دو گھڑی کی اور مہلت ہے ذرا جلدی کرو

غزل

دو گھڑی کی اور مہلت ہے ذرا جلدی کرو
اتنی فرصت بھی غنیمت ہے ذرا جلدی کرو

روٹھ کر جانے لگی دوشیزۂ عمرِ رواں
آخری بوسے کی چاہت ہے ذرا جلدی کرو

حشر برپا کر رہا ہے پھر جمالِ فتنہ خیز
چشم. غرقِ بحرِ حیرت ہے. ذرا جلدی کرو

بادۂ سر مست چشمِ گل رخاں کے فیض سے
زندگی میں کچھ حرارت ہے ذرا جلدی کرو

پھر وہی کاجل بھری آنکھیں وہی زلفِ سیاہ
یہ شبِ ظلمت قیامت ہے ذرا جلدی کرو

پھر اسی شیریں سخن سے ہم کلامی کا ہے شوق
کچھ تو شعروں میں حلاوت ہے ذرا جلدی کرو

روح کے آتش کدے میں پھر وہی رقص شرر
پھر وہی سامان وحشت ہے ذرا جلدی کرو

منزلِ شہرِ خموشاں آ گئی نزدیک تر
چند قدموں کی مسافت ہے ذرا جلدی کرو

تھی مگر اب تو گنہ میں بھی کوئی لذت نہیں
یہ بھی اک اندازِ وحشت ہے ذرا جلدی کرو

پھر جمالِ یار ہے آئینۂ حسنِ خیال
پھر وہی کثرت میں وحدت ہے ذرا جلدی کرو

یہ جو ہیں دو چار سانسیں یہ جو ہیں اک دو قدم
قرض مجھ پر ان کی قیمت ہے ذرا جلدی کرو

آرزو نقویؔ سے گر ملنے کی ہے مل لو. کہ وہ
محرمِ رمزِ ولایت ہے ذرا جلدی کرو

اظہارِ برأت

معاصرین کی نگارشات کی اردو گاہ پر اشاعت کسی قسم کی توثیق کے مترادف نہیں۔ تمام مصنفین اپنے خیالات اور پیرایۂ اظہار کے خود ذمہ دار ہیں۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!