نیا سال – کیا ہونے والا ہے؟

اردو نثر

اردو کی ایک ضرب المثل ہے:

ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات

یعنی اگر کوئی کچھ بننے والا ہو تو اس کے آثار بچپنے ہی سے ظاہر ہو جاتے ہیں۔ یہ کہاوت سنانی ہم نے اس لیے ضروری سمجھی کہ آپ اس مضمون کو علمِ نجوم کاکوئی مقالہ سمجھنے سے گریز کریں اور محض حالات و آثار کے ایک تجزیے کے طور پر ملاحظہ فرمائیں۔گو اردو کی تاریخ میں مومن خاں مومنؔ جیسے شعرا بھی گزرے ہیں جو اپنی نکالی ہوئی تاریخِ وفات کے مطابق فوت ہو ہی گئے مگر ہمارا حال مرزا غالبؔ کا سا ہے۔ موصوف نے اپنی پیشگوئی کی ناکامی کا الزام اس وبا پر دھر دیا تھا جو بقول ان کے ایک بڈھا بڈھی کو بھی نہ مار سکی۔

آمدم بر سرِ مطلب۔ 2019ء سے متعلق ذیل کی پیشگوئیاں تیل اور تیل کی دھار دیکھ کر کی جا رہی ہیں۔ اپنے مطالعے کے دوران میں جہاں ہم نے بہت سے لوگوں سے استفادہ کیا ہے وہاں اپنے ذاتی مشاہدے کو بھی کچھ نہ کچھ جگہ دی ہے۔ اس لیے آپ تسلی سے انھیں رد کر سکتے ہیں۔ مگر بات وہی ہے کہ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی!

معاش

ماہرین کے مطابق آئندہ سال میں کاروباری اداروں کے وظائف میں کچھ اساسی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ عوام کے لیے اہم بات یہ ہے کہ تکنیکی مہارت رکھنے والے افراد کی قدر کم ہونے کی امید ہے۔ یہ بات بظاہر ناقابلِ یقین معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فروغ کے بعد ہنرمندوں کی ضرورت روزبروز کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ وہ کام جن کی سرانجام دہی کے لیے پہلے بےتکان کام کرنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں اب کمپیوٹر  اور ٹیکنالوجی کے متعلقہ آلات زیادہ تر خودکار طور پر کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ ان میں سے اکثر کا معیاراور صحت بھی انسانی کارکردگی سے بدرجہا بہتر ہے۔ ماہرین کو ملازمت دینے کی نسبت یہ آلات اور پروگرام خریدنے پر اخراجات بھی کم ہیں۔ لہٰذا کاروباری ادارے اپنے بہترین مفاد میں ماہرین کی بجائے ٹیکنالوجی کا سہارا لینے کو ترجیح دیں گے۔ دو ہزار انیس میں ملازمت حاصل کرنے والوں میں ایسے لوگوں کی شرح بڑھے گی جو کسی ہنر کی بجائے "انسانی” صلاحیتیں زیادہ رکھتے ہوں۔ انسانی صلاحیتوں سے مراد وہ مہارتیں سمجھیے جو کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کے بس سے باہر ہیں۔ مثلاً تخلیقی سوچ، فیصلہ سازی، جذباتی توازن، سماجی تعلق اور ابلاغ وغیرہ۔

دو ہزار انیس میں ہم پاکستان کی معاشی صورتِ حال کے بہتر ہونے کی توقع رکھنے میں بھی بجا ہوں گے۔ عالمی روش سے کسی قدر پیچھے ہونے کی وجہ سے تکنیکی مہارت کی طلب پاکستانی منڈی میں بدستور رہ سکتی ہے یا اس میں کسی قدر اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ مگر ملک سے باہر روزگار تلاش کرنے والے یا اعلیٰ درجے کی تکنیکی مہارتیں رکھنے والے افراد کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اپنے ہنر کے علاوہ شخصی خصوصیات کو بھی بہتر بنانے پر توجہ دیں۔

سیاست

کچھ لوگ ہمیشہ کی طرح اس سال بھی ایک طاقت ور مگر مبہم بیانیے کے ساتھ سامنے آئے ہیں جس کے مطابق آئندہ سال کوئی عالمی یا ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ ہمیں یہ امکان کوئی خاص معلوم نہیں ہوتا تاہم عالمی سیاست میں بڑی اکھاڑ پچھاڑ کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ آپ کو زیادہ دیر عہدے پر متمکن نظر نہ آئیں جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

یورپ میں نسل پرستانہ رویوں کو فروغ ہونے کا امکان ہے جس کے اثرات ہمیشہ کی طرح عالمی سیاست پر بھی ہوں گے۔ آپ پہلے ہی پاک و ہند میں بڑھتی ہوئی قومیت پرستی کے رجحانات رواں برس ملاحظہ کر چکے ہیں۔ خلیجی ممالک کی قوت میں جو اضافہ تیل کے خزانوں نے کیا تھا وہ بتدریج کم ہو رہا ہے اور آئندہ برس آپ سعودی عرب کی طرح کچھ اور روغن فروشوں کو بھی مرگِ مفاجات کا شکار ہوتے دیکھنے کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ عالمی سیاست میں اسلام مخالف ہوا آئندہ برس میں اور تیز ہو گی۔

 پاکستانی کی مقامی سیاست کی نسبت ہم پرامید ہیں کہ ہیجان خیزیوں کے باوجود اس کی سمت درست رہے گی اور جمہوری عمل کامیابی سے جاری رہے گا۔ عوام ریاست سے کچھ ایسی مراعات کی توقع رکھ سکتے ہیں جو ان کا حق ہونے کے باوجود تادمِ تحریر انھیں میسر نہیں رہیں۔ ان میں قانون و انصاف اور بنیادی ضروریات کی فراہمی اہم ترین ہیں۔ سیاست کے بہت سے نمایاں چہرے منظر سے غائب ہونا شروع ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ نئے لوگوں کی ناگزیر آمد سے پاکستانی سیاست میں مثبت تبدیلی دیکھی جائے گی۔

کاروبار

کاروباری اداروں کا ٹیکنالوجی پر انحصار پاکستان جیسے ممالک میں بھی غیرمعمولی طور پر بڑھنے کا امکان ہے۔ چھوٹے بڑے سب اداروں کے لیے ٹیکنالوجی کا سہارا لینا ناگزیر ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اوپر پاکستان میں تکنیکی ماہرین کی ضرورت عارضی طور پر بڑھنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

تیل کی قیمتیں گریں گی۔ توانائی کے متبادل ذرائع پر انحصار گزشتہ برسوں سے زیادہ تیزی سے بڑھے گا۔ نئے متبادل ذرائع کی تلاش اور دریافت جاری رہے گی۔ بہت سے روایتی کاروبار گزشتہ سالوں کی طرح تاریخ کی دھول میں گم ہو جائیں گے۔ نئے کاروبار جنم لیں گے۔ فری لانسنگ کی بڑھوتری اور منڈی میں اس کے حصے میں اضافہ جاری رہے گا۔ ذالر کی قیمت گرنے کے قوی امکان سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ صارفین کو پھانسنا حسبِ دستور دشوار تر ہوتا چلا جائے گا جس کے سبب مارکیٹنگ اور کسٹمر کئیر کے شعبوں میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت پڑے گی۔

اقدار

ہم نسل پرستی اور مذہبی شدت پسندی میں اضافے کی توقع رکھتے ہیں۔ ہنگامہ آرائی، قتل و غارت اور عدم برداشت کے مظاہرے تقویت پکڑیں گے۔ عدم تحفظ، گھٹن اور اجنبیت کے احساس میں اضافہ ہو گا۔ مگر ترقی پذیر ممالک ان منفی عوامل سے ترقی یافتہ ممالک کی نسبت کم نقصان اٹھائیں گے۔

نئے تعلیمی رجحانات متعارف ہوں گے۔ جذباتی، معاشرتی اور بشریاتی امور کی تعلیم اہمیت اختیار کرے گی۔ سائنس کا خبط کسی قدر کم ہو گا اور ادب و فن کی وقعت بڑھے گی۔ صحافت اور سماجی ذرائعِ ابلاغ یعنی سوشل میڈیا کی جانب لوگوں کے نفرت اور  عدم اعتماد کے رویے کو ترقی ہو گی۔ تحریر و تقریر کی پابندیاں عالمی سطح پر کم ہونے کی بجائے بڑھیں گی۔

ٹیکنالوجی

فیس بک کا دیو اپنی قوت کھو دے گا۔ اس کے صارفین میں کسی قدر اضافے کی توقع بھی خارج از امکان نہیں مگر اس کی غیرمعمولی قوت اور اجارہ داری کو بہت بڑے جھٹکے یقینی ہیں۔ ذاتی معلومات سے لے کر مالی اثاثہ جات تک کے چوری ہونے کے واقعات میں غیرمعمولی اضافے کے امکان پر ماہرین متفق ہیں اور اس کے سدِ باب کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ چکے ہیں۔ تاہم یہ یقینی ہے کہ مالی اور سماجی مسائل میں انٹرنیٹ ان لوگوں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہونے والا ہے جو اس کے بہت سرگرم صارف نہیں ہیں۔ حکومتیں آن لائن تحفظ، بچوں کی سرگرمیوں اور جعلی خبروں جیسے معاملات پر باقاعدہ آگاہی مہمات شروع کرنے پر پہلے  سے زیادہ مجبور ہو جائیں گی۔

سماجی واسطوں کے صارفین کی شرحِ نمو میں گزشتہ سالوں کی نسبت کمی واقع ہو گی۔ٹیکنالوجی کے شائقین میں فطرت اور روایتی طرزِ زندگی کی جانب لوٹنے کا رجحان زور پکڑے گا۔ آئندہ سال شاید عوام کے لیے بہت زیادہ چونکا دینے والی ایجادات و انکشافات بھی سامنے نہ آ سکیں۔مسائل میں اضافہ البتہ زیادہ ہونے کی توقع ہے جس کے سبب لوگوں کا تکدر بڑھے گا۔

جی، صاحبو۔ 2019ء تو چند روز میں شروع ہو ہی جائے گا۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا، پڑھے لکھے کو فارسی کیا۔ دیکھتے ہیں کہ یہ اندازے محض اٹکل ثابت ہوتے ہیں یا سچ مچ حالات کی ڈگر یہی ہو گی۔ جو بھی ہو، خبردار رہنے میں ہمارا فائدہ ہے۔ ہم آخر میں آپ کو یہ تجویز بھی دینا چاہیں گے کہ آئندہ سال کے بارے میں مختلف شعبوں کے ماہرین کی آرا جہاں ممکن ہو ضرور پڑھیے۔ ہم خدا کی کائنات پر اختیار تو نہیں رکھتے مگر اس کے نظام کو کسی قدر سمجھ کر اپنی راہ متعین کرنے کے مکلف ضرور ہیں۔ اللہ ہمارے آپ کے پیاروں کو سلامت رکھے اور دو جہان کی بھلائیوں سے نوازے۔

سالِ نو پیشگی مبارک!

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ