گرو نانک سے منسوب ایک روایت بیان کی جاتی ہے۔ آج ایک دوست کا کیفیت نامہ پڑھ کر ذہن میں تازہ ہو گئی۔
گرو نانک اپنے چیلوں کے درمیان بیٹھے تھے۔ حکمت و موعظت کے موتی بکھر رہے تھے۔ باتوں میں سے بات نکلی اور روئے سخن آیندہ زمانوں کی طرف ہو گیا۔ گرو نے کہا:
اک ویلا آؤ گا جد ہر بندہ ٹھگ ہوؤ گا۔
(ایک وقت آئے گا جب ہر شخص نوسرباز ہو گا)
چیلوں نے تعجب سے گرو کی جانب دیکھا۔ کسی نے کہا:
گرو جی، ہر بندہ؟
گرو نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔
ایک چیلا پھڑک گیا۔ کہنے لگا:
تے فیر ٹھگیا کون جاؤ؟
(ہر شخص ہی ٹھگ ہو گا تو دھوکا کون کھائے گا؟)
گرو نے دھیرے سے کہا:
جیہڑا وساہ کھاؤ۔
(جو بھروسا کرے گا!)
2 خیالات ”بھروسا“ پر
بات کچھ سمجھ میں آئی نہیں۔ ٹھگ بھروسا کیوں کرنے لگے اوروں پر؟
بی بی، بھروسا کیے بغیر کچھ کر سکتی ہیں آپ زندگی میں؟
پاکستان میں تو گرو جی کی پیش گوئی عملی صورت میں موجود ہے۔ ایک بدعنوان افسر جب کسی شاندار ہوٹل میں کھانا کھانے بیٹھتا ہے تو اس اعتماد کے ساتھ بیٹھتا ہے کہ کھانے میں گدھا نہیں ہو گا۔ اس اعتماد کا فائدہ اٹھا کر ہوٹل والے اسے کتا کھلا دیتے ہیں!