مواد پر جائیں۔
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
اردو گاہ
  • زبان

    فرہنگِ آصفیہ

    • لغت
    • تعارف
    • معروضات
    • لغت
    • تعارف
    • معروضات

    املا نامہ

    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب
    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب

    اردو محاورات

    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع
    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع

    اردو عروض

    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
  • کلاسیک

    ادبِ عالیہ

    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت
    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت

    لہجہ

    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
  • حکمت

    اقوالِ زریں

    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان
    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان

    ضرب الامثال

    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
  • نگارشات

    اردو شاعری

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    زار

    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف
    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف

    اردو نثر

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    کیفیات

    • کیفیت نامے
    • کیفیت نامے
  • معاصرین

    معاصرین

    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت
    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت

اصلاح

انشائیہ

10 مارچ 2023ء

ایک بوڑھا بازار میں چلا جا رہا ہے۔ ایک طرف سے ایک آدمی لپک کر اس کا بازو پکڑتا ہے اور چلا کر کہتا ہے، "منہ دھو کر نہیں آئے، بزرگو۔ ماں باپ نے تمیز نہیں سکھائی؟”

بڈھا راہگیر ہکا بکا رہ جاتا ہے۔ اسے غصہ تو بہت آتا ہے مگر یہ دیکھ کر پی جاتا ہے کہ ٹوکنے والے کے ساتھ بہت سے لوگ ہیں جو آستینیں چڑھائے خشمگیں نگاہوں سے اسے گھور رہے ہیں۔

اتنے میں ایک عورت سامان کا تھیلا سنبھالے گزرتی ہے۔ لوگوں میں سے ایک آگے بڑھ کر چیختا ہے، "او باجی! کوئی ڈھنگ کا تھیلا نہیں ملا تھا تمھیں؟ چار پیسے زیادہ خرچ کر لیے ہوتے تو اتنی بری نہ لگ رہی ہوتیں۔”

عورت ٹھٹھک کر رک جاتی ہے۔ اس کا منہ سرخ ہو جاتا ہے۔ کچھ کہنا چاہتی ہے مگر ہجوم دیکھ کر گھبرا جاتی ہے۔ لوگ ہنسنے لگتے ہیں۔ "بول، بی‌بی۔ بول۔ بول نا!”

خاتون سر جھکا کر تیز تیز قدموں سے نکل جاتی ہے۔

ایک خوش پوش نوجوان مسکراتا، گنگناتا، جھومتا جا رہا ہے۔ یکلخت بازار کے در و دیوار ایک کرخت للکار سے گونج اٹھتے ہیں۔

"ابے او گدھے، اوپر والا بٹن تیری ماں بند کرے گی کیا؟ آ جاتے ہیں منہ اٹھا کر بازار میں، سالے!”

گالی سن کر نوجوان کا خون کھول اٹھتا ہے۔ وہ مکا تان کر گالی دینے والے کی طرف لپکتا ہے۔ پورا مجمع نوجوان پر پل پڑتا ہے۔

نوجوان کے کراہنے کی آواز ابھی مدھم نہیں ہوئی کہ دو بچے اٹکھیلیاں کرتے ہوئے منظر پر نمودار ہوتے ہیں۔

کوئی آدمی دھاڑ کر کہتا ہے، "پڑھائی تمھارا باپ کرے گا کیا؟ بڑے آئے مستقبل کے معمار۔”

بچے دہشت زدہ ہو کر بھاگ نکلتے ہیں۔

—

یہ حکایت فرضی ہے۔ ظاہر ہے کہ اتنی بدتمیزی کوئی نہیں کرتا۔ ورنہ معاشرے والے اسے جنگل میں چھوڑ آئیں۔ لیکن کیسی دلچسپ بات ہے کہ اس سے زیادہ بدتمیزی ہم لوگ کر لیتے ہیں۔ بلکہ اس پر شاباش بھی ملتی ہے۔ سمجھ رہے ہیں نا؟

کپڑے جوتے، رہن سہن، صورت شکل وغیرہ ظاہری معاملات ہیں۔ ہم کسی کی خامی یا کوتاہی دیکھیں تو چشم پوشی کرتے ہیں۔ کم از کم لوگوں کے سامنے مذاق نہیں اڑاتے۔ ایمان، عقیدہ، تعلق باللہ، حبِ رسولؐ باطنی معاملات ہیں۔ کسی کو نظر نہیں آتے سوائے اس کے جس کے دل میں ہوں۔ مگر کیسی جرأت کی بات ہے کہ کوئی بھی کھڑا ہو کر سرِ بازار فیصلہ دے دیتا ہے کہ یہ کافر ہے۔ یہ زندیق ہے۔ یہ مشرک ہے۔ یہ مرتد ہے۔ یہ ملحد ہے۔ اللہ کی پناہ!

جو کام تہذیب کے نام پر نہیں کر سکتے وہ دین کے نام پر کرتے ہیں۔ جس حرکت پر لوگ محلے سے نکال دیں اس کی بنیاد پر جنت میں گھسنا چاہتے ہیں۔ جن باتوں سے انسانوں کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا ان سے خدا کو فریب دینا چاہتے ہیں۔

وَقُلْ لِّعِبَادِىْ يَقُوْلُوا الَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ ۚ اِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَـهُـمْ ۚ اِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِيْنًا ۝ رَّبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ ۖ اِنْ يَّشَاْ يَرْحَـمْكُمْ اَوْ اِنْ يَّشَاْ يُعَذِّبْكُمْ ۚ وَمَآ اَرْسَلْنَاكَ عَلَيْـهِـمْ وَكِيْلًا ۝
(بنی اسرائیل: 53-54)

اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں۔ کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ تمھارا پروردگار تم سے خوب واقف ہے۔ اگر چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تو تمھیں عذاب دے۔ اور ہم نے تم کو ان پر داروغہ (بنا کر) نہیں بھیجا۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو نثر نگار۔

Prevپچھلی نگارشسبق
اگلی نگارشمحبت کی قیمتNext

تبصرہ کیجیے

اظہارِ خیال

آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل کا پتا شائع نہیں کیا جائے گا۔ تبصرہ ارسال کرنے کے لیے * کے نشان والے خانے پر کرنا ضروری ہے۔

اردو نثر

راحیلؔ فاروق کی نثری نگارشات۔ شعری، ادبی، فکری، معاشرتی اور مذہبی موضوعات پر انشائیے، مضامین اور شذرات۔

آپ کے لیے

منفی سوچ کا علاج

10 دسمبر 2021ء

ایہام کی روایت اور شعرائے اردو کا دماغ

1 دسمبر 2020ء

جس کا نام ہے آدم

14 جولائی 2019ء

نہ جنوں رہا نہ پری رہی

4 مئی 2021ء

جہاں بجتی ہے شہنائی

24 فروری 2016ء

تازہ ترین

صحبتِ بد

10 جنوری 2026ء

رعایت

24 دسمبر 2025ء

کتے

20 دسمبر 2025ء

روٹی اور پڑھائی

10 اگست 2025ء

جا ری عقل

29 جون 2024ء
ہمارا ساتھ دیجیے

اردو گاہ کے مندرجات لفظاً یا معناً اکثر کتب، جرائد، مقالات اور مضامین وغیرہ میں بلاحوالہ نقل کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی مراسلے کی اصلیت و اولیت کی بابت تردد کا شکار ہیں تو براہِ کرم اس کی تاریخِ اشاعت ملاحظہ فرمائیے۔ توثیق کے لیے web.archive.org سے بھی رجوع لایا جا سکتا ہے۔

© 2022 - جملہ حقوق محفوظ ہیں۔