راہ آسان ہو گئی ہو گی

تحت اللفظ

راہ آسان ہو گئی ہو گی
جان پہچان ہو گئی ہو گی

موت سے تیرے درد مندوں کی
مشکل آسان ہو گئی ہو گی

پھر پلٹ کر نگہ نہیں آئی
تجھ پہ قربان ہو گئی ہو گی

تیری زلفوں کو چھیڑتی تھی صبا
خود پریشان ہو گئی ہو گی

ان سے بھی چھین لو گے یاد اپنی
جن کا ایمان ہو گئی ہو گی

دل کی تسکین پوچھتے ہیں آپ
ہاں مری جان ہو گئی ہو گی

مرنے والوں پہ سیفؔ حیرت کیوں
موت آسان ہو گئی ہو گی

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!