مواد پر جائیں۔
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
اردو گاہ
  • زبان

    فرہنگِ آصفیہ

    • لغت
    • تعارف
    • معروضات
    • لغت
    • تعارف
    • معروضات

    املا نامہ

    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب
    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب

    اردو محاورات

    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع
    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع

    اردو عروض

    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
  • کلاسیک

    ادبِ عالیہ

    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت
    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت

    لہجہ

    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
  • حکمت

    اقوالِ زریں

    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان
    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان

    ضرب الامثال

    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
  • نظم و نثر

    اردو شاعری

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    زار

    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف
    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف

    اردو نثر

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    کیفیات

    • کیفیت نامے
    • کیفیت نامے
  • معاصرین

    معاصرین

    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت
    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت

آزادئ نسواں

شذرہ

21 نومبر 2022ء

عورت کے کام کر کے آزادی یا خود مختاری حاصل کرنے کا خیال میری سمجھ میں نہیں آتا۔ مجھے عورت کے گھر سے باہر نکلنے پر ہرگز کوئی اعتراض نہیں۔ بلکہ یہ نہایت ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اسے زمانے کا اچھی طرح علم ہو۔ چاردیواری کی قید کیا مرد، کیا عورت، ہر انسان کو تنگ دل اور کند ذہن بنا دیتی ہے۔ مگر باہر نکل کر باقاعدہ مردوں کی طرح کام کرنا اور پیسے کمانا تھوڑا عجیب ہے۔ کسی کو بیٹے، باپ، بھائی یا شوہر وغیرہ کا آسرا نہ ہو تو بات سمجھ میں بھی آتی ہے۔ مگر ان کے ہوتے ہوئے ملازمت یا کاروبار میں خود کو جوت دینا کیسی عقل مندی ہے؟

کہا جاتا ہے کہ گھر میں عورت کو مرد پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ وہ مجبور ہوتی ہے۔ اپنی مرضی نہیں کر سکتی۔ مجھے حیرت ہے کہ ایسا کہنے والے کس دنیا میں رہتے ہیں۔ کیا گھر سے باہر عورت کو کسی پر انحصار نہیں کرنا پڑتا؟ کیا ملازمت یا کاروبار کی مجبوریاں نہیں ہوتیں؟ کیا پیسا کمانے والی عورت ساری محنت و مشقت اپنی مرضی سے کرتی ہے؟ عورت تو عورت رہی، کمانے والا مرد کیا واقعی آزاد ہوتا ہے؟ کیا نوکری کا مطلب ہی پیسے کے عوض کسی کے ہاتھ اپنا آپ بیچ دینا نہیں؟

بات یہ ہے کہ زندگی کے کارخانے میں نہ کوئی مرد آزاد ہے اور نہ عورت۔ خود مختاری ایک چھلاوا ہے۔ عورت اس کے پیچھے بھاگتی ہے تو ٹھیک ہے۔ مگر عورت کو سمجھنا چاہیے کہ مرد بھی اسی کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ وہ غریب بھی خود مختار نہیں۔ دونوں مجبور ہیں۔ دونوں مظلوم ہیں۔ جینے کے لیے آدم کے بیٹے بیٹیوں کو کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑتا ہے۔ اپنے آپ کی قیمت تو لگانی ہی پڑتی ہے۔ گھر کے اندر لگائیں یا گھر سے باہر۔

میں نے کام کرنے والی خواتین کی زندگی گھر بیٹھنے والی بی بیوں سے زیادہ آسان عموماً نہیں دیکھی۔ ایک کو ایک مسئلہ ہے تو دوسری کو دوسرا ہے۔ مفر کسی کو نہیں۔ نوعیت میں کہیں کہیں فرق آ جاتا ہے اور آخر میں پھر حساب برابر ہو جاتا ہے۔ لہٰذا عورت کا نوکری وغیرہ کرنا مجبوری کی بجائے محض رجحان کا شاخسانہ نظر آتا ہے۔ اعتراض ہمیں اس پر بھی نہیں۔ بس اس بیچاری کو کوئی آزاد اور خود مختار وغیرہ بتائے تو اچنبھا ہوتا ہے۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو نثر نگار۔

Prevپچھلی نگارشسلام استاد!
اگلی نگارشمطالعے کا ایک اہم اصولNext

تبصرہ کیجیے

اظہارِ خیال

آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل کا پتا شائع نہیں کیا جائے گا۔ تبصرہ ارسال کرنے کے لیے * کے نشان والے خانے پر کرنا ضروری ہے۔

اردو نثر

راحیلؔ فاروق کی نثری نگارشات۔ شعری، ادبی، فکری، معاشرتی اور مذہبی موضوعات پر انشائیے، مضامین اور شذرات۔

آپ کے لیے

یہ جو چشمِ پر آب ہیں دونوں

24 مارچ 2017ء

شیخوپوری

22 جون 2021ء

اردو ادب اور نقد و نظر

17 مئی 2013ء

شکر کا حقیقی مفہوم

16 جنوری 2020ء

بغاوت سے سفاہت تک

15 فروری 2020ء

تازہ ترین

روٹی اور پڑھائی

10 اگست 2025ء

جا ری عقل

29 جون 2024ء

الوداع، اماں!

4 مئی 2024ء

غلام یاسین فوت ہو گیا

27 دسمبر 2023ء

شاعرانہ مزاج

18 دسمبر 2023ء
ہمارا ساتھ دیجیے

اردو گاہ کے مندرجات لفظاً یا معناً اکثر کتب، جرائد، مقالات اور مضامین وغیرہ میں بلاحوالہ نقل کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی مراسلے کی اصلیت و اولیت کی بابت تردد کا شکار ہیں تو براہِ کرم اس کی تاریخِ اشاعت ملاحظہ فرمائیے۔ توثیق کے لیے web.archive.org سے بھی رجوع لایا جا سکتا ہے۔

© 2022 - جملہ حقوق محفوظ ہیں۔