توشہ

آزاد نظم

صبح بابرکت بھی ہے فیاض بھی
رزق جب بٹتا ہے مخلوقات میں
مائدہ بھی ہے
من و سلویٰ بھی ہے
اور کچرا گھر کا توشہ دان بھی

دیکھتی کیا ہے نگاہِ کم نصیب
خطِ غربت سے کہیں نیچے غریب
پانچ چھے بچے کھڑے ہیں کچرا گھر کے ڈھیر پر
بدبوئیں ہیں گندگی ہے ہر طرف
پھر بھی ان کا رزق ہے ان کا ہدف
چند باسی نان ان کو کیا ملے
اس خوشی میں کھل گئے
سب کے سب پژمردہ چہرے
دیدنی ہے زرد پھولوں پر بہار

حمد ہے پروردگار!

عین اسی لمحے نمازی مرکزی مسجد سے نکلے
ایک انبوہِ علیینِ صفا
پیش منظر پر اچانک آ گیا
دوڑ پڑتے ہیں وہ گھبرائے ہوئے
جیسے چوری کر رہے ہوں زندگی کی اک سویر

آہ یہ انبوہِ آدم
آہ یہ کوڑے کا ڈھیر

اظہارِ برأت

معاصرین کی نگارشات کی اردو گاہ پر اشاعت کسی قسم کی توثیق کے مترادف نہیں۔ تمام مصنفین اپنے خیالات اور پیرایۂ اظہار کے خود ذمہ دار ہیں۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!