میں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے

تحت اللفظ

غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے
ایک دل دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے

ہے حصولِ آرزو کا راز ترکِ آرزو
میں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے

یہ نمازِ عشق ہے کیسا ادب کس کا ادب
اپنے پائے ناز پر کرنے بھی دے سجدہ مجھے

کہہ کے سویا ہوں یہ اپنے اضطرابِ شوق سے
جب وہ آئیں قبر پر فوراً جگا دینا مجھے

صبح تک کیا کیا تری امید نے طعنے دیے
آ گیا تھا شامِ غم اک نیند کا جھوکا مجھے

دیکھتے ہی دیکھتے دنیا سے میں اٹھ جاؤں گا
دیکھتی کی دیکھتی رہ جائے گی دنیا مجھے

جلوہ گر ہے اس میں اے سیمابؔ اک دنیائے حسن
جامِ جم سے ہے زیادہ دل کا آئینہ مجھے

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!