سانحۂِ ساہیوال – واردات سے واویلے تک

اردو نثر

میں خبروں سے دلچسپی رکھتا ہوں اور خبرناموں سے نفرت کرتا ہوں۔ اس کی میرے پاس بڑی ٹھوس وجہ ہے۔ دنیا کی ہر وہ چیز جس سے انسان کا رزق وابستہ ہو جائے اپنی تقدیس اور پاکیزگی کھو بیٹھتی ہے۔ پیسا مذہب تک کو ایک دھندے کی شکل دے دیتا ہے، صحافیوں کی بک بک جھک جھک تو پھر بہت چھوٹی بات ہے۔ فنونِ لطیفہ کی عمومی ناقدری اور فنکاروں کی فلاکت وافلاس لاکھ تکلیف دہ سہی مگر اس نے ایک بڑا فائدہ یہ پہنچایا ہے کہ سچے فنکاروں کے فن پارے اکثر معاصر آلودگیوں سے پاک رہے ہیں اور ان کی معاشی بےنیازی سے ان کے پیغام کی آفاقیت کو تقویت پہنچی ہے۔

گزشتہ کئی روز سے میں ذرائعِ ابلاغ پر واویلا سن رہا ہوں کہ ایک معصوم خاندان کو ساہیوال میں بےگناہ قتل کر دیا گیا۔ صحافیوں کی تو خیر مجبوری ہے کہ وہ یہ آگ بجھنے دیں گے تو پیٹ کی آگ کیسے بجھائیں گے۔ سیاست دانوں کی ٹیں ٹیں کا بھی ویسے ہی کوئی اعتبار نہیں کرتا۔ مجھے شکوہ اصل میں عوام سے ہے۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ لوگ کسی جنگل کے باشندے ہیں؟ کیا آپ کے اپنے بھائی، بیٹے، باپ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں فرائض سرانجام نہیں دے رہے؟ کیا پولیس اور ایجنسیوں کے لوگ ہونولولو سے منگوا کر کام پر لگائے گئے ہیں؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ بدترین نظام کے باجود پولیس کا ایک سپاہی بھی اپنی مرضی سے کسی کی جان نہیں لے سکتا؟ کیا آپ سچ مچ اتنے جاہل ہیں کہ معاشرے کو اپنی آنکھ سے دیکھنے کی بجائے صحافتی اداروں میں موجود بھاڑے کے ٹٹوؤں کی نظر سے دیکھ رہے ہیں؟ کیا آپ نے ذرائعِ ابلاغ کی پیشہ ورانہ بکواس کو حقیقی معنوں میں مان لیا ہے کہ کوئی بھی بندوق اٹھا کر کسی بھی وقت کسی کی جان لے سکتا ہے؟ خاص طور پر پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ملازم؟

اگر یوں ہے تو آپ کو اخبار پڑھنا اور ذرائعِ ابلاغ کے ذریعے سے باخبر رہنا کچھ عرصے کے لیے ترک کر دینا چاہیے اور نظامِ ریاست پر سکول اور کالج کی سطح پر پڑھائی جانے والی کتب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ پھر کوچہ و بازار میں نکل کو خود مشاہدہ کرنا چاہیے کہ صحافیوں اور سیاست دانوں کا خیالی جہنم صرف انھی کے لیے ہے یا ہم آپ کو بھی کہیں نظر آتا ہے۔ یاد رکھیے، صحافی ریاست کے وہ بِلّے ہوتے ہیں جنھیں چوہے نہ ملیں تو وہ دودھ پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ صحافت، وکالت اور طب سے اس حوالے سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کا کاروبار معاشرے میں فتنہ و فساد، خوف و ہراس، پستی و رذالت اور علت و اذیت کے بغیر نہیں چلتا۔ بگڑے ہوئے معاشروں میں بسا اوقات مسائل کا حل پیش کرنے کی خاطر یہ ادارے خود مسائل پیدا بھی کرنا شروع کر دیا کرتے ہیں۔ مسئلے کے حل کی پہلی شرط تو بہرحال یہی ہے کہ مسئلہ موجود تو ہو۔

سانحۂِ ساہیوال کے حوالے سے میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کسی بڑے سے بڑے افسر کی مجال نہیں کہ ذاتی طور پر فیصلہ کر کے سرِ عام لوگوں کو گولیوں سے بھونتا پھرے۔ جن لوگوں نے گولیاں چلائیں وہ محض قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملازم ہیں جن کا بنیادی اور اولین فریضہ حکم کی تعمیل ہے۔ حتی الامکان جانفشانی، تن دہی اور مستعدی کے ساتھ۔ اداروں کی اطلاعات غلط ہو سکتی ہیں۔ حکم دینے والوں کا فیصلہ غلط ہو سکتا ہے۔ کام کرنے والوں کا طریقہ غلط ہو سکتا ہے۔ مگر ان میں سے کسی کی نیت پر شک کرنا نری جہالت ہے۔ یہ ہمارے محافظ ہیں۔ انسان ہیں۔ غلطی کا صدور ان سے ممکن ہے۔ مگر یہی وہ لوگ ہیں جن کی شب بیداریوں اور پراگندہ روزیوں کے طفیل ہم بازاروں میں اینٹھتے اور بستروں پر اینڈتے ہیں۔ انھی کے درست فیصلوں اور جانبازیوں نے دہشت گردی کے ناسور سے ہماری جان چھڑائی ہے۔ میں نے کچھ دن پہلے خود کچھ گوروں کے منہ سے وہ باتیں سنی ہیں جو فوج کے شعبۂِ تعلقاتِ عامہ سے سننے کو ملتی تھیں اور ہم بھروسا نہ کرتے تھے۔ دنیا حیران ہے کہ پاکستان میں شدت پسندی کے وہ زہر اتارے گئے جنھوں نے ہنستی بستی سلطنتیں اجاڑ دیں مگر پاکستان نہ صرف انھیں سہار گیا بلکہ ان کے خلاف آئندہ کے لیے بھی اچھی خاصی مدافعت پیدا کر لی۔ یہ سب انھی اداروں کے کمالات ہیں جن کے ساتھ واقعہِ ساہیوال کے تانے بانے ملتے ہیں۔

کوئی شخص جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کی معمولی سی بھی خبر رکھتا ہے اور پاکستان میں زندہ ہے اس بات کا انکار نہیں کر سکتا کہ یہ ادارے احمق نہیں چلا رہے۔ ہمیں ان کے لائحہ ہائے عمل سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر وہ بہت لائق اور قابل لوگ ہیں۔ اس سے زیادہ کیا کہوں کہ میں ذاتی سطح پر کچھ حد تک آگاہ ہوں کہ یہ نظام کس طرح کام کرتا ہے۔ جن لوگوں سے تعلقات کے شبہے میں ساہیوال میں گاڑی پر فائرنگ کی گئی ان میں سے ایک کو میرا ہمسایہ سمجھیے۔ وہ چند دن پہلے فیصل آباد میں مارا گیا تھا۔ لوگ ٹی وی اور اخباروں میں اچھے برے طالبان کا فرق اٹھا دینے کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔  میرا علم ناقص ہو سکتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ جہاں برے طالبان نے پاکستان کو شدید نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کی ہے وہاں اچھے طالبان کا یہ کردار ناقابلِ فراموش ہے کہ ان کے بغیر ریاستِ پاکستان ایسے بہت سے کام نہ کر سکتی جن کے ثمرات اب ہمیں ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ آپ صرف ذرائعِ ابلاغ پر بھروسا کرنے کی بجائے اردگرد نظر دوڑائیں گے تو شاید آپ کو بھی اچھے طالبان خود اپنے درمیان چلتے پھرتے نظر آ جائیں۔ یہ ہمارے وہ گمنام ہیرو ہیں جن سے ریاست نے وہ کام لیے جو کسی اور کے بس کے نہ تھے۔ خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را!

بات کہیں کی کہیں نکل گئی۔ کہنے کا مطلب یہ تھا کہ عوام کی حیثیت سے ہم سانحۂِ ساہیوال کی تفصیلات سے کماحقہٗ آگاہ نہیں ہیں۔ مگر ہمیں یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ صحافی ان معاملاتِ ریاست میں ٹکے کا کردار بھی نہیں رکھتے جن کی نسبت یہ مسلسل ماہرانہ ہرزہ گردیاں کر رہے ہیں۔ ان کی قیاس آرائیاں کسی طور پر ہماری ذاتی ٹامک ٹوئیوں سے زیادہ لائقِ اعتماد نہیں۔ یہ فرق البتہ ہے کہ انھیں زبان چلانے کے پیسے ملتے ہیں اور ہمیں نہیں ملتے۔ لہٰذا ان کی باتوں پر بھروسا مت کیجیے۔ اپنی آنکھوں اور کانوں سے کام لیجیے۔ ریاستِ پاکستان میں آئین اور قانون کے نفاذ کے بہت سے مسائل ہیں مگر اللہ نہ کرے نوبت یہاں تک نہیں پہنچی کہ ان نقلی دانشوروں اور تجزیہ کاروں کی کالی زبانیں اثر دکھانے لگیں۔ وہ ریاستی ادارے جو آپ کی حفاظت کے لیے جانیں دیا کرتے ہیں، آپ کی جان بلاوجہ کبھی نہیں لے سکتے۔  ہاں، اگر کہیں انھیں غلطی لگتی ہے تو اس کا مداوا اور تدارک بھی وہی کر سکتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کو شہید کہیں گے جو وطن کے محافظوں کے ہاتھوں بےگناہ مارے گئے مگر اپنے مجاہدوں پر کبھی انگلی نہیں اٹھائیں گے۔ کیونکہ بہرحال وہ مرنا اور مارنا دونوں ہم سے بہتر ہی جانتے ہیں۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ