تعارف

نثر کیا ہے؟

نثر وہ تحریر ہے جو کسی زبان کے معیاری طرزِ کلام کی براہِ راست نقل ہو۔ معیاری طرزِ کلام سے مراد وہ انداز ہے جس میں اس زبان اور تمدن کے لوگ عام طور پر گفتگو کرتے ہیں۔ نقل کا مطلب ہے کہ نثر خود بول چال کی بجائے بول چال کے مطابق لکھے ہوئے الفاظ پر مشتمل ہوتی ہے۔ براہِ راست کے یہ معانی ہیں کہ نثر میں شاعری کی طرح کلام کی نحوی ترتیب بدلنے اور آہنگ پیدا کرنے وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ گفتگو ہی کا رنگ قائم رہتا ہے۔ سادہ لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ نثر لکھی ہوئی بول چال کا نام ہے۔

تحریر بنیادی طور پر کسی تمدن میں کلام کو محفوظ کرنے کی غرض سے ارتقا پذیر ہوتی ہے۔ اہلِ عرب جب کسی غلام کو آزاد کیا کرتے تھے تو زبانی کلامی کہہ دینا بعض اوقات کافی ثابت نہ ہوتا تھا۔ لہٰذا غلاموں کے پروانہ ہائے آزادی کو باقاعدہ لکھ دینے کا رواج ہوا۔ مردِ آزاد کو عربی میں حُر کہتے ہیں۔ تحریر کا لفظ اسی سے نکلا ہے۔ یعنی آزاد کرنے کا عمل یا پروانۂِ آزادی۔ رفتہ رفتہ یہی لفظ ہر لکھی ہوئی عبارت پر منطبق ہونے لگا اور آج ہم اسے شاید اس کے وسیع ترین معانی میں استعمال کرتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تحریر غالباً نثری ضروریات یعنی عمومی بول چال کو محفوظ کرنے کی خاطر ہی ایجاد کی گئی تھی۔ اس لحاظ سے نثر کو ہم تحریر، نگارش یا لکھاوٹ کی ماں کہہ سکتے ہیں۔

اردو نثر

اردو میں نثر نویسی کے آغاز پر کچھ کہنا بیکار ہے۔ اس قسم کے موضوعات تقریباً ہمیشہ اور ہر جگہ مابہ النزاع ہوا کرتے ہیں۔ البتہ یہ کہنے میں باک نہیں کہ اسلوب کے چمن کا شاید ہی کوئی پھول ہو جو  سر سید احمد خاں، مرزا ہادی رسواؔ، میر امنؔ دہلوی، محمد حسین آزادؔ، مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ، شبلیؔ نعمانی، عبدالحلیم شررؔ،  مہدی الافادی، پطرسؔ بخاری، نیازؔ فتح پوری، سجاد انصاری، سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، علی عباس جلالپوری، ابو الاعلیٰ مودودی اور عابد علی عابدؔ  وغیرہ نے اردو نثر کے دامن میں نہ لا ڈالا ہو۔ متانت، وقار، علمیت، سنجیدگی، سادگی، شکوہ، بلاغت، ایجاز، رمزیت، لطافت، شوخی، بےباکی، رنگینی، تازگی، روانی۔۔۔ کون سا رنگ ہے جو اردو نثر کے ناظرین نے نہیں دیکھا اور کون سی خوشبو ہے جو ان کے ذوق کے لیے فراہم نہیں ہوئی؟

فی زماننا بہت سے نئے لوگ بھی اچھی نثر لکھ رہے ہیں۔ بعض اوقات تو چونکا دینے کی حد تک شاندار اسالیب نظر سے گزرتے ہیں۔ تاہم یہ فیصلہ وقت کا ہے اور ہم اسی پر چھوڑتے ہیں کہ کس نے اردو نثر کے دیار میں نئے  چراغ روشن کیے اور کون محض آنکھوں میں دھول جھونکا کیا۔

ایجادِ بندہ

ذیل میں بندہ راحیلؔ فاروق کی نثری نگارشات کا خاکہ مع روابط پیش کیا گیا ہے۔ اردو گاہ پر موجود تمام نثری تحاریر کو سادہ طور پر ہیئت اور موضوع کے اعتبار سے تقسیم کیاجا سکتا ہے۔ یہ دونوں درجہ بندیاں ضمنی روابط کے ساتھ ذیل میں درج کر دی گئی ہیں۔ ان سے پہلے نثری نگارشات کی مکمل فہرست کا ربط  بھی فراہم کیا گیا ہے۔

اردو نثر

اصول سمجھ میں آئے نہ آئے، عمل میں آ کر رہتا ہے۔

اردو نثر

اصول سمجھ میں آئے نہ آئے، عمل میں آ کر رہتا ہے۔
مکمل فہرست

اصنافِ نثر

(بلحاظِ ہیئت)

انشائیہ

کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ ہمیں تو مر جانا چاہیے۔ اکثر دوسروں کے بارے میں بھی یہی رائے رکھتے ہیں۔

انشائیہ

کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ ہمیں تو مر جانا چاہیے۔ اکثر دوسروں کے بارے میں بھی یہی رائے رکھتے ہیں۔
پڑھیے

کہانی

قیامت ایک لمحے میں آئی اور اسی میں گزر بھی گئی۔ حاصل سے لاحاصل کا سفر سچ مچ پلک جھپکنے ہی میں طے ہو گیا۔

کہانی

قیامت ایک لمحے میں آئی اور اسی میں گزر بھی گئی۔ حاصل سے لاحاصل کا سفر سچ مچ پلک جھپکنے ہی میں طے ہو گیا۔
پڑھیے

مقالہ

اردو شاعری کی تاریخ میں اپنی برتری کا دعویٰ اس محتاط اور معذرت خواہانہ انداز میں شاید ہی کسی نے کیا ہو۔

مقالہ

اردو شاعری کی تاریخ میں اپنی برتری کا دعویٰ اس محتاط اور معذرت خواہانہ انداز میں شاید ہی کسی نے کیا ہو۔
پڑھیے

شذرہ

اللہ میاں نے نہ پوچھا نہ بتایا کہ میاں، ہم تمھیں دنیائے دوں کی تعمیر یا تخریب کے لیے بھیج رہے ہیں۔

شذرہ

اللہ میاں نے نہ پوچھا نہ بتایا کہ میاں، ہم تمھیں دنیائے دوں کی تعمیر یا تخریب کے لیے بھیج رہے ہیں۔
پڑھیے

مضمون

جو شخص بغیر کسی مقصد کے ہر شے کی حقیقت پر شک کرنے کا عادی ہے وہ اغلب ہے کہ مدبر نہیں مریض ہے۔

مضمون

جو شخص بغیر کسی مقصد کے ہر شے کی حقیقت پر شک کرنے کا عادی ہے وہ اغلب ہے کہ مدبر نہیں مریض ہے۔
پڑھیے

زمرہ ہائے نثر

(بلحاظِ موضوع)

انسان

موتی سمندر میں پیدا ہوتا ہے مگر سمندر کے لیے پیدا نہیں ہوتا۔

انسان

موتی سمندر میں پیدا ہوتا ہے مگر سمندر کے لیے پیدا نہیں ہوتا۔
پڑھیے

مذہب

جھوٹ اور دجل و فریب کے پاس بہت حیلے سہی مگر سچ ایک اپنی ہی کشش اور جبروت رکھتا ہے۔

مذہب

جھوٹ اور دجل و فریب کے پاس بہت حیلے سہی مگر سچ ایک اپنی ہی کشش اور جبروت رکھتا ہے۔
پڑھیے

سوانح

شمار کے لائق صرف یہی ہے کہ اپنے آپ پر ترس نہیں آتا۔ اپنے جیسوں پر بہت آتا ہے۔

سوانح

شمار کے لائق صرف یہی ہے کہ اپنے آپ پر ترس نہیں آتا۔ اپنے جیسوں پر بہت آتا ہے۔
پڑھیے

متفرقات

لیلیٰ بنت مہدی کی محبت مجنوں بناتی ہے مگر لیلائے خیال کا عشق انسان کو منصور بنا دیتا ہے۔

متفرقات

لیلیٰ بنت مہدی کی محبت مجنوں بناتی ہے مگر لیلائے خیال کا عشق انسان کو منصور بنا دیتا ہے۔
پڑھیے

معاشرہ

ہم نہیں سمجھتے کہ آئین لفظوں کا نام نہیں۔ ورنہ میری شاعری ہی کیوں نہ ہو۔

معاشرہ

ہم نہیں سمجھتے کہ آئین لفظوں کا نام نہیں۔ ورنہ میری شاعری ہی کیوں نہ ہو۔
پڑھیے

نقد و نظر

جو کلام کرتا ہے اس لیے کرتا ہے کہ پہچانا جائے۔

نقد و نظر

جو کلام کرتا ہے اس لیے کرتا ہے کہ پہچانا جائے۔
پڑھیے

طنز و مزاح

اختلاف زندگی کا حسن ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ہمیشہ ننگا ہی رہنا چاہیے۔

طنز و مزاح

اختلاف زندگی کا حسن ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ہمیشہ ننگا ہی رہنا چاہیے۔
پڑھیے
راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اردو نثر نگار ہیں۔

مکمل فہرستِ نثر
یہ صفحہ اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email