مواد پر جائیں۔
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
اردو گاہ
  • زبان

    فرہنگِ آصفیہ

    • لغت
    • تعارف
    • معروضات
    • لغت
    • تعارف
    • معروضات

    املا نامہ

    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب
    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب

    اردو محاورات

    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع
    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع

    اردو عروض

    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
  • کلاسیک

    ادبِ عالیہ

    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت
    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت

    لہجہ

    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
  • حکمت

    اقوالِ زریں

    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان
    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان

    ضرب الامثال

    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
  • نظم و نثر

    اردو شاعری

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    زار

    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف
    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف

    اردو نثر

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    کیفیات

    • کیفیت نامے
    • کیفیت نامے
  • معاصرین

    معاصرین

    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت
    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت

نظم و ضبط

ابو الحسینی

افسانہ

غیر فوجی مینیجنگ ڈائریکٹر کے جانے اور بریگیڈیئر صاحب کے آنے سے یوں تو فیکٹری کی پیداوار میں کوئی خاص اضافہ نہ ہوا۔۔ لیکن نظم و ضبط مثالی ہو گیا۔ صفائی کا عملہ فجر کے وقت سے ہی پیلی پیلی وردیوں میں ملبوس سڑکیں چمکانے لگتا۔۔ مالی منہ اندھیرے ہی کیاریوں میں کام کرتے نظر آتے۔۔ مزدور طبقہ بھی وقت پر آتا وقت پر جاتا۔۔۔ ٹھیک آٹھ بجے فیکٹری کا گیٹ بند ہو جاتا تھا۔ اب نہ کوئی آسکتا تھا نہ جا سکتا تھا۔ یعنی کہ بریگیڈیئر صاحب کی اجازت کے بنا چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تھی۔

بریگیڈیئر صاحب کے دفتر کے باہر ہر وقت اردلی چوکنا بیٹھا رہتا، گھنٹی کی گونج ختم ہونے سے پہلے ہی اردلی میز کے سامنے جن کی طرح حاضر ہو جاتا۔ اور پیچھے پیچھے پی اے صاحب بھی کاپی پنسل سنبھالے آ کھڑے ہوتے۔ جس کو بڑے صاحب کے دفتر سے بلاوا آجاتا اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے۔ بڑے بڑوں کو منہ ہی منہ میں کوئی وظیفہ پڑھتے دفتر میں جاتے دیکھا ہے۔ اور اکثر بھاگ کر نکلتے بھی دیکھا ہے کیونکہ صاحب اکثر غصے میں نوٹ پیڈ پیالی پین جیسی چیزیں معتوب الیہ کو مار بھی دیتے تھے۔ جب دھاڑتے تھے تو کھڑکیوں کے شیشے اور بہتوں کے ہاتھ پاؤں بھی کانپتے تھے۔

صاحب کے آتے ہی دفتر والوں نے صاحب کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دعوت کا اہتمام کیا تھا۔ صاحب کو تقریر کیلئے بلایا گیا تو انہوں نے نہایت صاف الفاظ میں سب پر واضح کر دیا تھا کہ ان سے کسی قسم کی رعایت کی امید نہ رکھی جاۓ۔ اور اپنے وعدے کے عین مطابق انہوں نے جس کسی سے بھی معمولی سی بھی غلطی ہوتی سخت سزا دینا شروع کر دی۔ جو ایک آدھ بندہ نہ سدھرا اس کی ٹرانسفر کراچی کر دی گئی۔ غیر حاضری لگانا۔۔ دفتر کے اوقات کے بعد بھی روک لینا۔ اضافی کام تھما دینا ۔۔ تنخواہ کاٹ لینا۔۔ اور چھٹی بند کر دینا عمومی سزائیں تھیں۔۔ لیکن سب سے گھناؤنی سزا۔۔ سارے دفتر کو جمع کر کے ان سب کے سامنے ذلیل و خوار کرنا تھی۔ جس سے بڑے بڑے سورماؤں کا پِتہ پانی ہوتا تھا۔ بریگیڈیئر صاحب تذلیل کے نِت نئے طریقے ڈھونڈتے رہتے تھے۔ کبھی تو سب کو جمع کر کے ملزم یا مجرم کو ان کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی صفائی پیش کرنے کا یا اعترافًِ جرم کرنے کا موقع دیتے۔ یا سامنے بٹھا کر خود بھی کھڑے ہو جاتے اور فرماتے آج سے آپ میری سیٹ سنبھالیں میں آپ کی جگہ کام کروں گا۔

اور تو سب ٹھیک تھا ۔۔ لیکن فیکٹری کی پیداوار پہلے سے کچھ کم ہی ہو گئی تھی۔ پروڈکشن مینیجر ہر وقت زیرًِ عتاب رہتے تھے۔۔ مگر پیداوار بڑھنے کا نام ہی نہ لیتی تھی ۔۔ آخر فیکٹری خسارے میں جانے لگی۔ اور ایک دن کسی جنرل صاحب کے آنے کی خبر ملی کہ اگلے ماہ جنرل صاحب تشریف لائیں گے۔۔

بس پھر کیا تھا مزدوروں کی سختی آ گئی۔۔ نظم و ضبط میں فیکٹری گوانتانامو بے جیل سے بھی چار ہاتھ آگے نکل گئی۔۔ زبردستی اضافی کام کروایا جانے لگا۔۔دیواروں فرشوں کی مرمت کی گئی۔۔ ہر جگہ نیا رنگ و روغن کیا گیا۔۔ دفتروں کا فرنیچر پالش کروایا گیا، وردیاں نئی دی گئیں۔۔ مشینوں کو صاف ستھرا کیا گیا۔ گملے اور تزئین آرائش کی ڈھیروں چیزیں لائی گئیں ۔۔ راستے آراستہ کئے گئے راستے کی نشاندہی شروع میں چونے سے اور آخر میں سرخ قالین سے کی گئی تھی ۔۔گویا ساری فیکٹری بالکل نئی نویلی دلہن کی طرح سجائی گئی تھی۔

جنرل صاحب تشریف لائے۔

پُر تکلف کھانا کھایا۔۔ گھوم پھر کر فیکٹری کو دیکھا۔۔ نظم و ضبط کی تعریف کی ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یاد داشت کی کتاب میں تعریفی کلمات بھی لکھے اور چلے گئے۔

حالات بدستور ہی رہے۔

حکومت نے جب مسلسل خسارے کی وجوہات پوچھیں تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ عملہ ضرورت سے زیادہ ہے۔ یوں 30 فی صد عملہ وقت سے پہلے ہی جبری سبکدوش کر دیا گیا۔ باقی کے سر پر بھی معاہدے کی تلوار لٹکا دی گئی۔

اب کی بار فیکٹری کی پیداوار میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ یعنی کہ پیداوار پہلے سے بھی کم ہو گئی۔

اب وزیر اعظم صاحب نے فیکٹری کا دورہ کیا ۔۔ پہلے سے بھی زیادہ تیاری کی گئی وزیر اعظم صاحب نے بھی نظم و ضبط کی تعریف کی ۔۔ اور بریگیڈیئر صاحب کی تجویز پر فیکٹری کی نجکاری کا اعلان کر دیا۔

اظہارِ برأت

معاصرین کی نگارشات کی اردو گاہ پر اشاعت کسی قسم کی توثیق کے مترادف نہیں۔ تمام مصنفین اپنے خیالات اور پیرایۂ اظہار کے خود ذمہ دار ہیں۔

Prevپچھلی اشاعتانا الحق
اگلی اشاعتکھوجے ماروں کی مشکلاتNext

تبصرہ کیجیے

اظہارِ خیال

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل کا پتا شائع نہیں کیا جائے گا۔ تبصرہ ارسال کرنے کے لیے * کے نشان والے خانے پر کرنا ضروری ہے۔

معاصرین

عصرِ حاضر کے اردو ادیبوں کی منتخب نگارشات۔ غزلیں، نظمیں، مضامین، انشائیے، شذرات اور بہت کچھ۔ جدید اردو ادب!

آپ کے لیے

میں زرد پتوں کا باغباں ہوں

معاصر ادب
  • حماد رزاق
  • آزاد نظم

ختم کر دوں جھِجک، نڈر کر دوں

معاصر ادب
  • حسنین شہزادؔ
  • غزل

کیا بازی کہیں، کیا ہاری ہے

معاصر ادب
  • حسنین شہزادؔ
  • غزل

دو گھڑی کی اور مہلت ہے ذرا جلدی کرو

معاصر ادب
  • نواب نقوی
  • غزل

تازہ ترین

بھوک

معاصر ادب
  • حماد رزاق
  • آزاد نظم

دل میں اور نگاہوں میں

معاصر ادب
  • ماہم حیا صفدر
  • غزل

چاند ہر رات محبت سے اُسے دیکھتا ہے

معاصر ادب
  • ماہم حیا صفدر
  • غزل

جمتی نہیں ہماری نگر میں کسی کے ساتھ

معاصر ادب
  • ماہم حیا صفدر
  • غزل
ہمارا ساتھ دیجیے

اردو گاہ کے مندرجات لفظاً یا معناً اکثر کتب، جرائد، مقالات اور مضامین وغیرہ میں بلاحوالہ نقل کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی مراسلے کی اصلیت و اولیت کی بابت تردد کا شکار ہیں تو براہِ کرم اس کی تاریخِ اشاعت ملاحظہ فرمائیے۔ توثیق کے لیے web.archive.org سے بھی رجوع لایا جا سکتا ہے۔

© 2022 - جملہ حقوق محفوظ ہیں۔