تصورِ خدا سے متعلق ایک زبردست مغالطہ

اردو نثر

منطق میں ایک شے ہے۔ قولِ محال(paradox)۔ یہ مجھے اس اعتبار سے نہایت پسند ہے کہ اس میں انسانی عقل کی حدود متعین کرنے کا کافی سامان موجود ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ جملہ دیکھیے:

یہ عبارت جھوٹ ہے۔

آپ تجزیہ کریں تو معلوم ہو گا کہ اس عبارت کے جھوٹے یا سچے ہونے کا فیصلہ کرنا محال ہے۔ اگر اعتبار کیا جائے کہ یہ جھوٹ ہے تو گویا عبارت میں سچ کہا گیا ہے کہ جھوٹ ہے۔ مگر پھر یہ جھوٹ کیسے ہے؟ اور اگر اسے سچ مان لیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ یہ جھوٹ ہے۔ جھوٹ سچ کیسے ہو سکتا ہے؟

یہ محض ایک مثال ہے۔ ہر قولِ محال کی طرح اس کا حل تجویز کرنے کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اقوالِ محال کا ہر حل کسی نہ کسی خاص نظریے کی بنیاد پر پیش کیا جاتا ہے جسے تسلیم کرنا حل تک پہنچنے سے پہلے ضروری ہوتا ہے۔ نظریے اور حقیقت کا فرق ہم جانتے ہیں۔ مندرجۂ بالا عبارت اور اس کا قولِ محال ایک حقیقت ہے۔ جبکہ اس کا ہر حل کسی نہ کسی نظریے کی بنیاد پر استوار ہے جس کی عمر نظریات کی طرح کم بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ بھی۔ اس کے ماننے والے بھی موجود ہو سکتے ہیں اور نہ ماننے والے بھی۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم یونانی فلاسفہ کی جانب سے پیش کیے گئے اقوالِ محال تو آج بھی بہت لوگوں کی زبان پر مل جائیں گے مگر صدیوں سے ان کے جو حل پیش کیے جاتے رہے ہیں وہ خواہ کتنے ہی بصیرت افروز کیوں نہ ہوں، خال خال ہی معلوم ہوں گے۔

معاملہ یہ ہے کہ مذکورۂ بالا عبارت سچ ہو یا جھوٹ، بہرحال ایک عبارت تو ہے۔ اب کچھ حیثیت تو اس کی ضرور ہے۔ ممکن ہے یہ سچ ہو۔ ممکن ہے جھوٹ ہو۔ ممکن ہے کچھ بھی نہ ہو۔ ممکن ہے جھوٹ سچ دونوں ہو۔ ممکن ہے اس کے سوا کچھ ہو۔ ہم فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کیا ہے مگر اس عبارت کی کچھ حقیقت ہے ضرور۔ یہاں آ کر اہلِ انصاف پر روشن ہوتا ہے کہ یہ عقل جو ستاروں پر کمندیں ڈالتی ہے اور مجردات کو گویا آنکھوں سے دیکھ لیتی ہے، ہستی کے بعض رنگوں کے حوالے سے یکسر اندھی بھی ہے۔ اقوالِ محال کی قلمرو میں اس کا عین وہی حال ہو جاتا ہے جو گھپ اندھیرے میں کچھ ڈھونڈنے والے شخص کا ہوتا ہے۔ یہ ٹامک ٹوئیاں اہلِ نظر کے لیے عبرت کا سرمہ ہیں۔

خدا کی تلاش میں نکلنے والے شخص پر عقل کی اس حیثیت کو ملحوظ رکھنا لازم ہے۔ اسے نظر انداز کرنا سرکشی اور تکبر کے مترادف ہو گا۔ جس عقل کو چند لفظوں پر مشتمل ایک سامنے کی عبارت اس کے تمام شرف و امتیاز سمیت تگنی کا ناچ نچا سکتی ہے اسے اعترافِ عجز کو اپنے نظامِ عمل میں ایک مستقل حیثیت دے دینی چاہیے۔ عقل کے شرف سے انکار نہیں مگر اس کے تکبر سے اختلاف لازم ہے۔

اب دیکھیے کہ دہریوں کا وجودِ باری تعالیٰ پر عقلی بحث کا طریقہ بڑا دلچسپ ہے۔ ان کے ہاں خواہ مخواہ بعض شرائط پائی جاتی ہیں جن پر خدا کا پورا اترنا اس کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے ضروری ہے۔ انھوں نے یہ شرائط عقل کی رو سے طے کی ہیں۔ یعنی عقل کا تقاضا ہے کہ خدا عادل ہو۔ پھر عدل کا تقاضا ہے کہ دنیا میں ظلم نہ ہو۔ یا عقل کا تقاضا ہے کہ خدا خیر فرمائے۔ پھر خیر کا تقاضا ہے کہ عالم میں شر نہ ہو۔ یا عقل کا تقاضا ہے کہ خدا وجود رکھتا ہو۔ وجود کا تقاضا ہے کہ وہ موجودات کی طرح ثابت کیا جا سکے۔ وغیرہ وغیرہ۔

اب لطیفہ یہ ہے کہ یہ سب شرائط انصاف کی نظر سے دیکھی جائیں تو عقل کے منافی بھی ہیں۔ ان کی مثال کم و بیش ایسی ہے کہ آپ سے کوئی کہے کہ مجھے فلاں شخص کی تلاش ہے۔ آپ محض اپنی عقل کے زور پر طے کر لیں کہ جس شخص کی تلاش کی جا رہی ہے اس کی صورت، حلیہ، کپڑے وغیرہ ضرور فلاں فلاں طرح کے ہونے چاہئیں۔ پھر کمر کس کے بازار میں نکل جائیں اور مارے مارے پھرا کریں۔ ایک مدت کے بعد آ کر شکوہ کریں کہ ہم سے جھوٹ بولا گیا۔ ایسا کوئی شخص کہیں نہیں پایا جاتا!

بندہ پرور، آپ کے ذہن میں جو شخص ہے وہ تو ممکن ہے کہ واقعی کہیں نہ ہو مگر پوچھنے والے کو جس کی تلاش تھی اسے تو آپ نے ڈھونڈا بھی نہیں۔

آپ دیکھیں گے کہ دہریوں میں سے اکثر عین اسی مغالطے کی راہ پر چل رہے ہیں۔ ان کے ذہن میں خدا کا ایک تصور ہے جس کی تکذیب و تغلیط میں وہ اپنی توانائیاں صرف کرتے رہتے ہیں۔ اس بات کی طرف ان کا دھیان شاذ ہی جاتا ہے کہ ممکن ہے خدا اس کے سوا کچھ ہو۔ ممکن ہے خدا عادل نہ ہو۔ ممکن ہے خدا خیر نہ ہو۔ ممکن ہے وہ موجودات کی طرح موجود نہ ہو۔ ممکن ہے وہ عادل بھی ہو اور قاہر بھی۔ ممکن ہے وہ خیر بھی ہو اور شر بھی۔ ممکن ہے وہ موجود بھی ہو اور معدوم بھی!

یہ سب جنجال اپنی عقل کی نسبت اس خوش فہمی میں مبتلا ہونے کا ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے۔ لہٰذا جب کہا جاتا ہے کہ خدا کی تلاش عقل سے ممکن نہیں تو اس سے مراد یہ نہیں کہ عقل کو یکسر ایک طرف رکھ دینا چاہیے بلکہ یہ ہے کہ اس کے وجود کی شرائط عقل کو ہرگز طے نہیں کرنی چاہئیں۔ جسے آپ نے دیکھا نہیں، جانا نہیں، پہچانا نہیں، آپ اس کی نسبت یہ تیقن کیسے پال سکتے ہیں کہ وہ لازماً فلاں فلاں خصوصیات کا حامل ہو گا۔ کسی کھوئی ہوئی شے کی تلاش میں تو آپ کو علم ہوتا ہے کہ وہ کیا ہے اور آپ نظر پڑتے ہی اسے پہچان لیتے ہیں مگر جو شے آپ کو کبھی ملی ہی نہیں اس کی کھوج آپ اس قاعدے پر کیسے کر سکتے ہیں؟

نکتہ یہ ہے کہ شناسا کو پہچاننے کے اصول طے کیے جا سکتے ہیں۔ مگر کوئی انجان کیسا ہو گا، اس کی شرائط متعین نہیں کی جا سکتیں۔ خدا کی تلاش ایک انجان کی تلاش ہے۔ اس کا کوئی بھی روپ ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی رنگ ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی خصوصیت ہو سکتی ہے۔ آپ کا کام آنکھیں کھلی رکھنا ہے، ناک بھوں چڑھانا نہیں۔

ایک دلچسپ حقیقت اور ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ دہریوں کا تصورِ خدا ان کا اپنا بھی نہیں۔ وہ مذہب سے مستعار لیا گیا ہے۔ پنڈت، پادری، ملا کے مذہب سے۔ یہ حضرات خدا کو موجود مانتے ہیں۔ اس کے عادل ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ سراسر خیر ہونے کی منادی کرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ دہریوں کے پاس جو تصورِ خدا ملتا ہے وہ اس سے چنداں مختلف نہیں۔ اسی سے وہ متعارف اور متاثر ہوتے ہیں اور اسی کو جھٹلا کر یہ خیال کرتے ہیں کہ انھوں نے خدا کو جھٹلا دیا۔ حالانکہ کیا بعید ہے کہ خدا ہو اور وہ نہ ہو جو ملا، پنڈت، پادری بیان کرتے ہیں۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ فی الحقیقت ایسا ہی ہے۔

مذہبی علما کی اکثریت دہریوں جیسے افراد ہی پر مشتمل ہے۔ ان میں وہ لوگ اقلِ قلیل ہیں جو خدا کو ویسے جانتے ہیں جیسے جاننا چاہیے۔ زیادہ تر کا دہریوں ہی کی طرح ذاتِ باری تعالیٰ سے کوئی معتبر تعلق نہیں۔ لہٰذا ان کے ہاں انھی کی عقلوں کا تراشا ہوا ایک بت ہے جس کی پوجا وہ خود بھی کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی کروانا چاہتے ہیں۔ یہ ان کا کاروبار ہے۔ وہ مذہب سے پیٹ پالتے ہیں۔ ایک گھڑا گھڑایا، چمکتا دمکتا، ہر دلعزیز تصورِ خدا ان کی مجبوری ہے۔ مگر خدا کی مجبوری نہیں کہ وہ ایسا ہی ہو!

پس چہ باید کرد؟

ہماری رائے ہے کہ جو طبیعتیں سلامتی کا جوہر رکھتی ہیں انھیں تلاشِ حق میں اس سے زیادہ آزاد ہونا چاہیے جتنا عقل انھیں کرتی ہے۔ یعنی عقل کی حدود سے آگے بھی کسی خدا کے وجود کے امکان کو مسترد نہیں کیا جانا چاہیے۔ اقوالِ محال کی اندھیر نگریوں سے سبق لینا چاہیے کہ بہت جگہوں پر بہت کچھ ایسا ہوتا ہے کہ ہو اور فہم سے ماورا ہو۔ اس ماورائے فہم کا اشارہ پانے تک تو عقل کے ساتھ چلنا ناگزیر ہے مگر آگے اس کی ہمراہی پر اصرار عقلمندی نہیں۔

اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ اگر کوئی خدا واقعی ہے تو اس نے اپنے بندوں سے کلام بھی کیا ہو۔ اور یہ دعویٰ چونکہ مذہب کرتا ہے اس لیے خدا کی تلاش میں اسے بھی احتیاط سے پرکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم اوپر کہہ چکے ہیں کہ مذہبی علما کی اکثریت دہریوں سے چنداں مختلف نہیں اس لیے ان سے رجوع لانا تو بدیہی طور پر خود کو ایک جھوٹے تصورِ خدا کے فریب میں مبتلا کرنا ہے۔ تاہم کچھ بڑے وقیع اشارے ان کتب میں پائے جاتے ہیں جن کے الہامی ہونے کا دعویٰ مذہب کرتا ہے۔ میں ادیانِ ابراہیمی سے کسی قدر واقف ہوں سو انھی کے الہامی مصادر پر بات کروں گا۔ تورات، زبور، صحف الانبیا، انجیل اور قرآن کے الہامی ہونے پر یہودیت، مسیحیت اور اسلام کے معتقدین متفق ہیں۔ انھیں خدا کا کلام قرار دیا جاتا ہے۔ حق کا تجسس رکھنے والی روحوں کو دیکھنا چاہیے کہ یہ کتب خدا کی نسبت کن خصوصیات کا بیان کرتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص علما کی تفاسیر، روایات اور حواشی سے قطعِ نظر کر کے محض ان کے متن پر غور کرے تو وہ ایک بالکل نیا تصورِ خدا پائے گا۔ نیا یوں نہیں کہ کسی نے ابھی گھڑ کے پیش کیا ہے بلکہ یوں کہ اس تصور کے انتہائی پرانے ہونے کے باوجود بہت کم لوگ اس سے واقف ہیں۔

الہامی کتب کا خدا حقیقت میں صرف عادل نہیں، جابر بھی ہے۔ اس سے صرف خیر کا صدور نہیں ہوتا بلکہ شر کا خالق بھی وہی ہے۔ وہ موجود ہے مگر یوں کہ موجودات میں اس کی مثال نہیں۔ وہ کہیں دعویٰ نہیں کرتا کہ دنیا مطلقاً عدل کا مقام ہے۔ وہ کہیں امید نہیں دلاتا کہ اس کے بندے شر سے مامون ہو جائیں گے۔ وہ کہیں نہیں کہتا کہ کوئی اسے پا جانے کی طرح پا سکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ غرض وہ ان تمام علائق سے جو ملا اور دہریے کا تصورِ خدا اس سے منسوب کرتا ہے، یکسر پاک ہے۔

اس زاویۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو الہامی کتب میں بیان کیا گیا خدا موجود ہو یا نہ ہو، کم از کم حقیقتِ حال کے تقاضورں پر ضرور پورا اترتا ہے۔ یعنی دنیا فی الواقع ویسی ہی ہے جیسی وہ فرماتا ہے کہ میں نے بنائی ہے۔ ویسے ہی دکھ ہیں۔ ویسے ہی سکھ ہیں۔ ویسی ہی زندگی ہے۔ ویسی ہی موت ہے۔ ویسی ہی بے اعتباری ہے۔ ویسی ہی ناپائداری ہے۔ اسی طرح وہ اپنی ذات کی نسبت جو کچھ کہتا ہے کہ مثلاً وہ شر کا بھی خدا ہے، جابر و قاہر بھی ہے، موجودات کی تعریف پر پورا نہیں اترتا، یہ سب باتیں بھی اس تناظر میں درست معلوم ہوتی ہیں کہ اگر سچ مچ کوئی چلانے والا دنیا کو چلا رہا ہے تو قرائن دلالت کرتے ہیں کہ اسے ایسا ہی ہونا چاہیے۔

کلامِ مقدس کا خدا اور مذہبی لوگوں کا خدا ایک نہیں، دو ہیں۔ مذہبی لوگوں نے تالمود سے لے کر بخاری و کافی تک بہت کچھ اضافہ اپنی طرف سے کر کے اسے خدا سے منسوب کر دیا ہے۔ مگر اس سے جو تصویر بنی ہے وہ ایسی بھونڈی ہے کہ عقل کی روشنی کی پہلی پہلی کرنیں ہی اس کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیتی ہیں۔ تاہم کلامِ مقدس کے خدا کی نسبت ہمارا خیال ہے کہ دہریے اس کے قائل نہ بھی ہوں تو کم از کم اس بات کا انکار نہیں کر سکتے کہ دنیا اپنی حقیقت میں ویسی ہی ہے جیسی اس نے بیان کی ہے اور ویسی ہی کوئی بے نیاز، ہمہ جہت اور بے نظیر قوت اس پر حاکم معلوم ہوتی ہے جیسی وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ہے۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ