اردو بول چال کے پیمانے اور عروض سے ان کا تعلق

اردو عروض

زبان و ادب کو سمجھنے کے سلسلے میں بول چال کی اساسی اہمیت پر ہم کئی بار گفتگو کر چکے ہیں۔ ہم نے مختصراً یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ اردو جیسی زبانوں کے معاملے میں بول چال بھی عوام کی نہیں بلکہ اہلِ زبان کی یا یوں کہہ لیجیے کہ شائستہ، خواندہ اور مہذب لوگوں کی مستند اور معتبر ہے۔ آج ہم اسی بارے میں کسی قدر تفصیل سے بات کریں گے اور کچھ اصولی اور کچھ عملی گزارشات پیش کریں گے۔

دنیا کی زیادہ تر زبانیں روایتی طور پر دیہی، قصباتی اور نیم متمدن معاشروں میں آزادانہ نموپزیر ہوتی رہی ہیں۔ کسی علاقے کے لوگ جب باقی دنیا سے کٹ کر ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں تو ابلاغ اپنی کامل ترین شکل میں سامنے آتا ہے۔ یہی زبان ہے اور اسی کی ایک ارفع شکل ادب ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی تمدن کا فروغ، ترقی اور عالم گیریت زبان اور ادب دونوں کے لیے مہلک ثابت ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نئے نئے لوگوں سے میل جول اور رنگ برنگی روایات و معمولات ثقافت اور تمدن کو تبدیل ہونے پر مجبور کرتے ہیں جس کے سبب الفاظ رفتہ رفتہ ان معانی سے محروم ہو جاتے ہیں جن پر ابلاغ اور ادب کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر زبانوں کے بہترین بولنے والے شہروں میں نہیں بلکہ دیہات میں پائے جاتے ہیں۔ عربی میں بدوؤں کی زبان معتبر ہے اور برطانوی انگریزی کا معیاری تلفظ ایک گاؤں کے لوگوں کی بول چال سے ماخوذ ہے۔

اردو کا معاملہ زبانوں کی اس عام روش سے مختلف ہے۔ یہ اصلاً کسی معاشرے اور تمدن کی نہیں بلکہ لشکروں کی زبان ہے۔ برصغیر کے کسی خطے میں اس کا ارتقا ایک علاقے کی زبان کے طور پر نہیں ہوا بلکہ یہ تب پیدا ہوئی جب ہر طرف سے یورش کر آنے والے مختلف النسل لوگوں نے مقامی لوگوں سے راہ و رسم پیدا کی۔ اگر برصغیر کو سونے کی چڑیا سمجھ کر چڑھ دوڑنے والے حریص طالع آزما نہ ہوتے تو اردو بھی نہ ہوتی۔ یہ لشکروں، منزلوں، خیمہ گاہوں، شہروں، بازاروں اور عوامی مقامات پر رابطے کی ٹوٹی پھوٹی زبان کے سوا کچھ نہ تھی جو "کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا” کے مصداق نہ فطری طور پر پیدا ہوئی تھی اور نہ بولی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پرانے شاعروں کو اردو میں شعر کہنا زیادہ پسند نہیں رہا۔ وہ اسے بازاری اور سوقیانہ زبان سمجھتے تھے۔

پھر رفتہ رفتہ یہ ہوا کہ جن علاقوں میں فاتحین باقاعدہ بس گئے یا انھیں پایۂِ تخت بنا لیا وہاں اردو کی حیثیت ناگزیر طور پر مستحکم ہونے لگی۔ خواص کے لیے بھی اس کے بغیر کام چلانا ممکن نہ رہا اور یتیم اور لاوارث بچوں کی طرح گلی کوچوں میں پرورش پانے والی یہ زبان محلات اور قلعوں نے گود لے لی۔ شائستگی اور تہذیب کی منزلیں طے ہوتے ہوتے زبان و ادب کے نخلستان نمودار ہونا شروع ہوئے تو اردو اردوئے معلّٰی ہو گئی۔ شہری تمدن، میل جول، ہمہ گیریت اور رابطے کی مستند اور طرح دار زبان۔ وہ بولی جو اب دنیا کی تیسری بڑی آبادی سنتی، سمجھتی اور بولتی ہے اور اس کی شیرینی، زندگی اور شستگی کے گن اکنافِ عالم میں گائے جاتے ہیں۔

اب اردو ایک شہری اور مہذب زبان ہے جس کا خمیر کسی علاقے سے نہیں اٹھا اور ہر علاقے سے اٹھا ہے۔ عام زبانوں کے برعکس اردو کے لیے ہم فی زمانہ کسی خاص جگہ یا قوم کے لوگوں کی زبان اور لہجے کو ٹکسالی اور معیاری قرار نہیں دے سکتے۔ اس کا معیار نئی تہذیب کے خالصتاً جدید تصورات پر مبنی ہے۔ پڑھے لکھے، جمال آشنا، جہاں گرد اور سلجھے ہوئے لوگ جس لب و لہجے، تلفظ، محاورے اور طرزِ ادا کو پسند کریں وہ ہے معیاری اردو۔

اس پیمانے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے چند چیزیں ایسی ہیں جو خواص کی بول چال کو عوام کی بولی ٹھولی سے ممتاز کرتی ہیں۔ مثلاً لہجہ، تلفظ، محاورہ اور روزمرہ۔ ان میں سے لہجہ اور تلفظ وہ ہیں جن کا عروض سے براہِ راست تعلق ہے اور ہمیں ان پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ محاورے اور روزمرہ کی نسبت اتنا کہنا فی الحال کافی ہے کہ بازاری الفاظ و تراکیب بولنے اور لکھنے والے لوگ اپنے بگڑے ہوئے ذوق اور گری ہوئی حسِ جمال کے عکاس خود ہوتے ہیں۔ ان کی خرافات پر مداری کے تماشے کی طرح تالیاں تو پیٹی جا سکتی ہیں مگر وہ اثر چاہ کر بھی مرتب نہیں کروایا جا سکتا جو نتھری اور نکھری ہوئی ادبی زبان کے پاکیزہ کلمات دل اور روح پر چھوڑتے ہیں۔

تلفظ اور لہجے کے بارے میں لوگوں کے ہاں انتہا پسندانہ رویے پائے جاتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو ان پڑھ، جاہل اور بےوقوف لوگوں کی طرح منہ چلا کر شاید اس سوقیانہ طرزِ ادا کو جمہوریت کا حسن سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں اس حدیثِ رسولؐ سے زیادہ کچھ نہیں کہا جا سکتا جس کے مطابق جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انھی میں سے ہو گیا۔ دوسرے وہ ہیں جو ابھی تک اردو کو فارسی، عربی، ترکی، انگریزی اور ہندی کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ ہم انھیں پڑھے لکھے مگر گمراہ لوگ خیال کرتے ہیں۔ یہ آپ کو الفاظ کے ایسے ایسے تلفظ اور تجویدیں بتائیں گے کہ آپ اردو بھول جائیں گے۔ اور اردو آپ کو۔ ان سادہ لوح مگر عموماً مخلص لوگوں کو ہم انشاءاللہ خاں انشا کا وہ فیصلہ یاد دلانا چاہتے ہیں جو نہایت فطری اور حکیمانہ بنیادوں پر کیا گیا ہے اور ہر زبان کے لیے اصلِ اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اردو میں موجود اور مستعمل ہر لفظ اردو کا ہے۔ پھر خواہ وہ عربی سے آیا ہو، ترکی سے، فارسی سے، ہندی سے، انگریزی یا کسی اور زبان سے وہ اردو اور اہلِ اردو ہی کے قاعدے کے مطابق بولا، لکھا، پڑھا اور سمجھا جائے گا۔

اب چند عملی نکات کو بھی دیکھ لیا جائے۔ اردو میں حرفِ انکار نہ ہے جو ہندی اور فارسی میں بھی اسی طرح پایا جاتا ہے۔ ہندی والے اسے صرف ایک حرف کے طور پر لکھتے ہیں۔

فارسی میں بھی یہ کبھی دو حرفی لفظ کے طور پر نہیں آتا۔ سادہ لفظوں میں یہ کہنا چاہیے کہ اردو میں نہ کی ہ صرف لکھنے میں موجود ہے اور درست تلفظ اور لہجے کے اصولوں کے تحت بولنے میں نہیں آتی۔ ہم اس کے اصولی اور معیاری وزن کو نَ کے طور پر ظاہر کر سکتے ہیں۔ یعنی نون پر زبر لگا کر۔ اس سے زیادہ کھینچ کر اسے بولنا اور شاعری میں باندھنا جہلا اور بےتمیز لوگوں کا طریقہ ہے۔

اردو میں ایک اور شکل بھی نہ کی رائج ہو گئی ہے جسے نا لکھا اور بولا جاتا ہے۔ یہ انکار کی بجائے اقرار اور تاکید کا مفہوم رکھتا ہے۔ جیسے آؤ گے نا؟ چلیے نا۔ وغیرہ۔ اسے بھی کھینچ کر ادا کرنے کی کوئی ایسی ضرورت اردو کے لہجے میں ہمیں محسوس نہیں ہوئی۔ اساتذہ نے بھی اسے یک حرفی ہی شمار کیا ہے۔ مثلاً غالبؔ کا ایک مصرع ہے:

آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی

اس کا وزن مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن ہے اور نہ کو نا کی بجائے نَ ہی باندھا گیا ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ بازاری، غیرمتمدن اور اجڈ لوگوں کے ہاں جذبات زندگی کی بنیادی قدر کی حیثیت رکھتے ہیں اور جذبات کا ننگا اظہار ہی بول چال کا کمال سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے لہجے اور تلفظ میں غیرمعمولی کھینچا تانی، اتار چڑھاؤ، اٹھا پٹخ اور چیخم دھاڑ کے بغیر کلام کرنا ان کے لیے دشوار ہوتا ہے۔ اردو بولنے والے طبقے میں بھی چونکہ ہر قوم کی طرح ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو نہ کو گھسیٹ کر نا بنا دیا کرتے ہیں اس لیے اس قسم کی بدعات کا چلن ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ تاہم ہم نے جن اصولوں کا اوپر ذکر کیا ہے ان سب کو ذہن میں رکھ کر جب آپ اچھے اردو بولنے والوں کو دیکھیں گے تو معلوم ہو گا کہ اس واہی تباہی کے بغیر بھی نہ صرف گزارا ہو سکتا ہے بلکہ یہی رکھ رکھاؤ درحقیقت اردو کی اصل شائستگی اور نستعلیقیت کا ضامن ہے۔

اسی طرح کہ کو بھی صرف ک متحرک کے وزن پر باندھنا چاہیے نہ کہ دو حرفی لفظ کے طور پر۔ یہ بھی فارسی اور ہندی ہی کی طرح اردو میں ایک مختصر سی آواز ہے جسے کھینچنا درست نہیں۔ اہلِ فارس کہ اور نہ کو اکثر الفاظ کے شروع میں ملا دیا کرتے ہیں جس کے بعد کھینچ کر پڑھنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ جسیے خدانخواستہ کا نہ۔

اسی طرح فارسی اور ہندی سے آئے ہوئے وہ مفرد الفاظ جنھیں اردو میں آخر میں  ئے یا ؤ لکھ کر ظاہر کیا جاتا ہے کھینچ کر نہیں بولے جاتے۔ جیسے چائے، ہائے، پاؤ، گاؤں، چھاؤں، پڑاؤ وغیرہ۔ ان کا ٹھیک تلفظ اور وزن چاےْ، ہاےْ، پاوْ، گانْوْ، چھانْوْ ہے جو فاع کے برابر ہے اور آخری کو پڑاوْ بولنا اور پڑھنا چاہیے جو فعول کے مساوی ہے۔ اردو میں بھی اساتذہ اور اہلِ زبان نے آخر کے بظاہر دو دو حروف کو ہندی اور فارسی کی طرح ایک ایک شمار کیا ہے لہٰذا ہمارے پاس انھیں کھینچنے کر ادا کرنے یا شعر میں باندھنے کا کوئی اصولی اور تہذیبی جواز نہیں۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے عروض فہم۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

متفرق عروضی اصطلاحات

تنبیہ