تنافر کی تعریف، اقسام اور جواز

اردو عروض

تنافر سے مراد عام طور پر کلام میں کسی حرف یا قریب المخرج حروف کی تکرار لی جاتی ہے۔ چونکہ یہ معاملہ بنیادی طور پر شعر کی قرأت سے تعلق رکھتا ہے اس لیے اسے تنافرِ صوتی بھی کہتے ہیں۔ یعنی آواز سے متعلق ناگوار احساس۔

ہمارے نزدیک تنافر ایک وسیع اصطلاح ہے اور اس کی کم از کم پانچ قسمیں ممکن ہیں۔ ذیل میں ان کی تعریف، مختصر بیان اور امثلہ درج کی گئی ہیں۔ تاہم ان کی جانب بڑھنے سے پیشتر ہم مبتدیوں کی سہولت کے لیے کچھ اور بنیادی تصورات کو بھی واضح کرنا چاہتے ہیں جن کے بغیر تنافر کو سمجھنا قدرے مشکل ہے۔ سب سے پہلے تو ہم تنافر کی ایک سادہ اور جامع تعریف کرنا چاہیں گے۔

تنافر کیا ہے؟

کلام میں حروفِ صحیح کا اس طرح پایا جانا کہ اس سے رکاوٹ یا ناگواری کا احساس پیدا ہو تنافر کہلاتا ہے۔ اس لفظ کا مادہ وہی ہے جو نفرت کا ہے۔ تاہم جیسا کہ ہم آگے چل کے دیکھیں گے تنافر کی تمام قسمیں ذوق کے لیے نفرت کا سامان نہیں کرتیں۔

پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ حروف اپنے مخرج کے اعتبار سے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ حروفِ علت اور حروفِ صحیح۔ حروفِ علت وہ ہیں جو زبان، حلق یا ہونٹوں سے پیدا ہونے والی کسی رکاوٹ کے بغیر ادا ہو جائیں۔ الف، واؤ اور یے حروفِ علت ہیں۔ یہ آوازیں گلے سے براہِ راست ادا ہوتی ہیں اور ان کی تشکیل کے لیے اعضائے دہن کو کوئی خاص کام نہیں کرنا پڑتا۔

حروفِ صحیح وہ ہیں جن میں آواز گلے سے براہِ راست برآمد ہونے کی بجائے زبان، ہونٹوں اور حلق کے مختلف حالتیں اختیار کرنے کے سبب رک کر، بل کھا کر یا گھسٹ کر نکلتی ہے۔ حروفِ علت کے سوا تمام حروف حروفِ صحیح ہیں۔ جیسے تے، لام، قاف، غین وغیرہ۔

یے اور واؤ جب الفاظ کے شروع میں آئیں تو انھیں بھی حروفِ صحیح شمار کرنا چاہیے۔ جیسے یہ، یوں، یگانہ، یعنی جیسے الفاظ کی ابتدائی یے اور وہاں، وغیرہ، والد جیسے الفاظ کا واؤ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حروفِ علت صرف سادہ آوازیں ہیں۔ آ، او، ای، اے کی طرح۔ مگر یگانہ اور والد جیسے الفاظ میں یہ حروف سیدھی صاف آوازوں کی بجائے ان آوازوں کو ظاہر کرتے ہیں جو حروفِ صحیح کی طرح رک کر یا بل کھا کر نکلتی ہیں۔ واؤ ہی کو دیکھیے۔ اس میں زبان اور ہونٹ ایک مخصوص صورت اختیار کر کے آواز کی تشکیل کرتے ہیں۔

بعض حروف اردو میں ایسے بھی ہیں جو الگ الگ ہونے کے باوجود تقریباً ایک ہی طرح ادا کیے جاتے ہیں۔ جیسے قاف اور کاف۔ عین اور الف۔ طوئے اور تے۔ یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ یہ آوازیں نکلتے ہوئے اعضائے دہن کی حالت ایک جیسی یا ملتی جلتی ہوتی ہے۔ وہ جگہ جہاں سے کوئی حرف ادا ہوتا ہے مخرج کہلاتی ہے۔ جو حروف قریب قریب کی جگہوں سے ادا ہوتے ہیں قریب المخرج کہلاتے ہیں۔ تنافر کا مسئلہ حروفِ صحیح سے متعلق ہے۔

اب ہم تنافر کی قسمیں دیکھتے ہیں۔

۱۔ اتصال بعدِ سکوت

اسے اتصال بعد از سکوت بھی کہتے ہیں۔ تنافر کی یہ صورت تب واقع ہوتی ہے جب ایک لفظ کسی حرف پر ختم ہو اور اس سے اگلا لفظ اسی حرف یا کسی قریب المخرج حرف سے شروع ہو۔

یہی تعریف یوں بھی ممکن ہے کہ ایک حرف کے ساکن آنے کے بعد وہی یا کوئی قریب المخرج حرف معاً متحرک بھی وارد ہو جائے۔ مثالیں ملاحظہ ہوں:

مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دورِ جام

بزم میں = م کا اتصال

نہالِ عشق کو ظاہر میں حق نے بےثمر رکھا

عشق کو = ق اور ک کا اتصال

کچھ دنوں اپنے گھر رہا ہوں میں

گھر رہا = ر کا اتصال

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان تمام مثالوں میں پہلے ایک حرف ساکن آیا ہے اور پھر اگلے ہی لفظ کا آغاز بھی اس حرف سے ہو گیا ہے۔ اس سے مصرعوں کی روانی کسی قدر متاثر تو ہوتی ہے مگر یہ اتنا عام ہے کہ گریز عملاً ناممکن ہے۔ ہماری زبان کی فطری روانی اور بہاؤ میں اتصال خود بخود اور قدرتی طور پر پیدا ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ مفرد الفاظ میں بھی یہ رنگ وافر ہے۔ جیسے ماننا، برتتا، مادّہ۔ اگر اس سے بچنے کی کوشش کی جائے تو وہ نہ صرف نہایت مشکل ہے بلکہ خدشہ ہے کہ نتیجے میں پیدا ہونے والی عبارت مصنوعی اور پرتکلف قسم کی ہو گی۔ گویا محنت زیادہ اور نفع بہت ہی کم ہے۔ اس لیے اسے عیب شمار نہیں کرنا چاہیے۔

۲۔ توالی الاصوات

توالی پے بہ پے آنے کو کہتے ہیں۔ توالی الاصوات یعنی آوازوں کا متواتر آنا۔ تنافر کی اس قسم میں متحرک حروف کی یکساں آوازیں یکے بعد دیگرے اس طرح وارد ہوتی ہیں کہ کھٹکا سا پیدا ہو جاتا ہے۔

چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

کا کاروبار = ک کا توالی

یہ کیا کہ دشمنوں میں مجھے ساننے لگے

میں مجھے = م کا توالی

کبھی اس راہ سے نکلا تو تجھے گھور گیا

تو تجھے = ت کا توالی

کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں

کی کہ کھا = ک اور کھ  کا توالی

توالی الاصوات کا شعر کی موزونیت سے گہرا تعلق ہے۔ یعنی جب تک شعر کو پورے التزام کے ساتھ وزن میں نہ پڑھا جائے مسئلہ سامنے نہیں آتا۔ عام قاری اگر موزوں طبع یا عروض فہم نہ ہو تو اس تک نہیں پہنچ سکتا۔

توالی الاصوات اور اتصال بعدِ سکوت کا فرق یہ ہے کہ اتصال بعد سکوت صرف حرف کی ان دو مثالوں کے درمیان واقع ہوتا ہے جن میں سے پہلی ساکن اور دوسری متحرک ہو۔ توالی الاصوات میں حرف کی تکرار متحرک حالت میں ہوتی ہے اور دو سے زیادہ بار ہو سکتی ہے۔

اتصال بعدِ سکوت کی طرح توالی الاصوات بھی ہماری بول چال میں قدرتی طور پر وارد ہوتا ہے مگر اس کا وقوع نسبتاً کم ہے۔ لہٰذا اجتناب بھی مقابلتاً آسان ہے۔ بعض مفرد الفاظ بھی توالی الاصوات کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ جیسے ٹھٹھیرا، ٹٹیری، پپیہا۔ اوپر کی مثالوں میں دیکھیں تو پہلی صورت بڑی حد تک فطری ہے۔ اس سے بچنے کی کوشش مشکل بھی ہے اور کوئی خاص فائدہ بھی معلوم نہیں ہوتا۔ بلکہ مصرع برباد ہونے کا احتمال ہے۔ مگر آخری مثال میں خود توالی کی وجہ سے مصرع بگڑ کر رہ گیا ہے۔ اس سے گریز یوں ہو سکتا تھا:

کیا قسم ہے ترے ملنے کی جو کھا بھی نہ سکوں

لہٰذا ہماری سفارش ہے کہ توالی الاصوات سے جہاں ممکن ہو بچنا چاہیے اور جہاں ممکن نہ ہو وہاں عیب نہیں گننا چاہیے۔

۳۔ تنافرِ مرکب

یہ وہ صورت ہے جس میں اتصال اور توالی اکٹھے ہو جائیں۔

رازِ مکتوب بہ بےربطئِ عنواں سمجھا

مکتوب بہ بےربطی = ب کی ترکیب

عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا

عشق کے قابل = ک اور ق کی ترکیب

اگر آپ دیکھیں تو اس صورت میں پہلے ایک حرف ساکن وارد ہوتا ہے اور پھر ایک سے زیادہ بار حرکت کے ساتھ آتا ہے۔ گویا پہلے اتصال بعدِ سکوت اور پھر توالی الاصوات۔ یہ تکرار زبان کی فطری حالت میں نادر ہے اور اس سے احتراز تقریباً ہمیشہ ممکن ہوتا ہے۔ ہم اسے تنافر کی اصلی اور خالص ترین شکل سمجھتے ہیں اور پرہیز کی تاکید کرتے ہیں۔

۴۔ مرور الحروف

مرور الحروف یکساں حروف کی ایسی ناگوار تکرار کا نام ہے جو متصل یعنی ساتھ ساتھ نہ ہو۔

سامنے یار کے کمرے کے بنایا کمرہ

ک کا مرور

سونی، سلگتی، سوچتی، سنسان سی سڑک

س کا مرور

مرور کا درجہ انگریزی یا شاید تمام یورپی شاعری میں ایک صنعت کا ہے مگر ہمارے ہاں عام طور پر اسے معیوب سمجھا گیا ہے۔ مثالوں میں دوسرا مصرع ظفرؔ اقبال صاحب کا ہے جو اسے صنعت ہی سمجھ کر برتتے ہیں۔ بعض اوقات یہ خوبصورت بھی معلوم ہوتا ہے۔  مگر پہلی مثال واضح طور تکدر پیدا کر رہی ہے۔ لہٰذا مرور الحروف کا فیصلہ ہم اصول کی بجائے ذوق پر چھوڑتے ہیں۔

۵۔ تعارض الحروف

تعارض الحروف یہ ہے کہ ثقیل حروف کلام کے معانی اور مزاج کے برخلاف بتکرار یا بغیر تکرار کے پائے جائیں اور آہنگ کی بجائے شور کا تاثر پیدا کریں۔

حیران دمادم ہوں پریشان دھڑادھڑ

د، دھ اور ڑ کا تعارض

مفہوم اس قدر ہنگامے کا تقاضا نہیں کرتا جتنا دمادم اور دھڑادھڑ نے برپا کر رکھا ہے۔ اگر شعر یا مصرع معنوی طور پر بھی جلال آمیز ہو تو البتہ اسے جائز سمجھا جا سکتا ہے۔

تعارض میں تکرار لازم نہیں۔ حروف کی آوازوں کا معانی کے تاثر کے خلاف ہونا لازم ہے۔ تنافر کی یہ قسم یقینی طور پر عیب شمار کی جانی چاہیے۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے عروض فہم۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

متفرق عروضی اصطلاحات

تنبیہ