مواد پر جائیں۔
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
اردو گاہ
  • زبان

    فرہنگِ آصفیہ

    • لغت
    • تعارف
    • معروضات
    • لغت
    • تعارف
    • معروضات

    املا نامہ

    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب
    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب

    اردو محاورات

    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع
    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع

    اردو عروض

    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
  • کلاسیک

    ادبِ عالیہ

    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت
    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت

    لہجہ

    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
  • حکمت

    اقوالِ زریں

    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان
    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان

    ضرب الامثال

    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
  • نگارشات

    اردو شاعری

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    زار

    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف
    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف

    اردو نثر

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    کیفیات

    • کیفیت نامے
    • کیفیت نامے
  • معاصرین

    معاصرین

    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت
    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت

جھوٹے سچے لفظ

انشائیہ

31 مارچ 2021ء

میں نے اللہ کے جلیل القدر بندوں میں خواہ وہ پیغمبر ہوں یا ولی، ایک قدرِ مشترک عجیب دیکھی ہے۔ وہ مباحثے نہیں کرتے۔ مناظروں میں حصہ نہیں لیتے۔ فلسفے نہیں بگھارتے۔ کتابیں نہیں لکھتے۔ سیدنا نوح علیہ السلام سے ابراہیم علیہ السلام تک اور موسیٰ علیہ السلام سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک سب کے سب انبیا و رسل کے بارے میں الہامی متون یہ شہادت دیتے ہیں کہ وہ بحث کرنے والے نہ تھے۔ سوال ہوتا تھا تو خطبہ نہیں دیتے تھے۔ ایک دو جملوں میں بات کہہ دیتے تھے۔ کوئی حجت کرتا تھا تو جواب در جواب کی بجائے کنارہ فرماتے تھے۔ ان کے پیروکاروں میں سے بھی میں نے جنھیں اس روش پر گامزن پایا، انھیں ضرور بالضرور ولی سمجھا۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

کردار سب سے بڑی چیز ہے۔ یہ سبق میں نے دنیا کے عظیم ترین انسانوں سے سیکھا ہے۔ الفاظ کا سہارا وہ لیتا ہے جس کے پاس کردار نہ ہو۔ میں خود بہت بولنے والا، تفصیل بیان کرنے والا، اپنے تئیں سمجھا سمجھا کر بات کرنے والا شخص ہوں۔ ذاتی حیثیت میں گواہی دے سکتا ہوں کہ یہ رویہ وہیں زیادہ ظاہر ہوتا ہے جہاں خود اپنے کہے پر ایمان نہ ہو۔ اردو کی مثل ہے، تھوتھا چنا باجے گھنا۔ خالی برتن بجتے ہیں۔ ہم لوگوں سے کلام نہیں کرتے۔ خود سے کرتے ہیں۔ اگر خود قائل ہوں تو زیادہ بولنا نہیں پڑتا۔

الفاظ پر معاملات کی بنیاد رکھنے والے ہوائی قلعوں کے باسی ہیں۔ باتوں کی اہمیت یہ ہے کہ جو جی چاہے مانتے ہیں اور جو جی چاہے رد کر دیتے ہیں۔ اہمیت تو جی کی ہے۔ جب چاہتا ہے مان لیتے ہیں۔ جس کا چاہتا ہے وہ مان لیتا ہے۔ کتنے ہیں کہ وہی بات نہیں مانتے۔ ان کا جی نہیں چاہتا۔ یہ معاملہ عقل سے تعلق نہیں رکھتا۔ عقل والے آپس میں بے عقل لوگوں سے زیادہ اختلافات رکھتے ہیں۔ بات اصل میں جی ہی کی ہے۔

ہوش سنبھالا تو ادیبوں اور دانش وروں کو کہتے سنا کہ لفظ بے توقیر ہو گیا ہے۔ اب سوچتا ہوں کہ اس کی توقیر تھی ہی کب؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو نہ تھی۔ قرآن اتر آیا تھا مگر جن کا جی نہیں چاہا نہیں مانے۔ کلمتہ اللہ کے زمانے میں تو نہ تھی۔ یہوداہ اسکریوتی ان لوگوں کی بات مان گیا تھا جو انھیں مصلوب کرنا چاہتے تھے۔ سقراط کے زمانے میں تو نہ تھی۔ لوگوں نے اس پر فصاحت کی تہمت باندھی مگر زہر بھی دیا۔ موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بھی نہ تھی۔ فرعون قائل ہوا نہ بنی اسرائیل رام ہو سکے۔ یہی داستان آدم کے بیٹوں تک چلی جاتی ہے۔ لفظ کی کیا توقیر ہے؟

تان سین گزر گیا۔ کتنوں کے دلوں میں حسرت ہے کہ اس کے سر اس کے ساتھ مر گئے۔ لفظ سر سے بھی حقیر تر ہے۔ کم دیر رہتا ہے۔ کم اثر کرتا ہے۔ سر وحشی ہرنیوں کو قطار اندر قطار گائک کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ لفظ ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ لفظ جذبے سے حقیر تر ہے۔ محبت شیر کو پالتو کتا بنا کر رکھ دیتی ہے۔ مگر وہ لفظ نہیں سمجھتا۔

ہم میں سے کچھ لوگ لفظوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ کاش لفظوں کے پیچھے دیکھ بھی سکتے۔ مگر لفظ پردہ ہے۔ ہر کوئی اٹھا بھی نہیں سکتا۔ دیکھ بھی نہیں سکتا کہ چھپا ہوا جذبہ اصل میں کون سا ہے۔ مسیح علیہ السلام تو نبی تھے۔ اللہ نے حواری کے لفظوں کا پردہ چاک کر دیا اور آپ جان گئے کہ دشمن گھات میں بیٹھا ہے۔ عام آدمی کو یہ خبر کیسے ہو؟ ہم میں سے زیادہ تر لفظ کو ہی جذبہ سمجھتے ہیں۔ پردے کو ہی پردہ نشین مان لیتے ہیں۔ یہ آسان راستہ ہے۔ نادان آسانی بھی دھوکے کی منتخب کرتے ہیں۔

لوگ کہتے ہیں اللہ کو خدا نہ کہو۔ انھیں لگتا ہے کہ یہ ایمان کا تقاضا ہے۔ اللہ عربی کا لفظ ہے۔ خدا فارسی کا۔ اسلام عرب سے آیا ہے۔ ایران سے نہیں۔ اللہ کہنا چاہیے۔ وہ خوش ہو گا۔ خدا کہیں گے تو وہ فارسی لفظ ہے۔ اللہ کا ایران سے کیا تعلق؟ ناراض ہو جائے گا۔ ابھی بہتوں کا خیال پیغمبر، نماز، روزہ، درود جیسے الفاظ کی طرف نہیں گیا۔ خدا کو مسلمان کر لیں تو شاید ان کی طرف بھی توجہ کریں۔

ہم جانتے ہیں۔ ہم جب سچ بولتے ہیں تو الفاظ کا چناؤ نہیں کرتے۔ سچ خود رہنمائی کرتا ہے کہ کیا بولنا ہے اور کیا نہیں۔ جو ہوا وہ بول دیں گے جو نہ ہوا وہ نہیں بولیں گے۔ جھوٹ کا معاملہ جدا ہے۔ جھوٹ بولنے سے پہلے گھڑنا پڑتا ہے۔ بنانا پڑتا ہے۔ کاڑھنا پڑتا ہے۔ اس میں محنت لگتی ہے۔ الفاظ پر غور کیا جاتا ہے۔ انتخاب کیا جاتا ہے۔ ترتیب دی جاتی ہے۔ کوتاہی رہ جائے اور کوئی سوال کر دے تو پھر سے پورا عمل دہرایا جاتا ہے۔ دوبارہ کہانی گھڑی جاتی ہے۔ لفظ ڈھونڈے جاتے ہیں۔ احتیاط سے ترتیب لگائی جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ ریت کی یہ دیوار اتنی اونچی ہو جاتی ہے کہ سوال کرنے والے کے ہونٹ بھی ہلیں تو سہار نہیں پاتی۔ لفظوں کو لفظ کا جھونکا ہی ڈھیر کر دیتا ہے۔ جاء الحق و زہق الباطل!

سچ لفظ کا باپ ہے اور لفظ جھوٹ کا باپ ہے۔ لفظ سچ کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا رہتا ہے۔ جھوٹ لفظ کے آگے سجدے میں پڑا رہتا ہے۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو نثر نگار۔

Prevپچھلی نگارشیومِ خواتین اور پورا سچ
اگلی نگارشبچہ بچہNext

تبصرہ کیجیے

اظہارِ خیال

آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل کا پتا شائع نہیں کیا جائے گا۔ تبصرہ ارسال کرنے کے لیے * کے نشان والے خانے پر کرنا ضروری ہے۔

اردو نثر

راحیلؔ فاروق کی نثری نگارشات۔ شعری، ادبی، فکری، معاشرتی اور مذہبی موضوعات پر انشائیے، مضامین اور شذرات۔

آپ کے لیے

ایں ہم جہانے آں ہم جہانے

11 مارچ 2016ء

ہیر نہ آکھو کوئی

28 مارچ 2016ء

مسیحائی

3 نومبر 2018ء

سکون

2 مارچ 2021ء

اردو ادب اور نقد و نظر

17 مئی 2013ء

تازہ ترین

صحبتِ بد

10 جنوری 2026ء

رعایت

24 دسمبر 2025ء

کتے

20 دسمبر 2025ء

روٹی اور پڑھائی

10 اگست 2025ء

جا ری عقل

29 جون 2024ء
ہمارا ساتھ دیجیے

اردو گاہ کے مندرجات لفظاً یا معناً اکثر کتب، جرائد، مقالات اور مضامین وغیرہ میں بلاحوالہ نقل کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی مراسلے کی اصلیت و اولیت کی بابت تردد کا شکار ہیں تو براہِ کرم اس کی تاریخِ اشاعت ملاحظہ فرمائیے۔ توثیق کے لیے web.archive.org سے بھی رجوع لایا جا سکتا ہے۔

© 2022 - جملہ حقوق محفوظ ہیں۔