کی کمریں دہری ہوئی جاتی تھیں مگر وہ سب مل کر سالوں میں بھی اتنی کرسیاں نہیں بنا سکتے تھے جتنی صنعتکار ہفتے بھر میں ڈھال دیتا تھا۔ عوام نے دیکھا کہ حکومت نے واقعی تعلیم دے کر مزدوروں پر اور پیداوار بڑھا کر رعایا پر احسان کیا ہے۔ تعلیم پر ان کا ایقان اور بڑھ گیا اور کارخانوں میں نوکری کی درخواستوں میں اضافہ ہونے لگا۔
کچھ عرصے کے بعد لوگوں نے محسوس کیا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ نئے طبیب جو ریاست سے جدید تعلیم پا کے آئے تھے، علاج کے زیادہ پیسے طلب کرتے تھے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان بیچاروں کے تعلیم پر بہت اخراجات ہوئے ہیں۔ وہ مثلاً درزی باپ نے قرض لے کر پورے کیے تھے۔ اب برخوردار کے کاندھوں پر مریضوں کے ساتھ ساتھ قرض خواہوں کے علاج کا بھی بوجھ ہے۔ مہنگا تو ہو گا۔ اچھا، یوں سہی۔ مگر یہی حال حکیم صاحب کے لڑکے کا بھی تھا جو پڑھ لکھ کر ٹھیکیدار کا نوکر ہو گیا تھا۔ حکیم صاحب نے بھی اس کی تعلیم پر خاصے روپے خرچ کیے تھے۔ تنخواہ سے یہ نقصان سالوں پورا ہوتا نظر نہ آتا تھا۔ دکانداروں، سبزی فروشوں، عطاروں، مولویوں، مستریوں، استادوں، گویوں، بھانڈوں، شاعروں، غرض سب کو شکایت تھی کہ چیزیں اور خدمات مہنگی ہو رہی ہیں۔ یہ دیکھ کر ریاست نے نصاب میں معیشت پر کچھ ابواب بھی شامل کر دیے تاکہ رعایا کی دلجوئی ہو سکے۔ ریاست خوش تھی۔
پھر لوگوں نے دیکھا کہ قصاب کا لڑکا استاد بن تو گیا ہے مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ مولوی صاحب کا خاندان نہ جانے کب سے علم سے وابستہ تھا اور انھیں پڑھانے کا بڑا سلیقہ تھا۔ اسی طرح کپڑے کے کارخانے میں کپڑا تو وافر بن رہا تھا مگر جو صفائی بستی کے پارچہ باف کے ہاتھ میں تھی وہ نظر نہ آتی تھی۔ پارچہ باف صدیوں سے یہی کام کرتے آئے تھے لیکن کارخانے کے نوکروں میں کوئی کنجڑا تھا، کوئی جاٹ، کوئی دھوبی، کوئی نائی۔ نائی؟ نائیوں کا بھی تو یہی حال ہو گیا تھا۔ ان کے پرکھے نسل در نسل زلف و گیسو کے حلقہ بگوش رہے تھے مگر اب دیکھو تو کہیں لوہار کا لڑکا استرا لیے کھڑا ہے کہیں تندورچی کا۔ لوہاروں اور تندورچیوں سے بھی کوئی مطمئن نہ تھا۔ بےچینی بڑھ رہی تھی۔ فیصلہ ہوا کہ آئندہ کام کے لیے ان لوگوں کو ترجیح دی جائے گی جنھیں تجربہ ہو۔
مستری کے لڑکے غریب نے پڑھ تو لیا مگر اب اس کے پاس منشی گیری کا تجربہ کہاں سے ہو؟ ناچار دفتروں میں بیگار شروع ہوئی۔ دو چار برس کے بعد کچھ روپے گھر لانے کے قابل ہوا تو معلوم ہوا کہ مہنگائی اور بڑھ گئی ہے۔ اچھا، کوئی بات نہیں۔ مالک کہتا ہے کہ تجربہ بڑھ جائے گا تو تنخواہ بھی بڑھ جائے گی۔ ادھر عطار کا لونڈا تعلیم مکمل کر کے بجلی گھر پہنچا تو اسے بھی خبر دی گئی کہ اناڑیوں کو ہم نہیں رکھتے۔ تجربہ حاصل کر کے آؤ یا یہیں حاصل کرو۔ وہ بھی لگ گیا۔ ہوتے ہوتے یہی پٹس ہر جگہ مچ گئی۔ ہزاروں لاکھوں روپے تعلیم پر خرچ کرنے کے بعد عالم یہ تھا کہ تجربہ حاصل کرنے بیوپاری کا لڑکا درزیوں میں گھسا ہوا ہے، موچی کا لوہاروں میں، جاٹ کا ترکھانوں میں، حکیم کا نائیوں میں، دھوبی کا جلاہوں میں۔ غرض چوں چوں کا ایک ایسا مربہ تیار ہو گیا جسے ہضم کرنے کے لیے عوام نے ایک مرتبہ پھر ریاست کو چورن کی درخواست دی۔ ریاست نے ازراہِ بندہ پروری تعلیم کے اخراجات خود اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ رعایا نے بھنگڑے ڈالے۔ ریاست ایک مرتبہ پھر خوش تھی۔
چمار کا وہ لڑکا بھی جو پہلے تعلیم حاصل نہ کر سکا تھا، سکول میں ڈال دیا گیا۔ کئی برس تک لگاتار علم چھانٹنے کے بعد جب اسے شعور آیا تو اس نے مٹھائی کی ایک مشہور دکان پر نوکری کا ارادہ کیا۔ حسبِ دستور تجربے کا تقاضا ہوا اور تجربہ حاصل ہونے تک بڈھا باپ کھانس کھانس کر ادھ موا ہو گیا۔ اسے رنج تھا کہ لڑکا کماتا نہیں۔ اگلے وقتوں میں بارہ چودہ برس کے لڑکے گھر چلانے لگتے تھے مگر یہ ناہنجار دگنی عمر میں بھی شعور لیے گھوم رہا تھا۔ جوں توں کر کے نوکری ملی تو پھر وہی مسئلہ درپیش ہوا۔ لوگوں کو شکوہ رہنے لگا کہ حلوائیوں والا ذائقہ اس کے ہاتھ میں نہیں۔ اب انھیں کون سمجھائے کہ حلوائیوں کے تو باپ دادا بھی حلوائی تھے۔ باپ دادا کے باپ دادا بھی۔ چماروں کا بھلا ان سے کیا مقابلہ؟
اور چمار کا لڑکا اکیلا نہ تھا۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں بچوں نے اس کے ساتھ علم حاصل کیا تھا۔ ان کے ساتھ بھی ہونی ہو کر رہی۔ چوں چوں کا مربہ گاڑھا ہوتا گیا۔ ہضم کرنا تو دور، نگلنا مشکل ہو رہا تھا۔ عوام کو گلہ تھا کہ چیزیں معیاری نہیں ملتیں۔ پیشہ ور لوگ ہنرمند نہیں ہوتے۔ مہنگائی بہت ہے۔ نوکریاں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ ریاست اب بھی خوش تھی۔ اس نے کچھ اور وعدے کیے۔ مگر چھوڑیے۔ آپ نے دیکھ لیا ہو گا کہ ریاست کا تو کام یہی ہے۔ اس بکواس کا کیا فائدہ؟
فائدہ بس یہ جاننے میں ہے کہ نظامِ معاشرت کے بخیے ادھیڑ کر تعلیم اور شعور کے چیتھڑوں سے ننگ نہیں چھپایا جا سکتا۔ ہمیں تعلیم دی گئی ہے کہ روایت دقیانوسی ہوتی ہے اور جدت سہولت بخش۔ اپنے شعور کو اسی تعلیم پر آزما لینے میں کیا حرج ہے؟ شاید ہم یہ کھلا راز دریافت کر سکیں کہ ہمیں دھوکا دیا گیا ہے۔ ہم سے جھوٹ بولا گیا ہے۔ روایت درحقیقت صدیوں کے تجربے اور آزمائش کے بعد قائم ہوتی ہے اور اسے صرف پرانا ہونے کے باعث ہرگز رد نہیں کیا جا سکتا۔ آخر سورج کا مشرق سے طلوع ہونا بھی تو ایک پرانی بات ہے۔ کیا پرانے پن کی تہمت رکھ کر اس سے بھی منکر ہو جائیں؟ سوچنے کا مقام ہے، صاحبو۔ کیا جدت کی ترنگ میں روایت سے بغاوت کر کے ہم نے ٹھیک فیصلہ کیا ہے؟ کیا ہم آزاد ہو گئے ہیں؟ کیا ہمارے پاس شعور ہے؟ کیا ہمارے پاس تجربہ ہے؟ کیا ہمارے پاس معیار ہے؟ کیا ہمارے پاس سکھ ہے؟ روٹی ہے؟ چھت ہے؟
میں پچھلے دنوں پشاور گیا اور قصہ خوانی بازار میں سوڈے کی ایک چھوٹی سی دکان دیکھی۔ پیشانی پر ایک بورڈ آویزاں تھا جس پر کوئی سو سال پرانی تاریخ درج تھی اور اس قدامت پر فخر کا اظہار کیا گیا تھا۔ ہمارے رہبر نے ہمیں بڑے اشتیاق سے وہاں جا بٹھایا۔ عام سی دکان ہے مگر شہر بھر میں مشہور۔ باہر کے لوگ بھی امڈ امڈ کر آتے ہیں۔ وجہ؟ یہ نہیں کہ نئی ہے۔ بلکہ یہ کہ پرانی ہے۔ خاندانی کام ہے۔ تجربہ ہے۔ تاریخ ہے۔ قدر افزائی کا یہی سلسلہ آپ کو پوری دنیا میں ملے گا۔ لوگ اس ڈاکٹر پر بھروسا کرنے پر زیادہ مائل ہوں گے جس کے خاندان میں طبابت رہی ہو۔ اس استاد کی زیادہ قدر کریں گے جس کا خانوادہ تعلیم سے وابستہ رہا ہو۔ اس باورچی پر زیادہ اعتماد کریں گے جس کے باپ دادا بھی باورچی رہے ہوں۔ عجیب بات ہے کہ خاندانی کام والے زیادہ پیسے بھی مانگیں تو دکھ نہیں ہوتا۔ الٹا تسلی ہوتی ہے۔ خوشی ہوتی ہے۔
پھر ایک اور پہلو یہ ہے کہ خاندانی کام میں انسان کی تربیت بچپن سے اور غیر شعوری طور پر ہوتی رہتی ہے۔ محنت نہیں کرنی پڑتی۔ کام کا معیار خود بخود بہتر سے بہتر ہوتا چلا جاتا ہے۔ تخلیقیت اپنی راہیں آپ پیدا کر لیتی ہے۔ محتاج نہیں ہونا پڑتا۔ ذلت نہیں سہنی پڑتی۔ لوگ خود ڈھونڈ ڈھونڈ کر، پوچھ پوچھ کر آتے ہیں۔ بےروزگاری کا دھڑکا نہیں رہتا۔ مہنگائی کا ماتم نہیں ہوتا۔ معاشرے میں پہچان پیدا ہوتی ہے۔ قدر پیدا ہوتی ہے۔ یہی حقیقی آزادی ہے۔ یہی حقیقی شناخت ہے۔ یہی حقیقی تعلیم ہے۔
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر قابلِ میراثِ پدر کیونکر ہو
پیشوں سے البتہ ہمارے ہاں جو عزت ذلت وابستہ ہے وہ نہایت مکروہ چیز ہے۔ اسی نے غریب اور محروم طبقے کو جدید تعلیم پر اکسا کر فتنہ پردازی کی راہ ہموار کرنے میں سب سے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ انسان سوکھی روٹی کھا کر خوش رہ سکتا ہے مگر ٹھوکریں کھا کر کبھی راضی نہیں ہوتا۔ برِ صغیر کے طبقاتی نظام نے انسان کی تحقیر کر کے اپنی جڑیں خود کھود ڈالی ہیں۔ آج کے مغربی معاشرے میں ہم دیکھتے ہیں کہ غربت کو ذلت سے کوئی واسطہ نہیں۔ خاکروب بھی عام طور پر اتنا ہی معزز ہے جتنا کہ قاضی۔ یہی وجہ ہے کہ فطرت سے بغاوت کے باوجود ان کا نظام چل رہا ہے۔ لوگ باغی نہیں ہوئے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ نظام بھی بغاوت کی بجائے ہزار ہا برس کی آزمودہ روایت پر قائم ہوتا۔ اور ہو جائے گا۔ آخر اربابِ مغرب بھی تو پرانی شراب کے قدردان ہیں۔
گماں مبر کہ بپایاں رسید کارِ مغاں
ہزار بادۂ ناخوردہ در رگِ تاک است