خدا اور بھاری پتھر

اردو نثر

میں نے ایک گزشتہ مضمون میں اس طرف اشارہ کیا تھا کہ حقیقت کی جستجو میں جوابات ہی سے نہیں بلکہ خود سوالات سے بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ مذہبی معاملات میں جس رویے کو ادب سے تعبیر کیا جاتا ہے اس کی بنیاد میں شاید یہی ادراک کارفرما ہے کہ جوابات کی طرح کچھ سوالات بھی بالکل غلط ہو سکتے ہیں۔ رومیؒ فرماتے ہیں:

بےادب تنہا نہ خود را داشت بد
بلکہ آتش در ہمہ آفاق زد

یعنی بےادب نے محض اپنی جان ہی کو نقصان نہ پہنچایا بلکہ گویا تمام عالم میں آگ لگا دی۔ ظاہر ہے کہ یہ بےادبی کوئی ذاتی اور محدود چیز نہیں ہو سکتی بلکہ کسی ایسے عمومی رویے یا دعویٰ پر مشتمل ہونی چاہیے جو نہ صرف غلط بلکہ گمراہ کن بھی ہو۔ گو جاہ پرست اور دین فروش اکابرینِ مذہب اس کو بھی اپنے نفس کی تسکین کے لیے استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کرتے رہے ہیں تاہم ادب اپنی حقیقت میں غالباً محض اس خبرداری، احتیاط اور عجز کا نام ہے کہ بشر ہونے کے ناتے خود آپ کا سوال بھی کسی اور کے جواب کی طرح غلط ہو سکتا ہے۔

اب ذرا مدعا کی طرف آ جائیے۔ پرانے وقتوں سے ایک بحث دہریوں اور ایمان والوں کے درمیان چلی آتی ہے جو ذاتِ باری تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ سے متعلق ہے۔ اغلب ہے کہ یہ سوال آپ کی نظروں سے بھی کبھی نہ کبھی گزرا ہو گا۔ اگر نہیں تو اب ملاحظہ فرما لیجیے۔ دہریے اور متشککین عموماً اسے اس صورت میں پیش کرتے ہیں کہ کیا خدا ایک ایسا بھاری پتھر تخلیق کر سکتا ہے جسے وہ خود بھی نہ اٹھا سکے۔

پیچیدگی یہ ہے کہ یہ سوال خطرناک حد تک سادہ بھی ہے اور فتنہ انگیز بھی۔ یعنی غور کیجیے۔ اگر خدا قادرِ مطلق ہے تو یقیناً اس میں اتنی قوت ہونی چاہیے کہ وہ ایسا بڑا پتھر تخلیق فرما دے جسے وہ خود بھی نہ اٹھا سکتا ہو۔ لیکن پھر اگر خدا اپنا بنایا ہوا پتھر ہی نہ اٹھا سکے تو اس کی خدائی طاقت کے اس سے زیادہ منافی کچھ نہیں ہو سکتا۔ اور اگر وہ ایسا پتھر بنا ہی نہیں سکتا تو یہ بھی ایک طرح سے اس کی قدرت کا نقص ہے۔ یعنی خدا میں ہر کام کرنے کی طاقت تو نہ ہوئی نہ پھر۔ آگے کنواں پیچھے کھائی!

یہاں ایک لمحہ ٹھہر کر یہ سمجھ لیجیے کہ اگر آپ یہ سوال کرتے ہیں تو یہ ہرگز ہرگز کوئی بےادبی نہیں ہے۔ ملا کی ذاتِ پاک کو اس سے کوئی ٹھیس پہنچے تو پہنچے، خدا کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور ملا کی انانیت کا لحاظ کرنے کی آپ کو کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ہاں، بےادبی یہ تب ہے کہ آپ اس سوال کی نسبت بالکل پریقین ہو جائیں کہ یہ ٹھیک ہے، اس کی بنیاد پرخود خدا بن کر فیصلے جاری کرنا شروع کریں اور تمام عالم میں وہ آگ لگا دیں جو ابھی تک محض آپ کے اندر لگی ہوئی ہے۔ کیونکہ اس سوال میں ایک بنیادی نقص موجود ہے۔

جی ہاں، اس سوال کے اندر ایک سوال موجود ہے جس کا فیصلہ کیے بغیر آپ اس کا جواب معلوم کرنا چاہ رہے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ مثلاً کچھ چیزوں کی خریداری پر آنے والے اخراجات کا حساب کر رہے ہوں اور ان میں سے ایک چیز کی قیمت آپ کو سرے سے معلوم ہی نہ ہو۔ فرض کیجیے کہ وہ چیز بھی ایسی ہو جس کی قیمت کا آپ تصور بھی نہ کر سکتے ہوں۔ اب آپ جتنا زور مار لیں یہ امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ آپ کل اخراجات کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کر سکیں گے۔ ہے نا؟

یہی معاملہ اس سوال کے ساتھ ہے۔ کرنے والے نے اس میں ایک جھول ایسا چھوڑا ہے کہ جب تک اس سے نہ نمٹا جائے حل نکالنے کی کوشش ہی بےسود ہے۔ اور جب اس سے دو دو ہاتھ کر لیے جائیں تو سوال کا پھن بھی خودبخود گر جاتا ہے۔ مغالطہ اسی کو کہتے ہیں۔ اور میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ مغالطے (Fallacy) اور قولِ محال (Paradox) کا فرق مذہب فلسفے سے بہتر جانتا ہے۔

تو جھول یہ ہے کہ سوال کرنے والے نے قدرتِ کاملہ کو فرض تو کر لیا مگر یہ بات معلق رہنے دی کہ قدرتِ کاملہ کسے کہتے ہیں۔ اس سے بڑی گڑبڑ پیدا ہوئی۔ تاثر یہ قائم ہوا کہ قدرتِ کاملہ شاید اتنا بڑا پتھر بنا لینے کا نام ہے جو قادرِ مطلق خود بھی نہ اٹھا سکے۔ بلکہ نہیں۔ شاید اتنا بڑا پتھر نہ بنا سکنے کا نام ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان دونوں ممکنہ جوابات کو خود اس سوال نے قائم کیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ دونوں کو عقل تسلیم نہیں کرتی۔ گویا یہ سوال درحقیقت کوئی سوال نہیں ہے بلکہ ایک اسی قسم کی پھلجڑی ہے جیسے میں، گستاخی معاف، آپ سے پوچھوں کہ آپ بندر ہیں یا گدھے۔ ظاہر ہے کہ آپ دونوں نہیں ہیں لیکن اگر آپ کو انھی دونوں جوابات میں سے کوئی منتخب کرنے پر مجبور کر دیا جائے تو؟

یہی کھیل اس سوال میں کھیلا گیا ہے۔ بڑی چابکدستی اور ہوشیاری سے سوال کرنے والا آپ کو قدرتِ کاملہ کی نوعیت آزادانہ طور پر سمجھنے کی اجازت دینے کی بجائے خود دو راہیں دکھا کر ان میں سے کوئی ایک اختیار کرنے کا پابند کر دیتا ہے۔ بھاری پتھر بنانا یا نہ بنانا؟ بندر یا گدھا؟ اب آپ ان میں سے جو بھی راہ چلیں گے خفت ہی اٹھائیں گے نا۔

رہ گیا یہ سوال کہ قدرتِ کاملہ کیا ہے تو اس کا جواب ہر عاقل شخص کے فہم کی بنیاد میں موجود ہے۔ قدرتِ کاملہ کا جوہر یہی ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہو۔ یعنی ہم انسان جس چیز کا تصور بھی نہ کر سکیں وہ وہ بھی کر سکے۔ اجتماعِ ضدین یعنی دو متضاد چیزوں کا ایک جگہ جمع ہو جانا تو بہت چھوٹی چیز ہے۔ اگر آپ خود منطق کا سہارا لے کر بھی قدرتِ کاملہ کی تعریف کریں تو وہ یہ تسلیم کرتی ہے کہ اسے منطق کا پابند ہونے کی ضرورت نہیں۔ اور زیرِ بحث نقیضین یعنی اتنا بڑا پتھر بنا سکنا یا نہ بنا سکنا محض منطقی لحاظ سے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ قادرِ مطلق تو خود منطقی اعتبار سے بھی ہونا ہی وہی چاہیے جس کے لیے ان دونوں کو اکٹھا کرنا چنداں دشوار نہ ہو۔ ورنہ قادرِ مطلق کہاں کا؟ کیا خیال ہے؟

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ