صحنِ گلشن میں شام کی
اُس نے حُجت تمام کی
شہر کا شہر اُمڈ پڑا
کس نے خواہش غلام کی
جِسم دنیا کے کام کا
جان دِلبر کے نام کی
تِیرہ و تار تھا جہاں
روشنی ہم نے عام کی
آہ تک ہم نے عشق میں
اپنے اوپر حرام کی
صحنِ گلشن میں شام کی
اُس نے حُجت تمام کی
شہر کا شہر اُمڈ پڑا
کس نے خواہش غلام کی
جِسم دنیا کے کام کا
جان دِلبر کے نام کی
تِیرہ و تار تھا جہاں
روشنی ہم نے عام کی
آہ تک ہم نے عشق میں
اپنے اوپر حرام کی
معاصرین کی نگارشات کی اردو گاہ پر اشاعت کسی قسم کی توثیق کے مترادف نہیں۔ تمام مصنفین اپنے خیالات اور پیرایۂ اظہار کے خود ذمہ دار ہیں۔
عصرِ حاضر کے اردو ادیبوں کی منتخب نگارشات۔ غزلیں، نظمیں، مضامین، انشائیے، شذرات اور بہت کچھ۔ جدید اردو ادب!