آپ بندہ نواز کیا جانیں

تحت اللفظ

ساز یہ کینہ ساز کیا جانیں
ناز والے نیاز کیا جانیں

شمع رو آپ گو ہوئے لیکن
لطفِ سوز و گداز کیا جانیں

کب کسی در کی جبہہ سائی کی
شیخ صاحب نماز کیا جانیں

جو رہِ عشق میں قدم رکھیں
وہ نشیب و فراز کیا جانیں

پوچھیے مے کشوں سے لطفِ شراب
یہ مزہ پاکباز کیا جانیں

جن کو اپنی خبر نہیں اب تک
وہ مرے دل کا راز کیا جانیں

حضرتِ خضر جب شہید نہ ہوں
لطفِ عمرِ دراز کیا جانیں

جو گزرتے ہیں داغؔ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیا جانیں

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

قرأت ہائے تازہ

تنبیہ