مواد پر جائیں۔
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
اردو گاہ
  • زبان

    فرہنگِ آصفیہ

    • لغت
    • تعارف
    • معروضات
    • لغت
    • تعارف
    • معروضات

    املا نامہ

    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب
    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب

    اردو محاورات

    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع
    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع

    اردو عروض

    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
  • کلاسیک

    ادبِ عالیہ

    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت
    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت

    لہجہ

    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
  • حکمت

    اقوالِ زریں

    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان
    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان

    ضرب الامثال

    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
  • نظم و نثر

    اردو شاعری

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    زار

    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف
    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف

    اردو نثر

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    کیفیات

    • کیفیت نامے
    • کیفیت نامے
  • معاصرین

    معاصرین

    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت
    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت

بچے

پطرس بخاری

تحت اللفظ

نثر

یہ تو آپ جانتے ہیں کہ بچوں کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلاً بلی کے بچے، فاختہ کے بچے وغیرہ۔ مگر میری مراد صرف انسان کے بچوں سے ہے جن کی ظاہراً تو کئی قسمیں ہیں، کوئی پیارا بچہ ہے اور کوئی ننھا بچہ ہے۔ کوئی پھول سا بچہ ہے اور کوئی چاند سا بچہ ہے۔ لیکن یہ سب اس وقت تک کی باتیں ہیں جب تک برخوردار پنگوڑے میں سویا پڑا ہے۔ جہاں بیدار ہونے پر بچے کے پانچوں حواس کام کرنے لگے، بچے نے ان سب خطابات سے بےنیاز ہو کر ایک الارم کلاک کی شکل اختیار کرلی۔

یہ جو میں نے اوپر لکھا ہے کہ بیدار ہونے پر بچے کے پانچوں حواس کام کرنے لگ جاتے ہیں، یہ میں نے اور حکما کے تجربات کی بنا پر لکھا ہے ورنہ حاشا وکلا میں اس بات کا قائل نہیں۔ کہتے ہیں بچہ سنتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے لیکن مجھے آج تک سوائے اس کی قوتِ ناطقہ کے اور کسی قوت کا ثبوت نہیں ملا۔ کئی دفعہ ایسا اتفاق ہوا ہے کہ روتا ہوا بچہ میرے حوالے کر دیا گیا ہے کہ ذرا اسے چپ کرانا۔ میں نے جناب اس بچے کے سامنے گانے گائے ہیں، شعر پڑھے ہیں، ناچ ناچے ہیں، تالیاں بجائی ہیں، گھٹنوں کے بل چل کر گھوڑے کی نقلیں اتاری ہیں، بھیٹر بکری کی سی آوازیں نکالی ہیں، سر کے بل کھڑے ہو کر ہوا میں بائیسکل چلانے کے نمونے پیش کیے ہیں۔ لیکن کیا مجال جو اس بچے کی یکسوئی میں ذرا بھی فرق آیا ہو۔ یا جس سر پر اس نے شروع کیا تھا اس سے ذرا بھی نیچے اترا ہو۔ اور خدا جانے ایسا بچہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے تو کس وقت؟

بچے کی زندگی کا شاید ہی کوئی لمحہ ایسا گزرتا ہو جب اس کے لئے کسی نہ کسی قسم کا شور ضروری نہ ہو۔ اکثر اوقات تو وہ خود ہی سامعہ نوازی کرتے رہتے ہیں ورنہ یہ فرض ان کے لواحقین پر عائد ہوتا ہے۔ ان کو سلانا ہو تو لوری دیجیے۔ ہنسانا ہو تو مہمل سے فقرے بےمعنی سے بےمعنی منہ بنا کربلند سے بلند آواز میں ان کے سامنے دہرائیے۔ اور کچھ نہ ہو تو شغلِ بےکاری کے طور پر ان کے ہاتھ میں ایک جھنجھنا دے دیجیے۔

یہ جھنجھنا بھی کم بخت کسی بےکار کی ایسی ایجاد ہے کہ کیا عرض کروں۔ یعنی ذرا سا آپ ہلا دیجیے، لڑھکتا چلا جاتا ہے او رجب تک دم میں دم ہے اس میں سے ایک ایسی بےسری، کرخت آواز متواتر نکلتی رہتی ہے کہ دنیا میں شاید اس کی مثال محال ہے۔ اور جو آپ نے مامتا یا باپتا کے جوش میں آکر برخوردار کو ایک عدد وہ ربڑ کی گڑیا منگوا دی، جس میں ایک بہت ہی تیز آواز کی سیٹی لگی ہوتی ہے تو بس پھر خدا حافظ۔ اس سے بڑھ کر میری صحت کے لیے مضر چیز دنیا میں اور کوئی نہیں۔ سوائے شاید اس ربڑ کے تھیلے کے جس کے منہ پر ایک سیٹی دار نالی لگی ہوتی ہے اور جس میں منہ سے ہوا بھری جاتی ہے۔

خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو والدین کہلاتے ہیں۔ بدقسمت ہیں تو وہ بےچارے جو قدرت کی طرف سے اس ڈیوٹی پر مقرر ہوئے ہیں کہ جب کسی عزیز یا دوست کے بچے کو دیکھیں تو ایسے موقع پر ان کے ذاتی جذبات کچھ ہی کیوں نہ ہوں، وہ یہ ضرور کہیں کہ کیا پیارا بچہ ہے۔

میرے ساتھ کے گھر ایک مرزا صاحب رہتے ہیں۔ خدا کے فضل سے چھ بچوں کے والد ہیں۔ بڑے بچے کی عمر نو سال ہے۔ بہت شریف آدمی ہیں۔ ان کے بچے بھی بےچارے بہت ہی بےزبان ہیں۔ جب ان میں سے ایک روتا ہے تو باقی کے سب چپکے بیٹھے سنتے رہتے ہیں۔ جب وہ روتے روتے تھک جاتا ہے تو ان کا دوسرا برخوردار شروع ہو جاتا ہے۔ وہ ہار جاتا ہے تو تیسرے کی باری آتی ہے۔ رات کی ڈیوٹی والے بچے الگ ہیں۔ ان کا سر ذرا باریک ہے۔ آپ انگلیاں چٹخوا کر، سر کی کھال میں تیل جھسوا کر، کانوں میں روئی دے کر، لحاف میں سر لپیٹ کر سوئیے، ایک لمحے کے اندر آپ کو جگا کے اٹھا کے بٹھا نہ دیں تو میرا ذمہ۔

انھی مرزا صاحب کے گھر پرجب میں جاتا ہوں تو ایک ایک بچے کو بلا کر پیار کرتا ہوں۔ اب آپ ہی بتائیے میں کیا کروں۔ کئی دفعہ دل میں آیا مرزا صاحب سے کہوں، حضرت! آپ کی ان نغمہ سرائیوں نے میری زندگی حرام کر دی ہے۔ نہ دن کو کام کرسکتا ہوں نہ رات کو سوسکتا ہوں۔ لیکن یہ میں کہنے ہی کو ہوتا ہوں کہ ان کا ایک بچہ کمرے میں آجاتا ہے اور مرزا صاحب ایک والدانہ تبسم سے کہتے ہیں۔’’ اختر بیٹا! ان کو سلام کرو، سلام کرو بیٹا۔ ان کا نام اختر ہے۔ صاحب، بڑا اچھا بیٹا ہے۔ کبھی ضد نہیں کرتا، کبھی نہیں روتا، کبھی ماں کو دق نہیں کرتا۔‘‘ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ وہی نالائق ہے جو رات کو دو بجے گلا پھاڑ پھاڑ کے روتا ہے۔ مرزا صاحب قبلہ تو شاید اپنے خراٹوں کے زور شور میں کچھ نہیں سنتے، بدبختی ہماری ہوتی ہے۔ لیکن کہتا یہی ہوں کہ ’’یہاں آؤ بیٹا‘‘ گھٹنے پر بٹھا کر اس کا منہ بھی چومتا ہوں۔

خدا جانے آج کل کے بچے کس قسم کے بچے ہیں۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہم بقرعید کو تھوڑا سا رولیا کرتے تھے۔ اور کبھی کبھار کوئی مہمان آنکلا تو نمونے کے طور پر تھوڑی سی ضد کرلی کیونکہ ایسے موقع پر ضد کارآمد ہوا کرتی تھی۔ لیکن یہ کہ چوبیس گھنٹے متواتر روتے رہیں، ایسی مشق ہم نے کبھی بہم نہ پہنچائی تھی۔

  • سپاٹیفائی
  • یوٹیوب
  • پوڈ کاسٹ
Prevپچھلی پیشکشبری اور بھلی سب گزر جائے گی
اگلی پیشکشمیں اسے واقفِ الفت نہ کروںNext

تبصرہ کیجیے

اظہارِ خیال

لہجہ

صوتی ادب۔ اردو کی کلاسیک غزلیں، نظمیں اور نثر پارے راحیلؔ فاروق کی آواز میں سنیے۔ دل آویز نقاشی اور پس پردہ موسیقی کے ساتھ!

آپ کے لیے

مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

پیر نصیر الدین نصیرؔ
  • تحت اللفظ
  • غزل
  • راحیلؔ فاروق
بری اور بھلی سب گزر جائے گی

بری اور بھلی سب گزر جائے گی

الطاف حسین حالیؔ
  • تحت اللفظ
  • غزل
  • راحیلؔ فاروق
خطوطِ غالبؔ - بنام منشی ہرگوپال تفتہ

خطوطِ غالبؔ - بنام منشی ہرگوپال تفتہ

مرزا غالبؔ
  • بلند خوانی
  • نثر
  • راحیلؔ فاروق
بنجارا نامہ - سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا - نظیرؔ اکبر آبادی

بنجارا نامہ

نظیرؔ اکبر آبادی
  • تحت اللفظ
  • نظم
  • راحیلؔ فاروق
لہجہ - اردو گاہ - ربط

مرے ہمدم مرے دوست

فیض احمد فیضؔ
  • تحت اللفظ
  • راحیلؔ فاروق
ہمارا ساتھ دیجیے

اردو گاہ کے مندرجات لفظاً یا معناً اکثر کتب، جرائد، مقالات اور مضامین وغیرہ میں بلاحوالہ نقل کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی مراسلے کی اصلیت و اولیت کی بابت تردد کا شکار ہیں تو براہِ کرم اس کی تاریخِ اشاعت ملاحظہ فرمائیے۔ توثیق کے لیے web.archive.org سے بھی رجوع لایا جا سکتا ہے۔

© 2022 - جملہ حقوق محفوظ ہیں۔