رستاخیز

آزاد نظم

یہ جو لغزشوں کے ہیں سلسلے کوئی ان کا روزِ شکست ہو
مرے مہرباں کوئی دن تو ہو
کوئی ایسا دن
کوئی دن کہ جب ترا امتحاں مری خستگی کا بھرم رکھے
مری بے بسی نہ عیاں کرے
مری بے دلی کو نہ جوش دے
مری یاسِ خفتہ کی نیند میں بھی مخل نہ ہو
کوئی سرخوشی کوئی حوصلہ کوئی گوشِ نالہ نیوش دے
کوئی ایسا دن مرے مہرباں
تری حشر خیز عداوتوں سے مرا وجود بکھر چکا
تری منصفی کے اصول بھی تو ہیں خشمناک مرے لیے
ترا کون سا وہ سوال ہے کہ جو رشکِ زلفِ دوتا نہیں؟
یہ جو کشمکش سی ہے درمیاں یہ بھی فرقتوں سے جدا نہیں
یہ جو لغزشوں کے ہیں سلسلے انھیں انتصار میں ڈھال کر
کسی ایک روزِ حساب کو کبھی رشکِ صبحِ وصال کر

اظہارِ برأت

معاصرین کی نگارشات کی اردو گاہ پر اشاعت کسی قسم کی توثیق کے مترادف نہیں۔ تمام مصنفین اپنے خیالات اور پیرایۂ اظہار کے خود ذمہ دار ہیں۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ