پند نامۂِ داغؔ دہلوی

منظوم اصولِ شاعری

 

اردو کی کلاسیکی اور معیاری شاعری سے رغبت رکھنے والوں اور اپنے ذوق کی اصلاح چاہنے والوں کے لیے ایک جمالیاتی منشور کی حیثیت رکھنے والا منظوم ہدایت نامہ!

پند نامہ

نوآموز شعرا کی رہنمائی کے لیے اردو کے استاد شاعر نواب مرزا خان داغؔ دہلوی کا ایک نادر و نایاب قطعہ جس میں فنِ شعر پر مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس پند نامے میں مختلف ادبی و عروضی اصطلاحات مذکور ہیں جن کا مفہوم اصولاً ادب کے طلبہ کو معلوم ہونا چاہیے اور داغؔ کے زمانے میں ہوا بھی کرتا تھا۔ تاہم فی زماننا اغلب ہے کہ لوگ ان کے مطالب سے کماحقہٗ آشنا نہ ہوں۔ ایسوں کے لیے پندِ سود مند یہ ہے کہ اردو عروض کی تازہ اشاعتوں سے باخبر رہیں۔ ہم وقتاً فوقتاً مضامین اور مصطلحات کے زمروں میں تشریحات و توضیحات شائع کرتے رہیں گے۔ ان شاءاللہ۔

فصیح الملک نواب مرزا خاں داغؔ دہلوی کا شاعری کے محاسن و معائب پر ایک بصیرت افروز ہدایت نامہ جو انھوں نے حضرت احسنؔ مارہروی کی فرمائش پر اپنے شاگردوں کے لیے فی البدیہہ نظم فرمایا۔

شعرا اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے خاصے کی چیز۔

پند نامہ

 

قطعہ بطور ہدایت نامہ کہ حسبِ استدعائے خاکسار احسنؔ وقتِ تالیفِ جلوۂِ داغؔ برائے

فصیح اللغات ارشاد فرمودند فی البدیہہ

 

اپنے شاگردوں کو یہ عام ہدایت ہے مری
کہ سمجھ لیں تہِ دل سے وہ بجا و بے جا

شعر گوئی میں رہیں مدِ نظر یہ باتیں
کہ بغیر ان کے فصاحت نہیں ہوتی پیدا

چست بندش ہو نہ ہو سست یہی خوبی ہے
وہ فصاحت سے گرا شعر میں جو حرف دبا

عربی فارسی الفاظ جو اردو میں کہیں
حرفِ علت کا برا ان میں ہے گرنا دبنا

الفِ وصل اگر آئے تو کچھ عیب نہیں
لیکن الفاظ میں اردو کے یہ گِرنا ہے روا

جس میں گنجلک نہ ہو تھوڑی بھی صراحت ہے وہی
وہ کنایہ ہے جو تصریح سے بھی ہو اولیٰ

عیب و خوبی کا سمجھنا ہے اک امرِ نازک
پہلے کچھ اور تھا اب رنگِ زباں اور ہوا

یہی اردو ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے
اہلِ دہلی نے اسے اور سے اب اور کیا

مستند اہلِ زباں خاص ہیں دلی والے
اس میں غیروں کا تصرف نہیں مانا جاتا

جوہری نقدِ سخن کے ہیں پرکھنے والے
ہے وہ ٹکسال سے باہر جو کسوٹی نہ چڑھا

بعض الفاظ جو دو آئے ہیں اک معنیٰ میں
ایک کو ترک کیا ایک کو قائم رکھا

ترک جو لفظ کیا اب وہ نہیں مستعمل
اگلے لوگوں کی زباں پر وہی دیتا تھا مزا

گرچہ تعقید بری ہے مگر اچھی ہے کہیں
ہو جو بندش میں مناسب تو نہیں عیب ذرا

شعر میں حشو و زواید بھی برے ہوتے ہیں
ایسی بھرتی کو سمجھتے نہیں شاعر اچھا

گر کسی شعر میں ایطائے جلی آتا ہے
وہ بڑا عیب ہے کہتے ہیں اسے بے معنیٰ

استعارہ جو مزے کا ہو مزے کی تشبیہ
اس میں اک لطف ہے اس کہنے کا پھر کیا کہنا

اصطلاح اچھی مثل اچھی ہو بندش اچھی
روزمرہ بھی رہے صاف فصاحت سے بھرا

ہے اضافت بھی ضروری مگر ایسی تو نہ ہو
ایک مصرع میں جو ہو چار جگہ بلکہ سوا

عطف کا بھی ہے یہی حال یہی صورت ہے
وہ بھی آئے متوالی تو نہایت ہے برا

لف و نشر آئے مرتب وہ بہت اچھا ہے
اور ہو غیر مرتب تو نہیں کچھ بے جا

شعر میں آئے جو ایہام کسی موقع پر
کیفیت اس میں بھی ہے وہ بھی نہایت اچھا

جو نہ مرغوبِ طبیعت ہو بری ہے وہ ردِیف
شعر بے لطف ہے گر قافیہ ہو بے ڈھنگا

ایک مصرع میں ہو تم دوسرے مصرع میں ہو تو
یہ شتر گربہ ہوا میں نے اسے ترک کیا

چند بحریں متعارِف ہیں فقط اردو میں
فارسی میں عربی میں ہیں مگر ان سے سوا

شعر میں ہوتی ہے شاعر کو ضرورت اس کی
گر عروض اس نے پڑھا وہ ہے سخن ور دانا

مختصر یہ ہے کہ ہوتی ہے طبیعت استاد
دین اللہ کی ہے جس کو یہ نعمت ہو عطا

بے اثر کے نہیں ہوتا کبھی مقبول کلام
اور تاثیر وہ شے ہے جسے دیتا ہے خدا

گرچہ دنیا میں ہوئے اور ہیں لاکھوں شاعر
کسبِ فن سے نہیں ہوتی ہے یہ خوبی پیدا

سید احسنؔ جو مرے دوست بھی شاگرد بھی ہیں
جن کو اللہ نے دی فکرِ رسا طبعِ رسا

شعر کے حسن و قبائح جو انھوں نے پوچھے
ان کی درخواست سے اک قطعہ یہ برجستہ کہا

پند نامہ جو کہا داغؔ نے بیکار نہیں
کام کا قطعہ ہے یہ وقت پہ کام آئے گا

بحوالۂ یادگارِ داغؔ
راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے عروض فہم ہیں۔

تمام عروضی نگارشات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

”پند نامۂِ داغؔ دہلوی“ پر 2 عدد تبصرے

آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مراسلے کے؟