غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا

تحت اللفظ

غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا

قفس لے اڑوں میں ہوا اب جو سنکے
مدد اتنی اے بالِ پرواز دینا

کرے دل کا بیوہار کیا ان سے کوئی
بصد شوق لینا بصد ناز دینا

نہ خاموش رہنا مرے ہم صفیرو
جب آواز دوں تم بھی آواز دینا

کوئی سیکھ لے دل کی بیتابیوں سے
ہر انجام میں رنگِ آغاز دینا

دلیلِ گرانبارئ سنگِ غم ہے
صفیؔ ٹوٹ کر دل کا آواز دینا

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!