پاکستان کے قومی ترانے کی بحر، ہیئت اور زبان

پاک سرزمین شاد باد
كشورِ حسين شاد باد
تو نشانِ عزمِ عالی شان
ارضِ پاکستان

مرکزِ یقین شاد باد

پاک سرزمین کا نظام
قوتِ اخوتِ عوام
قوم ملک سلطنت
پائندہ تابندہ باد

شاد باد منزلِ مراد

پرچمِ ستارہ و ہلال
رہبرِ ترقى و کمال
ترجمانِ ماضی شانِ حال
جانِ استقبال

سایۂ خدائے ذوالجلال

یہ ہے پاکستان کا قومی ترانہ جو ابولاثر حفیظؔ جالندھری نے لکھا اور 13 اگست 1954ء کو خود پہلی بار ریڈیو پاکستان پر پیش بھی کیا۔ شاعری سے دلچسپی رکھنے والے دوست احباب اس کی زبان، ہیئت اور وزن کے بارے میں کافی متجسس رہتے ہیں۔ ہمیں اس ضمن میں تحقیق یا علم کا دعویٰ نہیں مگر جو ذاتی رائے ہم نے قائم کی ہے وہ شعر و ادب کے طلبہ کے سامنے رکھتے ہیں۔

پس منظر

پاکستان کا موجودہ قومی ترانہ قیامِ پاکستان کے سات برس بعد جاری ہوا۔ 1948ء میں جنوبی افریقہ میں مقیم کسی مسلمان نے اعلان کیا کہ وہ مملکتِ خداداد کے لیے قومی ترانہ لکھنے والے شاعر اور اس کی دھن بنانے والے موسیقار کو پانچ پانچ ہزار روپے انعام دیں گے۔ حکومتِ پاکستان نے ایک قومی ترانہ کمیٹی تشکیل دے دی جس کے دو شعبوں نے قومی ترانے کے لیے دھن اور کلام کی جستجو شروع کی۔ دو ایک غیرملکی سربراہانِ مملکت کے دورے ہوئے تو شدت سے محسوس کیا گیا کہ کم از کم دھن جلدی طے ہو جانی چاہیے تاکہ قومی اور عالمی سطح کی تقریبات میں پاکستان کی نمائندگی کا حق ادا ہو سکے۔

یکم مارچ 1950ء میں شاہِ ایران نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس سے پیشتر دھن کی تشکیل کی سرگرمیاں زور پکڑ گئیں اور بالاخر احمد غلام علی چھاگلہ نامی ایک موسیقار کی بنائی ہوئی دھن منتخب کر لی گئی۔ شاہِ ایران کے دورے کے موقع پر قومی ترانے کی موجودہ دھن پہلی بار پیش کی گئی۔

دھن طے ہو چکی تو توجہ بولوں یعنی کلام پر مبذول ہوئی۔ مختلف شعرا کو دھن کے ریکارڈ بھجوائے گئے کہ اس کے مطابق کلام موزوں کریں۔ تین چار برس اس میں بھی لگ گئے۔ بالآخر 1954ء میں حفیظؔ جالندھری مرحوم کا کلام منتخب کر لیا گیا اور پاکستان کا قومی ترانہ اپنی موجودہ شکل میں ظہور پذیر ہوا۔

قومی ترانے کی بحر

شاعرانہ کلام کے سلسلے میں دستور یہ ہے کہ کچھ بحور مقرر ہیں جن پر شعرا شعر کہتے ہیں۔ اشعار کو نغمے کی صورت دینی مقصود ہو تو کلام کے مزاج اور آہنگ سے موافق کوئی دھن ترتیب دے کر اسے گوا لیا جاتا ہے۔ مگر موسیقی کی دنیا میں بہت بار یہ ترتیب الٹ بھی جاتی ہے۔ یعنی اول دھن بنائی جاتی ہے اور بعد میں بول لکھے جاتے ہیں۔ اکثر فلمی نغمہ نگاروں کے لیے یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔

قومی ترانے کے معاملے میں بھی یہی ہوا کہ دھن کو پہلے حتمی شکل دے دی گئی۔ اب شعرا کے لیے ممکن نہ رہا کہ وہ خود معروف یا غیرمعروف بحروں میں سے کوئی من چاہا آہنگ منتخب کر سکیں۔ ان پر لازم تھا کہ ان کے الفاظ کا اتار چڑھاؤ پہلے سے طے شدہ موسیقی کے زیر و بم کے عین مطابق ہو۔ لہٰذا قومی ترانے کے الفاظ کو اس کی دھن کے مطابق تو سمجھا جا سکتا ہے مگر ان کی تقطیع عروضی اعتبار سے کسی معروف بحر میں نہیں کی جا سکتی۔

قومی ترانے کا وزن درحقیقت عروضی کی بجائے موسیقائی ہے۔ ہمارے موسیقار دوستوں کے ہاں یہ چلن عام ہے کہ وہ کوئی اچھی دھن تخلیق کر لیں تو نغمے کے لیے اسی کے مطابق الفاظ ترتیب دے لیتے ہیں یا کسی شاعر سے اس طرح لکھوا لیتے ہیں۔ حفیظؔ جالندھری نے بھی قومی ترانہ لکھتے ہوئے بالکل یہی کیا۔ اگر آپ غور سے سنیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ قومی ترانے کے الفاظ اس کی دھن پر گویا چسپاں کر دیے گئے ہیں۔ اگر کسی مصرعے کے موجودہ وزن میں تھوڑی سی بھی تبدیلی کی جائے تو آہنگ یکلخت بگڑ کر رہ جائے گا اور سارا مزہ کرکرا ہو جائے گا۔

عروضی اعتبار سے قومی ترانے کے مصرعے چار اوزان کا مجموعہ ہیں جنھیں کسی ایک بحر کے طور پر دیکھنا ممکن نہیں۔ یہ چار اوزان اور متعلقہ مصرعے ذیل میں دیے گئے ہیں:

۱ – فاعلن مفاعلن

اس وزن پر قومی ترانے کا صرف ایک مصرع ہے۔

قوم ملک سلطنت

۲- فاعلن مفاعلن فعول

پاکستان کے قومی ترانے کے سب سے زیادہ یعنی گیارہ مصرعے اس وزن پر تقطیع کیے جا سکتے ہیں۔ اس میں پچھلے وزن سے ایک وتد اور ایک حرفِ موقوف زائد ہے۔ تاہم عملی طور پر اس قسم کا آخری حرفِ ساکن یعنی حرفِ موقوف چونکہ عروضی وزن کو متاثر نہیں کرتا اس لیے ہم اسے ایک وتد ہی کا اضافہ قرار دیں گے۔

پاک سرزمین شاد باد

كشورِ حسين شاد باد

تو نشانِ عزمِ عالی شان

مرکزِ یقین شاد باد

پاک سرزمین کا نظام

قوتِ اخوتِ عوام

شاد باد منزلِ مراد

پرچمِ ستارہ و ہلال

رہبرِ ترقى و کمال

ترجمانِ ماض شانِ حال

سایۂ خدائے ذوالجلال

۳- فعلن فعلن فاع

اس وزن پر دو مصرعے ہیں۔

ارضِ پاکستان

جانِ استقبال

۴- فعلن فعلن فعلن فاع

اس وزن پر بھی صرف ایک ہی مصرع قومی ترانے کا حصہ ہے۔ یہ وزن، جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، گزشتہ وزن میں دو اسبابِ خفیف کے اضافے سے صورت پذیر ہوا ہے۔

پائندہ تابندہ باد

مجموعی آہنگ

مذکورہ بالا چار اوزان کو دیکھنے کے بعد جو تاثر قائم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ قومی ترانے میں تمام مصرعے سببِ خفیف سے شروع ہو کر اوتاد اور اسباب کی پےدرپے یا غیرمنفصل تکرار کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ وزن ہائے اول و دوم میں پہلے سبب کے بعد بالترتیب تین اور چار وتد یکے بعد دیگرے آتے ہیں۔ جبکہ تیسرے اور چوتھے وزن میں مسلسل اسبابِ خفیف پائے جاتے ہیں۔ آخری دو اوزان کے آخر کے اجزا گو تکنیکی اعتبار سے وتد کی ایک قسم ہیں جسے وتدِ مفروق کہا جاتا ہے مگر عملی طور پر یہ آخر میں آنے کی وجہ سے سببِ خفیف ہی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

قومی ترانے کی ہیئت

پاکستان کے قومی ترانے کو عام طور پر مخمس قرار دیا جاتا ہے۔ یہ تین بندوں پر مشتمل ہے جن میں سے ہر بند پانچ مصرعوں کا مجموعہ ہے۔ مخمس ایسی ہی نظم کو کہتے ہیں۔

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ اول تو عروضی اعتبار سے اسے نظم کہنا ہی ڈھیلا ڈھالا سا معاملہ ہے۔ عروض میں نظم ایک ہی یا ملتے جلتے اوزان کی تکرار کو کہتے ہیں۔ یہی چیز بحر کی بنیاد ہے۔ نظم کی بحر ایک ہونا لازم ہے، وزن نہیں۔ لہٰذا نظم میں مختلف مصرعوں کے اوازن مختلف ہو سکتے ہیں مگر آہنگ کے لحاظ سے انھیں ضرور بالضرور ایک دوسرے کے قریب ہونا چاہیے تاکہ بحر ایک ہی رہے۔ قومی ترانے میں یہ جوہر نہیں پایا جاتا۔ اس میں چار مذکورہ بالا اوزان تو ہیں مگر انھیں ایک بحر قرار دینا ناممکن ہے۔ بحر نہیں ہو گی تو نظم کاہے کی؟ اور نظم نہیں ہے تو مخمس کہاں سے ہو گئی؟

جیسا کہ ہم نے ابھی ابھی کہا کہ وزن ملتے جلتے یا یکساں اوزان کی تکرار ہے تو اس لحاظ سے قومی ترانے کے اوزان بھی چار کی بجائے صرف دو سمجھنے چاہئیں۔ پہلے اور چوتھے وزن کی تکرار تو ہے ہی نہیں۔ ان میں صرف ایک ایک مصرع پایا جاتا ہے۔ لیکن چونکہ ساخت کے اعتبار سے پہلا وزن دوسرے کے اور چوتھا تیسرے کے مماثل ہے اس لیے رعایت کر کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ قومی ترانے میں دو بحور سے کام لیا گیا ہے۔ نظم کی عروضی تعریف پر یہ پھر بھی پورا نہیں اترتا۔

دوسرا مسئلہ زیادہ صاف ہے۔ مخمس میں مصرعوں کے قافیے ردیف کی کوئی ترتیب ہونا لازم ہے۔ روایتی طور پر پہلے بند کے پانچوں مصرعے ایک زمین میں ہوتے ہیں۔ اگلے تمام بندوں میں پہلے چار مصرعے کسی ایک زمین میں اور پانچواں پھر پہلے بند کی زمین میں ہوتا ہے۔ یہاں زمین سے ہماری مراد بحر، قافیے اور ردیف کی مجموعی صورت ہے۔ قومی ترانہ اس علت سے بھی پاک ہے۔ پہلے بند کے پہلے دو مصرعے ہم قافیہ ہیں۔ پھر اگلے دو مصرعوں کا قافیہ جدا ہے۔ پھر آخری مصرع کی زمین پہلے دو مصرعوں سے مشترک ہے۔ قافیہ دوسرے بند کے چوتھے مصرع سے بھی ملتا ہے۔ وزن اس بند کے پانچویں مصرع سے مشترک ہے۔ دوسرے بند کے پہلے دو مصرعے ایک زمین میں ہیں۔ تیسرے کی ڈیڑھ اینٹ کی جدا مسجد ہے۔ آخری بند کا رنگ بالکل نرالا ہے۔ چوتھا مصرع ایک زمین میں اور باقی دوسری میں ہیں۔ قافیہ البتہ تمام میں مشترک ہے۔

لہٰذا قومی ترانہ کو مخمس کہنا بھی اسی قبیل سے ہے جس سے اسے نظم کہنا ہے۔ لیکن نکتے کی بات یہ ہے کہ مخمس ہونا کوئی ایسا نازک یا اہم معاملہ بہرحال نہیں کہ نہ ہوا تو کوئی قیامت آ جائے گی۔

قومی ترانے کی زبان

کتنے ہیں کہ قومی ترانے کو فارسی قرار دینے پر تلے رہتے ہیں۔ کتنے ہیں کہ اردو کی لغتیں کھول کھول کر دکھاتے ہیں اور "کا” کے لفظ سے اس کے صریح اردو ہونے پر استشہاد کرتے ہیں۔ یقیناً اس سب کے پیچھے بہت سے سیاسی اور سماجی محرکات ہیں مگر خالصتاً زبان کا مسئلہ دیکھا جائے تو وہ بہت سادہ ہے۔

سمجھنے کی بات ہے کہ چائے کو چائے قرار دینے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس میں دودھ کے وجود سے منکر ہو جائیں۔ ہم سے کل ہی ایک مسیحا نے کہا کہ تمھیں دودھ راس نہیں۔ ددودھ اور اس سے بنی تمام چیزیں کھانی پینی چھوڑ دو۔ چائے بھی۔ اللہ اکبر!

چائے تو خیر ہم سے تھانے والے بھی نہیں چھڑوا سکتے مگر کہنا یہ مراد ہے کہ جس طرح دودھ اور چائے میں دودھ مشترک ہے اسی طرح فارسی اور اردو میں قومی ترانے کی زبان مشترک ہے۔ خالص اردو کے واحد لفظ "کا” کے سوا جو دوسرے بند کے پہلے مصرع میں آتا ہے، تمام ترانہ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں سمجھا جا سکتا ہے۔ ہاں البتہ آپ میٹرک میں اردو کے پرچے میں نقل لگا کر کامیاب ہوئے ہوں یا میٹرک ہی کا تکلف نہ فرمایا ہو تب یہ یقیناً آپ کو فارسی معلوم ہو گا۔

تو پھر ہے کیا قومی ترانہ؟

ہماری دانست میں اسلامی جمہوریۂِ پاکستان کے قومی ترانے کو کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ ایک ترانہ یا گیت ہی سمجھنا چاہیے۔ گیت کے لیے دھن کا احترام عروض کی حرمت پر فائق ہے۔ اور یہ گیت جسے اہلِ وطن قومی ترانہ کہتے ہیں بلاشبہ ایک بےنظیر اور بےمثل زمزمہ ہے جس میں مشرقی روایت کی نغمگی کے ساتھ ساتھ ایک گونہ وقار، تمکنت اور شان بھی موجود ہے اور ایک اسلامی مملکت کی تاریخ اور تمدن کا گہرا شعور بھی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ قومی ترانہ کمیٹی کو پیش کیے گئے باقی ترانے کس قسم کے تھے مگر جو انھوں نے ہمارے لیے منتخب فرمایا ہے وہ سچ مچ ہمارے دلوں کی دھڑکن اور ہمارے تمدن کے جلال کا آئینہ دار کہلانے کا حق رکھتا ہے۔

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے عروض فہم ہیں۔

تمام عروضی نگارشات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مراسلے کے؟