چل دل اس کی گلی میں رو آویں

تحت اللفظ

چل دل اس کی گلی میں رو آویں
کچھ تو دل کا غبار دھو آویں

گو ابھی آئے ہیں یہ ہے جی میں
پھر بھی ٹک اس کے پاس ہو آویں

دل کو کھویا ہے کل جہاں جا کر
جی میں ہے آج جی بھی کھو آویں

پند گو میرا مغز کھانے کو
کاش آویں تو ایک دو آویں

ہم تو باتوں میں رام کر لیں انھیں
یہ بتاں اپنے پاس جو آویں

گو خفا ہی ہوا کرے پر ہم
اک ذرا اس کو دیکھ تو آویں

جب ہم آویں تو اپنے دل میں رکو
اور نہ آویں تو پھر کہو آویں

باز آئے ہم ایسے آنے سے
ہاں جو واقف نہ ہوویں سو آویں

کب تلک اس گلی میں روز حسنؔ
صبح کو جاویں شام کو آویں

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ