ہم کوئی آسماں بسر بھی نہیں

غزل

ہم کوئی آسماں بسر بھی نہیں
گھر فقیروں کا خاک پر بھی نہیں

بےنیازی ہے اس کی کیا کہیے
وہ خدا ہے تو بےخبر بھی نہیں

آ تو بیٹھا ہوں رہگزر میں مگر
اس طرف اس کی رہگزر بھی نہیں

وہ سبک رو نظر سے آگے تھا
اس میں کوتاہئ نظر بھی نہیں

اب خدا سے کسی کو عشق تو کیا
اب کسی کو خدا کا ڈر بھی نہیں

‘ہے خبر گرم ان کے آنے کی’
یہ خبر اتنی معتبر بھی نہیں

دیکھ میں بوڑھا ہو چلا ہوں ظفرؔ
زندگی اتنی مختصر بھی نہیں

اظہارِ برأت

معاصرین کی نگارشات کی اردو گاہ پر اشاعت کسی قسم کی توثیق کے مترادف نہیں۔ تمام مصنفین اپنے خیالات اور پیرایۂ اظہار کے خود ذمہ دار ہیں۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ