اردو نثر

تعارف

راحیلؔ فاروق

نثر کیا ہے؟

نثر وہ تحریر ہے جو کسی زبان کے معیاری طرزِ کلام کی براہِ راست نقل ہو۔ معیاری طرزِ کلام سے مراد وہ انداز ہے جس میں اس زبان اور تمدن کے لوگ عام طور پر گفتگو کرتے ہیں۔ نقل کا مطلب ہے کہ نثر خود بول چال کی بجائے بول چال کے مطابق لکھے ہوئے الفاظ پر مشتمل ہوتی ہے۔ براہِ راست کے یہ معانی ہیں کہ نثر میں شاعری کی طرح کلام کی نحوی ترتیب بدلنے اور آہنگ پیدا کرنے وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ گفتگو ہی کا رنگ قائم رہتا ہے۔ سادہ لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ نثر لکھی ہوئی بول چال کا نام ہے۔

تحریر بنیادی طور پر کسی تمدن میں کلام کو محفوظ کرنے کی غرض سے ارتقا پذیر ہوتی ہے۔ اہلِ عرب جب کسی غلام کو آزاد کیا کرتے تھے تو زبانی کلامی کہہ دینا بعض اوقات کافی ثابت نہ ہوتا تھا۔ لہٰذا غلاموں کے پروانہ ہائے آزادی کو باقاعدہ لکھ دینے کا رواج ہوا۔ مردِ آزاد کو عربی میں حُر کہتے ہیں۔ تحریر کا لفظ اسی سے نکلا ہے۔ یعنی آزاد کرنے کا عمل یا پروانۂِ آزادی۔ رفتہ رفتہ یہی لفظ ہر لکھی ہوئی عبارت پر منطبق ہونے لگا اور آج ہم اسے شاید اس کے وسیع ترین معانی میں استعمال کرتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تحریر غالباً نثری ضروریات یعنی عمومی بول چال کو محفوظ کرنے کی خاطر ہی ایجاد کی گئی تھی۔ اس لحاظ سے نثر کو ہم تحریر، نگارش یا لکھاوٹ کی ماں کہہ سکتے ہیں۔

اردو نثر

اردو میں نثر نویسی کے آغاز پر کچھ کہنا بیکار ہے۔ اس قسم کے موضوعات تقریباً ہمیشہ اور ہر جگہ مابہ النزاع ہوا کرتے ہیں۔ البتہ یہ کہنے میں باک نہیں کہ اسلوب کے چمن کا شاید ہی کوئی پھول ہو جو  سر سید احمد خاں، مرزا ہادی رسواؔ، میر امنؔ دہلوی، محمد حسین آزادؔ، مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ، شبلیؔ نعمانی، عبدالحلیم شررؔ،  مہدی الافادی، پطرسؔ بخاری، نیازؔ فتح پوری، سجاد انصاری، سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، علی عباس جلالپوری، ابو الاعلیٰ مودودی اور عابد علی عابدؔ  وغیرہ نے اردو نثر کے دامن میں نہ لا ڈالا ہو۔ متانت، وقار، علمیت، سنجیدگی، سادگی، شکوہ، بلاغت، ایجاز، رمزیت، لطافت، شوخی، بےباکی، رنگینی، تازگی، روانی۔۔۔ کون سا رنگ ہے جو اردو نثر کے ناظرین نے نہیں دیکھا اور کون سی خوشبو ہے جو ان کے ذوق کے لیے فراہم نہیں ہوئی؟

فی زماننا بہت سے نئے لوگ بھی اچھی نثر لکھ رہے ہیں۔ بعض اوقات تو چونکا دینے کی حد تک شاندار اسالیب نظر سے گزرتے ہیں۔ تاہم یہ فیصلہ وقت کا ہے اور ہم اسی پر چھوڑتے ہیں کہ کس نے اردو نثر کے دیار میں نئے  چراغ روشن کیے اور کون محض آنکھوں میں دھول جھونکا کیا۔

ایجادِ بندہ

اردو گاہ کا شعبۂ نثر راحیلؔ فاروق کی نگارشات کے لیے مخصوص ہے۔ ذیل میں موصوف کی چند متفرق خامہ فرسائیاں پیش کی گئی ہیں۔ آپ ان سے مطالعے کا آغاز کر سکتے ہیں۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب۔

یہ صفحہ اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email