عشق کے مراحل میں وہ بھی وقت آتا ہے

تحت اللفظ

عشق کے مراحل میں وہ بھی وقت آتا ہے
آفتیں برستی ہیں دل سکون پاتا ہے

آزمائشیں اے دل سخت ہی سہی لیکن
یہ نصیب کیا کم ہے کوئی آزماتا ہے

عمر جتنی بڑھتی ہے اور گھٹتی جاتی ہے
سانس جو بھی آتا ہے لاش بن کے جاتا ہے

آبلوں کا شکوہ کیا ٹھوکروں کا غم کیسا
آدمی محبت میں سب کو بھول جاتا ہے

کارزارِ ہستی میں عز و جاہ کی دولت
بھیک میں نہیں ملتی آدمی کماتا ہے

اپنی قبر میں تنہا آج تک گیا ہے کون
دفترِ عمل عامرؔ ساتھ ساتھ جاتا ہے

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ