اپنی مرضی

اردو نثر

 

فقیہ الزماں، محدثِ دوراں، عالمِ بےبدل، پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، ولئِ کامل، غازئِ اسلام، مجاہدِ دین و ملت، محافظِ ختمِ نبوت، حضرت علامہ ابو فلاں فلاں ابن فلاں قادری، چشتی، سہروردی، نقشبندی، سلفی، علوی، ثقفی، غروی، صوفی، صافی، مقامی، بین الاقوامی دامت برکاتہٗ مدظلہ العالی کے نام!

آپ کا خیال ہے کہ دین کی من چاہی تعبیر شیطانی فعل ہے اور اس کے مرتکب امت کے لیے ایک فتنے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم آپ سے سو فیصد اتفاق کرتے ہیں اور آپ کو اسی شیطانی فعل کا سب سے بڑا مجرم ٹھہراتے ہیں۔ آپ ہم پر اللہ کے احکامات کو مرضی سے موڑ توڑ کر پیش کرنے کی تہمت رکھتے ہیں مگر تاریخ شاہد ہے کہ آپ نے دین کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف ہر ظالم کا بھرپور ساتھ دیا بلکہ خود بھی انسانیت سوز مظالم اور ہمہ قسم قبائح و شنائع کا ارتکاب کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں چھوڑی۔ آپ ہمیں بدعات اور اختراعات کا مجرم ٹھہراتے ہیں مگر آپ کی مفاد پرستانہ شریعت کا ایک فیصد بھی کلامِ الٰہی سے ثابت کرنا آپ کے لیے عین ناممکن ہے۔ آپ سرکشی، حبِ جاہ، تکبر، من مانی، خدا فروشی اور ابلہ فریبی کی بدترین مثال ہیں۔ دوسروں پر دین کو بگاڑنے کا بہتان آپ درحقیقت اس گھٹیا منطق کے تحت عائد کرتے رہتے ہیں جس کا استعمال کر کے چور راہ گیروں پر چوری کا الزام لگا دیا کرتے ہیں تاکہ جب راہ گیر کہیں کہ چور تو اصل میں یہ تھے تو لوگ اسے انتقامی کارروائی خیال کریں۔

آپ فرماتے ہیں کہ حق میں اپنی مرضی نہیں ہوتی۔ ہم بھی یہی سمجھتے ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ کہاں سے نکل آیا کہ آپ حق ہیں؟ آپ کی مرضی خدا کی مرضی ہے؟ آپ جو فرماتے ہیں وہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کے فرامین ہیں؟ کیا آپ ہم سے بہتر اور برتر انسان ہیں؟ کیا آپ جنت دوزخ کے فیصلوں پر مطلع اور آگاہ ہیں؟ کیا آپ کو ہماری ہی طرح مرنا نہیں؟ کیا آپ کی جان، عزت، رزق اور بخشش ہماری ہی طرح خدا کے ہاتھ میں نہیں؟ کیا آپ دنیا میں ہماری ہی طرح محض ایک امتحان دینے اور بندگی کے تقاضے پورے کرنے نہیں آئے؟ کیا آپ سے خدا کلام کرتا ہے؟ کیا آپ کے خیالات پر جبریلِ امین مہر ہائے تصدیق ثبت کر جاتے ہیں؟ کیا شیطان مردود آپ کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا؟ کیا آپ کی اپنی بخشش کا فیصلہ ہو چکا ہے؟ کیا آپ کو آپ کے جنت کے محلات دکھا دیے گئے ہیں؟ کیا آپ کو ہماری زندگی، موت، عزت، ذلت، ایمان، کفر، بخشش، سزا پر الہام کے ذریعے مختار بنایا گیا ہے؟ کیا آپ نبی ہیں؟ کیا آپ سے اختلاف ناممکن ہے؟ کیا آپ خدا کا نام لے کر جو مرضی بکتے جائیں وہ سچ مچ خدا کا کلام ہو جاتا ہے؟ کیا آپ کو خدا نے ہمارے لیے مبشر اور منذر بنا کر بھیجا ہے؟ کیا آپ کو خود خوش خبری مل گئی ہے؟ کیا آپ کا خدا اور روزِ حساب سے ڈر ختم ہو گیا ہے؟

مسئلہ یہ ہے کہ آپ انتہائی ناقص العقل لوگ ہیں۔ اور اس کے مجرم بھی نہیں ٹھہرائے جا سکتے۔ اس جرم کا حقیقی ذمہ دار معاشرہ ہے۔ ہم ہیں جو آپ پر اعتراض کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم جیسے پڑھے لکھوں نے ہمیشہ اپنے کندذہن اور غبی بچوں کو مدرسوں میں داخل کروایا اور ذہین اور ذکی لڑکے لڑکیوں کو دوسری تعلیم دلوائی۔ جو کوئی کام نہیں کر سکتا وہ یا بھیک مانگتا ہے یا کسی مسجد کی امامت یا کسی مزار کی مجاوری پر لگا دیا جاتا ہے۔ ہم آپ سے نفرت کرتے ہیں۔ آپ جیسے لوگوں کو کسی لائق نہیں سمجھتے۔ جیسے اللہ کے نام پر مانگنے والے کو باسی روٹیاں اور کھوٹے سکے اٹھا کر دے دیے جاتے ہیں ویسے ہی ہم نے اپنے گھروں کا کچرا اللہ کی مسجدوں میں نکال پھینکا ہے۔ ہماری پچھلی نسلوں نے خود خدا کا خوف نہیں کھایا۔ اس کی سزائیں یقیناً وہ پا گئے ہوں گے اور یومِ حشر بھی پائیں گے مگر موجودہ نسلوں کو ان گناہوں کا خمیازہ آپ جیسے لوگوں کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ آپ دنیا کے لائق نہ تھے۔ ہماری بدکرداریوں نے نے دین کی ٹھیکے داری آپ کو دے دی۔ آپ بندوں میں شمار کیے جانے کے قابل نہ تھے۔ ہماری شومئِ قسمت نے آپ کو خدا بنا ڈالا۔ گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کو بھاگتا ہے۔ تہذیب کے نصیب پھوٹتے ہیں تو آپ جیسے جاہل آپ جیسا اختیار اور اقتدار حاصل کر لیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کمھار کو لعل ملا تھا تو اس نے اپنے گدھے کے گلے میں باندھ دیا تھا۔ آپ اپنے اختیار اور اقتدار کا کر بھی کیا سکتے ہیں سوائے حرام، کفر اور قتل کے فتوے دینے کے؟

آپ ذرا یہ تو بتائیں کہ خدا پر آپ کا دعویٰ کیسے ہے؟ کبھی کلام کیا اس نے آپ سے؟ کوئی وعدہ دیا اس نے آپ کو؟ کوئی فرشتہ بھیجا؟ کوئی نوید، کوئی وعید سنائی؟ کوئی حجت اتاری آپ پر؟ کیا آپ محض ہماری طرح کے انسان نہیں ہیں؟ بلکہ ہم سے بھی گئے گزرے؟ کیا آپ نے ہر عہد میں اچھے انسانوں کو اذیتیں نہیں دیں؟ کیا آپ نے ہر زمانے میں حق کی آواز نہیں کچلی؟ کیا آپ ہی جیسے مذہبی علما نے ہر دور میں انبیا، صالحین، صوفیا، اولیا، فلاسفہ اور اہلِ علم کو قتل نہیں کیا؟ کیا آپ نے پھر ہمیشہ انھی مظلوموں کی قبریں بنا کر ان پر مجاوری کر کے خلق کو نہیں لوٹا؟ کیا آپ نے اپنے ہی ستم رسیدوں کے بعد میں ماتم کر کے ان کی کتابوں کی شرحیں نہیں لکھیں؟ کسی ایک عظیم شخص کا نام بتا سکتے ہیں آپ جس پر آپ جیسے سگانِ دنیا نے مسجدوں، مندروں، کلیساؤں اور صومعوں میں اونچی اونچی مسندوں پر بیٹھ کر بدعت، ارتداد، الحاد، کفر اور جہنم کے فتوے نہ عائد کیے ہوں؟ کوئی ایک شخص؟ صرف ایک شخص؟

شکل دیکھی ہے آپ نے اپنی؟ ایسی ہی ڈاڑھی ابوجہل کی تھی۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ وہ بھی بڑا عالم تھا!

ہم سے بڑی غلطی ہوئی کہ آپ جیسوں کو دین کا ذمہ دار بنایا۔ آپ تو حلال و حرام کے فیصلے کرنے لگے۔ ذرا بھی شرم نہیں آتی آپ کو جب لوگ آپ کے پاس آ کر پوچھتے ہیں کہ مولانا، فلاں چیز حرام ہے یا حلال؟ حرام و حلال کے فیصلے آپ کرنے والے ہیں؟ آپ خالق ہیں؟ آپ مخلوقات کا نظام چلا رہے ہیں؟ آپ کو سزا اور جزا دینی ہے؟ غضب خدا کا۔ حرام اور حلال کا فیصلہ تو ہر مذہب میں متفق علیہ طور پر خدا کا حق ہے۔ قرآن پڑھا کبھی آپ نے جس کی کمائی کھاتے ہیں آپ؟ دکھائیے ذرا کہاں اختیار ہے آپ کو یا دنیا کے کسی بھی بشر کو کہ وہ حرام اور حلال کا فیصلہ اپنی ذاتی بصیرت اور علم کی مدد سے فرمائے؟ خدا نے تو صاف صاف لکھ دیا ہے کہ حلال اور حرام کے فیصلے کے تم حقیر اور بےبضاعت انسان مختار نہیں۔ حرام وہی ہے جو اللہ نے ٹھہرا دیا۔ حلال وہی ہے جو اللہ نے ٹھہرا دیا۔ اللہ پر بہتان مت باندھو۔ اس کے حرام کو حلال مت کرو۔ اس کے حلال کو حرام مت ٹھہراؤ۔ یہ ظلمِ عظیم ہے۔ یاد دلائیں ہم آپ کو کہ اس نے کتنی صراحت سے کہا ہے کہ حرام سب قرآن میں بتا دیے گئے۔ بس۔ بات ختم۔

غیرت نہیں آپ لوگوں کو؟ خدا تو خیر نظر نہیں آتا۔ پڑھے لکھے انسانوں بھی ڈر نہیں لگتا کہ کسی دن قرآن کھول کر آپ سے کہیں گے کہ اللہ تو یہ کہتا ہے اور تم اسی کے نام پر یہ دھندا چمکائے بیٹھے ہو؟

آپ عقل کا استعمال کرنے والوں اور خود سے اختلاف کرنے والوں کو جہنم اور کفر کی وعیدیں سنایا کرتے ہیں اور اپنے پالتو لوگ ان پر چھوڑ دیتے ہیں کہ چاہیں تو مار مار کر ادھ موا کر دیں اور چاہیں تو جان لے کر ٹلیں۔ ذرا منہ سے پھوٹیے تو سہی کہ آپ ہیں کون کفر کا فیصلہ کرنے والے؟ آپ ہیں کیا چیز جن کے قبضۂِ قدرت میں جنت اور جہنم دونوں دے دی گئی ہیں؟ کیا آپ خود آگے جا کر ہماری طرح حساب نہیں دینے والے؟ کیا رتی بھر بھی یقین ہے آپ کو کہ آپ خود بخشے جائیں گے؟ کیا ذرہ برابر بھی حجت ہے آپ کے پاس کہ آپ خود کافر اور مرتد نہیں ہیں؟ وحی آئی ہے آپ کو؟

قرآن کی ایک آیت سے ثبوت لائیے کہ دنیا کے کسی گھٹیا سے گھٹیا انسان سے بھی آپ کی رائے زیادہ وقعت رکھتی ہے۔ ایک دلیل دکھائیے خدا کے کلام سے جس کی بنیاد پر ہم آپ کے فیصلے مان سکیں۔ ارے بابا! آپ بھول گئے ہوں گے مگر ہم نہیں بھولے۔ اچھے بروں سمیت تمام بنی نوعِ آدم کا حساب ابھی ہونا ہے۔ خدا نے ایک بھی الہامی کتاب میں کسی بشر کو خواہ وہ کوئی بھی ہو خود سے ایمان، کفر، حق، باطل، خیر، شر، حلال، حرام، جنت، جہنم کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا۔ اسی لیے تو پوچھ رہے ہیں آپ سے۔ آپ ہیں کون؟ خدا ہیں تو بتائیے۔ نبی ہیں تو فرمائیے۔ ہم جیسے ہیں تو ہمارے سر پر کیوں چڑھے آتے ہیں؟ ہم سے بھی گئے گزرے ہیں تو منہ لپیٹ کر کہیں دبک کیوں نہیں جاتے؟

آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ کے پاس دین کا علم ہے۔ برا ہو اس علم کا جس کے ہوتے ہوئے اسلامیانِ عالم جا بجا رسوا ہو رہے ہیں۔ کتے سنگھانے سے لے کر وحشت اور بربریت کے مبنی برحقیقت الزامات تک اسلام کے ماننے والوں کو سہنے پڑ رہے ہیں۔ اور آپ نے بھولے لوگوں کو یہ افیون دے رکھی ہے کہ یہ سب سازشیں ہیں اسلام کے خلاف۔ حق کے خلاف کوئی سازش کامیاب ہو سکتی ہے؟  قرآن تو کہتا ہے کہ حق آتا ہے تو باطل فرار ہو جاتا ہے۔ آپ کا حق باطل سے مغلوب ہو جاتا ہے؟ حق یہ ہوتا ہے؟ خدا غرق کرے آپ کو۔ حق کا نام تک لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے آپ کو۔ آپ تو پرلے درجے کے ظالم لوگ ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ آپ کے فقہا کے زمانوں سے لے کر آپ کی ذات ہائے بابرکات تک اسلام مسلسل زوال پزیر ہے۔ آپ کا وہ علم جس میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے، ہر دن خطبے دیے جا رہے ہیں، ہر گھڑی کتابیں لکھی جا رہی ہیں، آپ کا وہ ہر لحظہ بڑھتا ہوا ردی علم اسلام کے زوال کو پل بھر کے لیے بھی نہیں روک سکا۔ آپ نے اسلام اور اہلِ اسلام کے زوال میں الٹا سب سے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ ماضی میں ہر جابر حکمران کو کسی فقیہِ دوراں، کسی محدثِ زمانہ کی تائید حاصل رہی ہے اور ہمارے عہد میں ہر جاہلانہ، غیرانسانی اور مکروہ دھندے کے پیچھے کوئی نہ کوئی ڈڑھیل عالمِ دین موجود ہے۔ یہ ہے آپ کا علم؟ یہ ہے آپ کی فقہ؟ جھوٹ کے دفتر؟ جہالت اور شیطنت کے طومار؟ ذرا قرآن کے سوا اسلامی تاریخ کی ایک کتاب کا سنِ تصنیف بتائیے اور یہ بتائیے کہ اس کے بعد مسلمانوں کے فضل اور وقار میں کتنا اضافہ ہوا۔ آپ تو جو کچھ لکھتے رہے وہ خدا کے قہر میں اضافہ کرتا رہا۔ آپ تو جو علم حاصل کرتے رہے اس نے آپ کو اور آپ کے بڑوں کو انسانیت سے وحشت کی طرف دھکیلنے کے سوا کچھ نہ کیا۔ آپ تو جتنی کتابیں لکھتے گئے مسلمان اتنا پستیوں میں گرتے چلے گئے۔ جھٹلا سکتے ہیں آپ تمام قل اعوذیے اس بات کو مل کر کہ مسلمانوں کا زریں دور آپ کے علما، فقہا اور محدثین کی تمام وقیع تصنیفات سے پیشتر گزر چکا تھا؟ ذرا دکھائیے تو سہی ہمیں کہ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں نے بھی کبھی ان مصادر سے فیض اٹھایا ہو جنھوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھ ہمیں بھی غارت کر ڈالا۔

آپ قرآن کو منہ سے الہامی کتاب مانتے ہیں مگر عملی طور پر اس کے سب سے بڑے منکر ہیں۔ آپ اپنے جمعے کے خطبوں سے لے کر فتووں اور کتابوں تک سو میں سے ایک جگہ بھی قرآن کا حوالہ نہیں دیتے۔ آپ سب باتیں اپنی طرف سے گھڑتے ہیں یا اپنے سے پہلے گزر چکے ابن الوقت علما کی کتابوں میں سے اٹھاتے ہیں۔ خدا کی قسم آپ قرآن کو نہ مکمل سمجھتے ہیں نہ قابلِ عمل۔ آپ خود کہتے ہیں کہ اس میں احکامات پورے نہیں اور اس کی تشریح و تعبیر فلاں فلاں مصادر سے کرنی چاہیے۔ خدا برباد کرے آپ کو۔ وہ ہر چوتھے صفحے پر کہتا ہے کہ ہم نے ہر بات پھیر پھیر کر بیان کر دی ہے۔ ہم نے ہر چیز سمجھا دی ہے۔ ہم نے حق کو بین اور روشن کر دیا ہے۔ ہم نے دین کو مکمل کر دیا ہے۔ آپ الہام کے مقابلے پر سنی سنائی اور گھڑی گھڑائی لے آتے ہیں۔

عجیب منطقیں ہیں آپ لوگوں کی۔ آپ کہتے ہیں کہ مثلاً نماز کا طریقہ قرآن میں نہیں اس لیے لازم ہے کہ فلاں محدث، فلاں فقیہ، فلاں عالم کی کتاب سے رجوع کرو۔ وہ جو کچھ بھی اللہ اور اس کے رسولؐ سے منسوب کر کے کہہ دیں وہ آنکھیں بند کر کے مان لو۔ کیوں بھئی؟ اللہ نے نماز کا طریقہ بیان نہیں کیا تو کس بشر کی مجال ہے کہ وہ اسے طے کرے؟ کون ہے جو خود دین قائم کرنے کا اختیار رکھتا ہو؟ اللہ نے تو عیسائیوں کی پرستش کو بھی خود قرآن میں نماز کہا ہے۔ اللہ نے تو یہودیوں کی عبادت گاہوں کو بھی مساجد قرار دیا ہے۔ تو کیا وہ آپ کے خدا فروش علما کے مرید ہیں؟ ہم عیسائیوں ہی کی طرح نماز کیوں نہ پڑھ لیں جب قرآن میں ہمارا خدا انھیں نمازی اور پرہیزگار کہتا ہے؟ ہم یہودیوں کی عبادت گاہ میں جا کر کیوں نہ دعا کریں جب ہمارا مالک و خالق اسے مسجد کہہ کر پکارتا ہے؟ شرم نہیں آتی آپ کو لوگوں سے خدا کے نام پر اپنے تکیوں پر سجدے کرواتے ہوئے؟ ڈوب کے مرتے نہیں آپ؟

قرآن کم و بیش ہر صفحے پر تکرار کرتا ہے کہ عقل سے کام کیوں نہیں لیتے۔ تدبر کیوں نہیں کرتے؟ غور کیوں نہیں کرتے؟ آپ کی سرکار سے حکم ہوتا ہے کہ دین میں عشق ہے، عقل نہیں۔ ایسی کی تیسی آپ کی۔ ایک بار بھی باری تعالیٰ نے یہ مکروہ لفظ قرآن میں روا رکھا ہے؟ کتنا گھٹیا بہتان باندھا آپ نے خدا پر؟ اس نے قرآن میں بنی نوعِ انسان کو بار بار عقل کا استعمال کرنے کی ترغیب دی اور آپ نے دیکھتے بھالتے، جانتے بوجھتے لوگوں کو دوسری راہ پر ڈال دیا؟ آپ سے بڑا شیطان کوئی ہے؟ کیا آپ اسی لیے کہتے ہیں کہ قرآن کو خود مت پڑھو؟ گمراہ ہو جاؤ گے؟ ستر علوم چاہئیں قرآن کو سمجھنے کے لیے؟ اس قرآن کو جو خود کہتا ہے کہ اسے سمجھنے کے لیے باری تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحم سے آسان کر دیا ہے؟ خدا برباد کرے آپ کو اور آپ کے ان ستر بہتر علوم کو جنھوں نے ہمیں اس قرآن سے دور کر دیا جو نبیِؐ پاک اور ان کی امت کے عروج کا ضامن تھا۔ خدا غارت کرے اس مسند کو جس نے انسان کی عقل کی توہین کی اور عشق جیسے مکروہ، مریضانہ اور اندھے جذبے کو امت کا رہبر بنا دیا۔ خدا نجات دے ہمیں اس عذاب سے کہ ہم قرآن کے گھروں میں ہوتے ہوئے اس کو پڑھنے اور سمجھنے سے معذور کر دیے گئے۔

آپ کو ایک اور غلط فہمی بھی بڑی مہلک لاحق ہے۔ آپ اپنے جیسے کوڑھ مغزوں اور جنونیوں کے متفقہ فیصلوں کو اجماع کا نام دیتے ہیں اور اسے فقہ کا ایک اہم ستون ٹھہراتے ہیں۔ اللہ پوچھے آپ سے۔ اس نے تو قرآن میں ہر جگہ انسانوں کی اکثریت کو ظالم اور گمراہ قرار دیا ہے۔ اور صرف قرآن ہی نہیں۔ ہر الہامی صحیفہ قرار دیتا ہے کہ زیادہ تر لوگ تو کبھی ٹھیک ہو ہی نہیں سکتے۔ آپ نے اس کے بھی خلاف روایات گھڑ کے اللہ اور اللہ کے رسولؐ سے منسوب کر دیں۔ صرف اس لیے کہ جہاں آپ جیسے مفاد پرست، دین فروش اور رذیل لوگ اکٹھے ہو کر انسانیت کا استحصال کرنا چاہیں تو لوگ سمجھیں کہ یہ خدا اور خدا کے پیغمبر علیہ الصلواۃ و السلام کا حکم ہے۔ لعنت خدا کی جھوٹوں پر۔ اگر ایسا تھا تو اللہ میاں نے اس قرآن میں کیوں نہ لکھ دیا جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اس میں ہر بات تفصیل سے بیان کر دی گئی ہے؟ انھوں نے تو منع کیا تھا اس کام سے جس کی آپ ترغیب دیتے ہیں۔ کوئی فرق رہ گیا آپ میں اور شیطانِ رجیم میں؟

آپ نے پورا نظام ہی قرآن کے الٹ قائم کر رکھا ہے۔ عذاب قبر، آثارِ قیامت، پچھلی شریعتوں اور کتابوں کی تنسیخ، نماز کی اساسی اہمیت، معصوم عن الخطا انسان، امت کی پیدائشی فضیلت، اسلامی حکومت، عشق کی معراج اور خدا جانے کیا کیا۔ پھر الٹا کہتے ہیں کہ قرآن میں سب کچھ نہیں لہٰذا اس تمام الا بلا کے لیے ہماری غیرالہامی مگر مقدس کتابوں سے رجوع لاؤ۔ عجیب الٹے دماغ ہیں آپ کے۔ صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ آپ کے نظام میں نہ قرآن مکمل ہے نہ حجت ہے؟ بتاتے کیوں نہیں کہ آپ کے نزدیک قرآن کا ہر فیصلہ آپ کی اور آپ کے بڑوں کی اپنی گھڑی اور لکھی ہوئی روایات سے معطل ہو سکتا ہے؟ منسوخ ہو سکتا ہے؟ رد ہو سکتا ہے؟ الٹ ہو سکتا ہے؟ یا آپ پر الگ سے یہ شریعت نازل ہوئی ہے تو اعلان کیوں نہیں کرتے نبوت کا؟ آپ کے پچھلوں پر ہوئی تھی تو انھوں نے کیوں نہیں کیا؟ کیوں نہ صحاحِ ستہ اور آپ کے بزرگوں کی سب کتابوں کو الہامی قرار دے دیا جائے؟ قرآن پر ہمیشہ فائق تو آپ نے انھیں رکھا ہی ہے؟ مان کیوں نہیں جاتے اب؟ پہلے کیا بگاڑ لیا ہے کسی نے آپ کا جو اس نیکی سے ڈرتے ہیں؟ یا آپ اس لیے یہ سب کرنے کے مختار ہیں کہ آپ خود خدا ہیں؟ بتائیے تو سہی۔ شاید ہم ایمان ہی لے آئیں۔ ہمیں تو چاہ ہی رہی کہ دنیا میں کبھی اپنے پیدا کرنے والے کی طرف سے جلوہ نہ سہی کوئی حجت ہی نصیب ہو جاتی۔ مگر اس نے ناامید کر دیا کہ بشر سے اس کا کلام ممکن ہی نہیں۔ مگر آپ تو باتیں بھی کرتے ہیں، فصاحت و بلاغت کے دریا بھی بہاتے ہیں، حلال و حرام بھی بتاتے ہیں، جہنم اور جنت بھی بانٹتے ہیں، شریعت بھی لاگو کرتے ہیں، وعدۂِ الست سے لے کر حسابِ محشر تک آفرینش کے تمام حوادث و سوانح پر مطلع بھی ہیں، جان مال آبرو کے مختار بھی ہیں۔ آپ سچ مچ اللہ میاں ہیں؟ کہیے نا؟

آپ قرآن کو اس کی اپنی ترغیب کے مطابق عقل اور خوفِ الٰہی کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کرنے والوں کو مردود ٹھہراتے ہیں، ان پر عرصۂِ حیات تنگ کرتے ہیں، خدا اور اس کے ابدی احکام کے خلاف شیاطین، اپنے باپ دادا اور اپنے نفسوں کی پیروی کرتے ہیں اور خدا کے ہر حکم کے مقابل ایک حکم گھڑ کر اسے خدا سے منسوب کرتے ہیں اور اس کے جھوٹے اور واہیات ثابت ہونے پر اسلام کی جگ ہنسائی اور رسوائی کا سبب بنتے ہیں۔ آپ فطرت کی ہر روش، زمانے کی ہر کروٹ، دنیا کے ہر رنگ اور انسانوں کی ہر خوشی کے دشمن ہیں اور اپنے اقتدار، عیش اور انا کی خاطر اپنے ہر جھوٹ، ہر بکواس، ہر زٹل، ہر جہالت، ہر حماقت، ہر چالبازی اور ہر کمینگی کو اللہ اور اس کے پاک رسولؐ سے منسوب کر کے لوگوں کو الو بناتے ہیں۔ آپ دنیا کا گھٹیا سے گھٹیا اور رذیل سے رذیل فعل بھی سرانجان دیتے ہوئے کسی اپنی ہی یا اپنے جیسوں کی تراشی ہوئی روایت کا سہارا لینے  اور اسے خدا کے حکم کے موافق قرار دینے سے چنداں شرمندہ نہیں ہوتے۔ آپ ایک بگڑی ہوئی، رسوائے زمانہ، مغضوبِ الہٰی امت کے بےغیرت اور بدکردار ترین سردار ہیں۔ اگر آپ کو ان تمام باتوں کے خلاف ایک بھی دلیل کلامِ پاک سے مل جائے یا آپ یہ ثابت کر سکیں کہ آپ کو باری تعالیٰ نے ہم سے بہتر بنایا ہے، ہمیں آپ کی بات ماننی چاہیے اور آپ واقعی کوئی انسان کے بچے ہیں تو ضرور بتائیے گا۔ خدا کی قسم، قرآنِ مجید کی ایک آیت، اپنے مالک کے ایک حکم، ایک اشارے پر آپ تو کیا کتے بلیوں کو بھی سجدہ کیا کریں گے ہم۔ اللہ میاں حکم تو دیں!

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ