مذہب، الحاد، سائنس اور زمانہ

اردو نثر

سمانا صاحب کو میں نے ان کی تحاریر کی روشنی میں بڑی محترم، شائستہ اور درد مند شخصیت پایا ہے۔ ان کی طبیعت میں حق جوئی کا جو مادہ پایا جاتا ہے وہ لف ہٰذا مراسلے میں ان کے سوالات ہی سے مترشح ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو میں یقیناً وہ سب کہنے کی جرأت نہ کرتا جو ذیل کی سطور میں کہنے والا ہوں۔

یہ معروضات اپنی ہیچ مدانی اور کم ایمانی کے تمام تر اعتراف کے ساتھ ہیں۔ میری خواہش ہو گی کہ جس طرح سمانا صاحب کے سوالات طالبِ علمانہ اور حق جویانہ ہیں ان معروضات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جائے۔

اول یہ کہ ہر زمانے میں انسان کو اپنی مادی ترقی اور روحانی پستی کا یقین رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب کی رائج شکلوں نے قیامت کے تصور کو انتہا کی بدکاریوں سے جوڑ کراسے گویا انسانی خطاؤں کا نتیجہ قرار دے دیا ہے۔ دوسری جانب مادی ترقی کے خیال نے ہم سے پچھلوں کو بھی اسی طرح فرعون بنا ڈالا تھا جیسا آج ہمیں بنا رکھا ہے۔ میں پہلے ایک مضمون میں عرض کر چکا ہوں کہ زمانے کی نسبت خطی ارتقا یا زوال کا یہ تصور بہت سے اخلاقی خبائث کا موجب بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابراہیمی سلسلے کی الہامی کتب اس نظریے کی چنداں تصدیق نہیں کرتیں۔ خدا کے کلام میں ہمیں جو زمانہ نظر آتا ہے وہ ابتدائے آفرینش سے قیامِ ساعت تک ایک ہی ہے۔ نتیجتاً جو انسان ان کتب کا مخاطب ہے وہ بھی ہمیشہ ایک ہی امتحان سے گزرا ہے، گزر رہا ہے اور گزرے گا۔ یہ بحث یہاں دیکھی جا سکتی ہے

اب جبکہ ہم نے یہ مان لیا کہ زمانی تغیرات محض چولے ہیں جو بدلتے رہتے ہیں اور "چولی کے پیچھے” وہی انگارہ ہے جو ہمیشہ رہا ہے تو ہمارے عہد کے بہت سے مقبول سوالات کا حمل گر جاتا ہے۔ سائنس اسی قسم کا ایک چولا ہے جو پیر زالِ عالم نے ان دنوں زیب تن کر رکھا ہے۔ اگر آپ پروپیگنڈا سے باہر نکل کر دیکھیے اور سوچیے تو اس نے فرد کی زندگی اور اس کے ازلی امتحان پر چنداں اثر نہیں ڈالا۔ سائنس ایک سماجی مظہر ہے۔ یہ سڑکیں بناتی ہے، عمارتیں کھڑی کرتی ہے، رابطے قائم کرتی ہے، ہسپتال بناتی ہے، چاند کو کھوجتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ نہیں کرتی تو یہ نہیں کرتی کہ سڑکوں سے دلوں کے فاصلے پاٹ دے، عمارتوں میں انسان کا تحفظ یقینی بنا دے، عالمگیر رابطوں سے محبت کو فروغ دے، ہسپتال میں کسی کو مرنے سے بچا لے، چاند سے سینے کی ٹھنڈک چرا لائے۔ جو میرے مسائل ہیں وہ حل نہیں ہوتے۔ معاشرہ میں نہیں ہوں۔ معاشرہ آپ بھی نہیں ہیں۔ یہ ایک خیالی وجود ہے۔ حقیقی صرف میں اور آپ ہیں۔ معاشرے کی ترقی سے میں یہ کیسے باور کر لوں کہ میں ترقی یافتہ ہو گیا؟ ظاہر و باطن کا سا فرق ہے سائنس کی ترقیوں اور انسان کی محرومیوں میں۔

اگر آپ زمانے پر وہی طائرانہ اور کلیاتی نگاہ ڈالیں جس کی میں نے سفارش کی ہے تو معلوم ہو گا کہ موت کو شکست دینے کا ڈھکوسلا اتنا ہی مقبول ہے جتنا روایتی مذہب۔ اس پر یقین لانا اچنبھے کی بات نہیں۔ تعجب اس پر ہے کہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ اس دنیا میں جی کر کیا کریں گے؟ کیا یہ اتنی کامل، اتنی خوشگوار، اتنی بھرپور ہے کہ ساٹھ ستر برس سے زیادہ کوئی جینا چاہے؟ آپ کا نہیں معلوم مگر میرا خیال ہے کہ اللہ میاں سے ساز باز کر کے یار لوگوں کو دو دو سو سال دلوا دیے جائیں تو جہنم میں جانے کی آرزو کریں گے۔

الحاد کا مسئلہ بھی نیا کر کے دکھا دیں تو آپ کی مرضی ہے ورنہ ہے نہیں۔ قیامت، جزا و سزا اور وجودِ باری تعالیٰ کے منکرین ہمیشہ اتنے اہم رہے ہیں کہ الہامی صحائف نے انھیں موضوعِ سخن بنایا ہے۔ وہ الہامی صحائف جن میں نماز کا طریقہ تک نہیں پایا جاتا۔

بات یہ ہے کہ سائنس ایک سراسر سماجی مظہر ہے اور مذہب ایک سراسر ذاتی معاملہ۔ سائنس سے انسان کے مسائل حل ہوا کرتے تو ہم آپ اپنے پرکھوں سے زیادہ خوش نہ جیتے؟ اسی طرح مذہب ایک معاشرتی معاملہ ہوتا تو کم از کم مرید کے اور رائے ونڈ ہی میں ڈاڑھیوں اور غراروں کے طوفان معاشرتی رذائل کو بہا لے جاتے۔ آپ معاشرے کی فکر چھوڑ دیجیے۔ یہ اللہ کی مخلوق ہے۔ وہ چلانا بھی جانتا ہے اور حساب کرنا بھی۔ فقہ اور روایات کی ذہن سازی سے نکل کر دیکھیے تو خدا آپ سے اپنی دنیا کا نہیں آپ کی ذاتِ شریف کا فیصلہ چاہتا ہے۔

تمام سماجی تحریکیں دنیا کو جنت بنانے کے خواب سے شروع ہوتی ہیں۔ پھر خواہ وہ سائنس ہو یا مذہب، سب اپنے اپنے طریقوں سے معاشرے کی اصلاحِ احوال میں جت جاتے ہیں۔ وہ معاشرہ جس کی کوئی شخصیت ہے نہ وجود۔ جس کا کوئی فکر ہے نہ عمل۔ جس کی کوئی سزا ہے نہ جزا۔ خدا نے تو کبھی دنیا کو جنت بنانے کا وعدہ نہیں دیا۔ اس نے تو یہ وعدہ صرف نیکو کاروں سے کیا ہے اور وہ بھی اس زندگی میں نہیں۔ کہاں بھولے جاتے ہیں؟

جنت سازی کی مادہ پرستانہ خواہش نے سائنس کو جن بھول بھلیوں میں الجھا رکھا ہے انھیں تو ایک طرف رکھیے، سمانا صاحب کے اپنے اسلام سے ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیے۔ باری تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں چار جگہ کھانے پینے میں حرام کی گئی چار اشیا کی ایک فہرست گنوائی ہے۔ حجتِ قاطعہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یوں ہے:

قُلْ لَّآ اَجِدُ فِىْ مَآ اُوْحِىَ اِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٝٓ اِلَّآ اَنْ يَّكُـوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْـمَ خِنزِيْرٍ فَاِنَّهٝ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْـرِ اللّـٰهِ بِهٖ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْـرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (الانعام – 145)
کہہ دو کہ میں اس وحی میں جو مجھے پہنچی ہے کسی چیز کو کھانے والے پر حرام نہیں پاتا جو اسے کھائے مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون یا سور کا گوشت کہ وہ ناپاک ہے یا وہ ناجائز ذبیحہ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے، پھر جو بھوک سے بے اختیار ہوجائے ایسی حالت میں کہ نہ بغاوت کرنے والا اور نہ حد سے گزرنے والا ہو تو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔

اگر مجھے رب کو جان دینے کا یقین ہو اور دنیا کو جنت بنانے کی لغویات سے فرصت تو میں پوچھوں کہ بندہ پرور، ائمۂ عظام، محدثینِ کرام اور فقہائے واجب الاحترام نے اسی رسولؐ سے حرام و حلال کی دوسری فہرستیں کب مرتب کروا لیں؟ کیا چار بار کہنے کے بعد بھی کوئی کسر رہ گئی تھی؟ کیا مندرجہ بالا آیت کے بعد کوئی گنجائش بچتی ہے کوے، گدھے، گھوڑے، خرگوش وغیرہم کی حلت و حرمت کی بحثیں مساجد اور منبروں پہ چھیڑنے کی؟

شاید آپ کو مجھ سے کراہت ہو رہی ہو مگر مجھے ان لوگوں سے کراہت ہوتی ہے جو دنیا میں اپنا راج قائم کرنے کے لیے یہ سارے نظام ترتیب دیتے ہیں۔ خدا کا نظام اتنا سادہ ہے کہ بدو پاک دل لے کے آئے تو اسے سمجھ سکتا ہے۔ اور اتنا گہرا ہے کہ روئے ارض پر موجود علما مل کر بھی اس کی تمام حکمتیں دریافت نہیں کر سکتے۔ ان لوگوں سے حذر جو خدا کے کلام کی حتمی تفسیریں کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو سلام جو سمجھتے اور سمجھاتے ہیں کہ خدا استنجا سکھانے کے لیے نبی بھیجتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اجماع کے نام پر اکثریت کی جہالت اور وحشت کو باوجود اس کے مسلمانوں پر مسلط کیا کہ خدا اور اس کے پیغمبر ہمیشہ اکثریت کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کو اپنا بنانے کی خواہش علوم اور شعبے تشکیل دیتی ہے۔ پھر وہ فلسفہ ہو، نفسیات ہو، طبیعیات ہو، فقہ ہو، کلام ہو، کچھ ہو۔ مدعا معاشرے کو اپنی منشا پر چلانا ہوتا ہے۔ خدا کا دین خود خدا کی رضا پر چلنے کا نام ہے۔

بات لمبی ہو گئی۔ نکتہ یہ ہے کہ الحاد ہمیشہ رہا ہے، کاروبار ہمیشہ رہا ہے، ترقی ہمیشہ رہی ہے، معاشروں کے سر پر مسلط ڈنڈا بردار ہمیشہ رہے ہیں، مذہب ہمیشہ رہا ہے، رذائل ہمیشہ رہے ہیں، محاسن ہمیشہ رہے ہیں۔ خدا کے بندے ہمیشہ انھی میں جیے ہیں۔ انھی میں کامیاب ہوئے ہیں۔ صبر اسی لیے تمام الہامی کتب میں سب سے زیادہ مذکور خلق ہے۔ یہ چلن خدا کا چلایا ہوا ہے۔ امتحان مقصود ہے۔ امتحان گاہ میں توڑ پھوڑ کی کوشش نہ کیجیے۔ اپنا پرچہ دیجیے اور جائیے۔ آپ کی حیثیت پرِ کاہ سے زیادہ نہیں۔ بڑے بڑے آئے اور گئے۔ امتحان گاہ یہی تھی اور یہی رہے گی۔

پیغمبروں نے نہیں بدلا اور آپ بدل دیں گے دنیا کو؟ حد ہوتی ہے، بندہ نواز۔ چھوڑیے یہ سب۔ کوئی جان کسی جان کا بوجھ نہیں اٹھانے والی۔ باز آئیے تبلیغی اور اصلاحی نظریات سے۔ اپنی جان کی فکر کیجیے۔ زمانہ ملحد بھی ہو گیا تو آپ سے فقط آپ کا سوال ہو گا۔ آپ ہی جواب نہ دے سکے تو کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ کے زمانے کے لوگ مومن تھے یا کافر؟

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ