کوچۂ یار میں اب جانے گزر ہو کہ نہ ہو

تحت اللفظ

کوچۂ یار میں اب جانے گزر ہو کہ نہ ہو
وہی وحشت وہی سودا وہی سر ہو کہ نہ ہو

جانے اک رنگ سا اب رخ پہ ترے آئے نہ آئے
نفسِ شوق سے گل شعلۂ تر ہو کہ نہ ہو

اب مسلسل بھی جو دھڑکے دلِ ناشاد مرا
کس کو معلوم ترے دل کو خبر ہو کہ نہ ہو

قہر میں لطف میں مدہوشی و ہشیاری میں
وہ مرے واسطے تخصیصِ نظر ہو کہ نہ ہو

ہجر کی رات تھی امکانِ سحر سے روشن
جانے اب اس میں وہ امکانِ سحر ہو کہ نہ ہو

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!