متاعِ غرور کا سودا

اہلِ پنجاب کا ایک محاورہ بڑا دلچسپ ہے۔ جب کسی کی انتہائی مذمت اور بدتعریفی مقصود ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ گھروں کڈھن دا نئیں۔ یعنی گھر سے باہر نکالنے کے لائق نہیں۔ اس مضمون کے آغاز اور اپنے تعارف کے لیے اس سے بہتر بات میرے تصور میں نہیں آتی۔

میں ایک انتہائی کمزور، نحیف، دبلا پتلا سا آدمی ہوں جسے چلتا پھرتا دیکھ کر بےاختیار خدا کی شان اور سبحان اللہ جیسے کلمات زبان پر جاری ہو جائیں۔ خوردبینی چہرے پر اس جوانی کی یادگار جو کبھی آئی ہی نہیں ان گنت چھوٹے بڑے گڑھے ہیں جو حوادث اور پھوڑے پھنسیوں نے چھوڑ دیے ہیں۔ نظر کا یہ حال ہے کہ عینک اتار کے رکھ دوں تو دوبارہ ملتی نہیں۔ ہاتھوں میں زنانہ قسم کی نزاکت اور پیرانہ طرز کی لرزش شروع دن سے چلی آتی ہے۔سگریٹ کی لت ایسی بری پڑی ہے کہ لوگ دھوئیں کی رچی بسی ہوئی بو سے وہ کرسی پہچان لیتے ہیں جس سے میں گھنٹا بھر پہلے اٹھ گیا تھا۔ ڈاڑھی مونچھیں جب تک سوتے ہوئے اپنا ہی منہ زخمی نہ کرنے لگیں کترتا نہیں۔ پینے کے سوا پانی کے کسی مصرف پر کبھی دل سے قائل نہیں ہوا۔ پہننے اوڑھنے، اٹھنے بیٹھنے کی تمیز کبھی بچپن میں سیکھی ہو گی جو بچپنے ہی کی طرح رخصت بھی ہو گئی۔ ناکارگی اور کاہلی اس درجہ ارزانی ہوئی ہے کہ غسل خانے میں بھی لاشعوری طور پر لیٹنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ زمانے کی جدت سے بس یہی تعلق ہے کہ چشمِ فلک نے حلفاً میری کوئی جینز نئی نہ دیکھی ہو گی۔

ذرا سوچیے۔ ایسے بدہئیت اور کڈھب آدمی پر بھی کوئی عورت عاشق ہو سکتی ہے بھلا؟

میں نے بھی شاید یہی سوچا ۔ اور دیکھنے نکل کھڑا ہوا۔

بلکہ نہیں۔ یوں کہیے کہ جیتنے نکل کھڑا ہوا!

زندگی کے بتیس سال گزر گئے ہیں۔ اور کوئی گنتی کیا کروں؟

شمار کے لائق صرف یہی ہے کہ اپنے آپ پر ترس نہیں آتا۔ اپنے جیسوں پر بہت آتا ہے۔ بہت ہی زیادہ۔ شاید یہ بھی خودترحمی کی ایک مکارانہ شکل ہو۔

میں نے دیکھا کہ عورت ایک قلعے کی مانند ہے۔ ہر عورت۔ فلک بوس فصیلیں۔ باریک باریک چنی ہوئی سنگین اینٹیں۔ آہنی دروازے۔ سنگلاخ اور بلند و بالا برج۔ حوصلے پست کر دینے والے خونی حصار۔ انگارہ آنکھوں اور وحشی بشرے والے دربان۔ میں ڈر گیا۔

میں اسے فتح نہیں کر سکتا۔ قریب بھی نہیں پھٹک سکتا۔ نہیں۔ کبھی نہیں۔

میں نے ایک آہ بھر کر سنگلاخ فصیل کو دیکھا اور پلٹنا چاہا۔

مگر اسی لمحے کچھ ہوا۔

میں بھونچکا رہ گیا۔

کیا ایک آہ میں اتنی آندھیاں پوشیدہ ہو سکتی ہیں کہ فلک بوس فصیلیں، سنگلاخ دیواریں، خونی برج لہرا کر آپ کے قدموں میں آ گریں؟ بس ایک آہ میں؟

نہیں۔ یقیناً نہیں۔

مگر فصیلیں تو کاغذ کی ہو سکتی ہیں نا۔

اور ہوتی ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ کاغذ ہی کی ہوتی ہیں۔

میں اب بھی چلتے چلتے، کبھی کبھی یونہی عادتاً کسی قلعے کی دیواروں پہ انگلی پھیر دیتا ہوں۔ کبھی یوں نہیں ہوا کہ فصیل کی فصیل چِر کے دولخت نہ ہو گئی ہو۔ دربان البتہ بعض اوقات قریب نہیں پھٹکنے دیتے۔ اقدار کے، رشتوں کے، اناؤں کے پاسبان۔ مگر مجھ پر کاغذی فصیلوں کا بھرم کھل گیا ہے۔ اس لیے دربانوں سے الجھتا نہیں۔ بہت جی چاہے تو اگلی فصیل کے ساتھ ساتھ چلنے لگتا ہوں۔ بلند و بالا، سنگلاخ، خونیں، حوصلہ شکن فصیل۔ میری ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔

مرد بھی آدھی عورت تو ہوتا ہی ہے۔ عورت مرد کی پہلی نظر بھانپ لیتی ہے تو دوسری تک مرد بھی حق الیقین کو پہنچ ہی جاتا ہے۔ اس کے بعد کچھ نہیں بچتا۔ عظیم الشان قلعے کے مٹھی بھر ملبے کے سوا عورت کے پاس ہے ہی کیا؟ وہ بھی ہر عورت کے پاس!

مگر ٹھہریے۔ آپ شاید غلط سمجھ رہے ہیں۔ عورت کی بےتوقیری میرا مقصد نہیں۔ بات یہ ہے کہ انسان بےتوقیر ہے۔ اور یہ سبق میں نے عورت سے سیکھا ہے۔

میں نے دیکھا ہے کہ انسان ایک بھرم کا نام ہے۔ تارِ عنکبوت۔ ریت کا محل۔ جب تک قائم ہے سو قائم ہے۔ جب کسی بانکے کی انگلی چھو گئی تو نشان تک نہیں ملتا۔ پتا تک نہیں چلتا کہ یہاں بھی کبھی ایک عیدِ نظارہ تھی۔ ایک عورت تھی جس کے حسن، رعنائی اور ضبط کی دھوم تھی۔ ایک منعم تھا جس کے پاس نعمت شمار سے ماورا تھی۔ ایک سورما تھا جس کی ہیبت سے سلطنت لرزتی تھی۔ ایک زاہد تھا جس کے تقشف پر قدسی درود پڑھتے تھے۔ جب نہیں رہتا تو کچھ نہیں رہتا۔

انسان کا ظاہر ان قوتوں سے عبارت ہے جن کی جڑیں اس کے باطن کی کمزوریوں میں ہیں۔ متکبر اندر جھانکتا ہے تو مرنے لگتا ہے۔ بےچارگی اور بےکسی کی اتھاہ گہرائیوں سے فرار ڈھونڈتا ہے۔ رعونت کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ حسین خود پر نگاہ کرتا ہے تو باطن کی غلاظت اور ہیچ مائیگی سے گھبرا اٹھتا ہے۔ چہرے پر غازے کی ایک اور تہہ چڑھا کر بھول جانا چاہتا ہے کہ وہ محض ایک بےبضاعت اور حقیر وجود ہے۔ فرعون کی خلوت ایک شکنجہ ہے جس میں اسے باور آتا ہے کہ وہ تو اپنے بول و براز تک پر قادر نہ تھا۔ تب وہ اور زیادہ چلا چلا کر اپنی قدرت کا اعلان کرنے لگتا ہے مبادا کسی کو گمان گزرے کہ وہ ڈر گیا ہے۔ اپنے آپ سے۔ اپنی اوقات سے!

انسان تب تک کوئی شے معلوم ہوتا ہے جب تک آپ اس کے قریب نہیں ہو جاتے۔ پھر خواہ وہ قلوپطرہ ہو خواہ سکندر۔ خواہ کمینہ ہو خواہ قلندر۔ ایک مکڑی کا جالا ہے جو ہاتھ لگنے سے زمین پر آ رہا ہو۔ کاغذ کی فصیل۔ ریت کا محل۔ ٹوٹا ہوا بھرم!

انسان بہت چھوٹی چیز ہے، صاحبو۔ اتنی چھوٹی چیز کہ ہم بڑی آسانی سے بھول جاتے ہیں۔ باقی سب چھوڑیے۔ اپنے اندر جھانکیے۔ اپنی محرومیاں،اپنے خوف، اپنی اوقات، اپنے دکھ، اپنی بےچارگیاں۔۔۔ ایک نظر دیکھیے۔ دوسروں پہ رشک آنے لگے گا آپ کو۔ اپنا آپ تھوکنے کے لائق بھی نہیں لگتا نا؟ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سے گیا گزرا تو کوئی بھی نہ ہو گا۔ مگر پھر آپ خود کو سمیٹتے ہیں۔ سنبھالتے ہیں۔ مکڑی جالا بنتی ہے۔ عورت کاغذ کی فصیل قائم کرتی ہے۔ انسان ریت کا محل بناتا ہے۔ اسے بھرم کہتے ہیں۔ جو آپ کا بھی ہے اور میرا بھی۔

ہم اس بھرم کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ یہ احساس بہت جان لیوا ہے۔ یہ ادراک۔ یہ عرفان۔ کہ ہمارا علم، ہمارا ہوش، ہمارا وقار، ہماری عزت، ہمارا حسن، ہمارا جلال، ہمارا مال، ہماری شان، ہماری ہستی، ہمارا وجود محض ایک بھرم ہے۔ کیا جانیے کب ٹوٹ جائے۔ کتنی چھوٹی سی بات پر عزت جاتی رہے۔ خبر بھی نہ ہو اور دولت پانی کی طرح دامن میں سے چھن جائے۔ دیکھتے ہی دیکھتے صحت اور حسن کو دیمک لگ جائے۔ بہانہ بھی ڈھنگ کا نہ ہو اور زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ ہم جانتے ہیں کسی نہ کسی سطح پر کہ یہ سب ہمارا نہیں۔ اسی لیے اس سے چپکنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اور زیادہ۔ اور زیادہ۔ مبادا کہ کل کا جاتا آج ہی چلا جائے!

بھرم کے بغیر انسان ایک چوزہ ہے جسے جنگل میں چھوڑ دیا گیا ہو۔ بےامان، متحیر، خوف زدہ، اجنبی، بےدم، بےبس، بےچارہ۔ اور بھرم کے بھیس میں وہ شیر بھی ہے، لومڑی بھی، عقاب بھی، بھیڑیا بھی۔ اس لیے بھرم قائم رکھنا پڑتا ہے۔ مبادا چوزے کو کوئی چوزہ سمجھ کے روند ڈالے۔ اچھا نہیں کہ ہاتھی سمجھا جائے؟ جھوٹ موٹ کا سہی۔

اس جھوٹ موٹ کے بھرم کو عربی میں غرور کہتے ہیں۔ غرور کے لفظی معانی دھوکے اور فریب کے ہیں۔ وہ فریب جو چوزہ جنگل کے باسیوں کو دیتا ہے۔ ہاتھی کا بھیس بنا کر۔ شیر کی کھال اوڑھ کر۔ بھیڑیا بن کر۔ کبھی کبھی دوسروں کو جُل دیتے دیتے چوزہ خود بھی بھول جاتا ہے کہ وہ ہاتھی نہیں چوزہ ہے۔ یہ تکبر ہے۔ جس نے ابلیس سے سرداری چھین لی تھی۔ چوزہ کیا چیز ہے؟ چوزہ بھول جاتا ہے۔ بھولنے کو عربی میں نسیان کہتے ہیں۔ انسان کا لفظ اسی سے نکلا ہے۔

کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا
فریبِ سود و زیاں لا الٰہ الا اللہ

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب ہیں۔

فہرستِ منثورات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مراسلے کے؟