سرقہ، شعر اور اس کے حقوقِ ملکیت

اردو عروض

ولیؔ دکنی کی ملاقات سعد اللہ گلشنؔ سے ہوئی تو انھوں نے فرمایا:

این ہمہ مضامینِ فارسی کہ بیکار افتادہ اند، در ریختۂِ خود بکار ببر۔ از تو کہ محاسبہ خواہد گرفت؟

یعنی یہ جو فارسی کے سب مضامین بیکار پڑے ہیں، انھیں اپنی زبان کی شاعری میں کام میں لا۔ تجھ سے کون پوچھے گا؟ ولیؔ نے اس مشورے پر کماحقہٗ عمل کیا اور اردو شاعری آج تک فارسی کے اس رنگ میں کم یا زیادہ رنگی چلی آتی ہے جس کی چوری کا مشورہ میاں صاحب جیسے بزرگ نے دیا تھا۔ یاد رہے کہ ولیؔ اردو شاعری کے باوا آدم کہلاتے ہیں اور ہمیں ان کی شاعری کے باقاعدہ دو ادوار ملتے ہیں جن میں سے پہلا دکن کی مقامی روایت سے متاثر ہے اور دوسرا فارسی اساتذہ سے ماخوذ۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ روایت پایۂِ اعتبار سے ساقط ہے۔ یوں ہی سہی۔ ہمارے مدعا پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ روایت کے ایک ناقل خدائے سخن میر تقی میرؔ ہیں جنھوں نے اپنے تذکرہ نکات الشعرا میں اسے نقل کیا ہے۔ واقعہ موضوع بھی ہو تو اس کے بیان سے کم از کم یہ ضرور ثابت ہو جاتا ہے کہ میرؔ جس شعری روایت کا حصہ تھے اس میں نہ صرف یہ رویہ کوئی قابلِ گرفت عیب نہ تھا بلکہ اس درجہ مستحسن اور مستحکم تھا کہ اس پر ایک نوزائیدہ زبان کی پوری شعری و ادبی روایت کی بنا رکھی جا سکتی تھی۔

اس سے پہلے کہ ہم سرقہ کے مفہوم کو نظری اعتبار سے دیکھیں، چند حوالے اور پیش کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ حالیؔ مقدمہ میں رقم طراز ہیں:

فارسی میں کم اور عربی میں زیادہ اور انگریزی میں بہت زیادہ نہ صرف نظم میں بلکہ نثر میں نظم سے بھی زیادہ ہر قسم کے بلند، لطیف اور پاکیزہ خیالات کا ذخیرہ موجود ہے۔ پس ہمارے ہم وطنوں میں جو لوگ ایسے دماغ رکھتے ہیں کہ غیر زبانوں سے نئے خیالات اخذ کر کے ان میں عمدہ تصرفات کر سکتے ہیں وہ اپنے مبلغ فکر کے موافق تصرف کر کے اور جن کی قوتِ متخیلہ ان سے کم درجہ کی ہے وہ انھیں خیالات کو بعینہٖ اپنی زبان میں صفائی اور سادگی کے ساتھ ترجمہ کر کے اردو شاعری کو سرمایہ دار بنائیں۔ سنسکرت اور بھاشا میں خیالات کا ایک دوسرا عالم ہے اور اردو زبان بہ نسبت اور زبانوں کے سنسکرت اور بھاشا کے خیالات سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ اس لیے ان زبانوں سے بھی خیالات کے اخذ کرنے میں کمی نہ کریں اور جہاں تک کہ اپنی زبان میں ان کے ادا کرنے کی طاقت ہو ان کو شعر کے لباس میں ظاہر کریں اور اس طرح اردو شاعری میں ترقی کی روح پھونکیں۔

محمد حسین آزادؔ آبِ حیات میں فرماتے ہیں:

۔۔۔ آج دیکھتے ہیں تو اور ہی رنگ ہے۔ ہمارے قادر الکلام انشا پرداز ترجمے کر کے انگریزی خیالوں کے چربے اتارتے ہیں اور ایسا ہی چاہیے۔ جہاں اچھا پھول دیکھا چن لیا اور دستار نہیں تو کوٹ میں زیبِ گریباں کر لیا۔ ہمارے انشا پردازوں نے جب دیکھا کہ فارسی والوں نے اپنی قادر سخنی کے زور یا ظرافتِ طبع کے شور سے عربی ترکیبوں کا استعمال کیا تو انھوں نے بھی اپنے پیارے ملک کی زبان کو اس نمک سے بےلطف نہ چھوڑا۔

حالیؔ سے شبلیؔ تک اور میرؔ سے آزادؔ تک ہمارے تمام ادب فہموں اور تذکرہ نویسوں  نے نہ صرف اس نظریے کا بار بار اثبات یا یوں کہیے کہ ادعا فرمایا ہے کہ شعر و ادب میں خیال فردِ واحد کی بجائے تمام انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے بلکہ عملی طور پر اس کے نظائر و براہین بھی بکثرت پیش کیے ہیں۔ یعنی سب کے ہاں یہ روش ہے کہ کسی شاعر کا درجہ متعین کرنے کے لیے اس کے اشعار لکھتے ہیں اور پھر اسی مضمون کے اشعار کسی مسلم الثبوت استاد کے لا کر موازنہ کرتے ہیں۔ گویا معنیٰ متحد ہوتا ہے اور طرزِ ادا مختلف۔ خیال وہی اور الفاظ جدا جدا۔ اس کی وجہ دیکھیں تو پس منظر میں ایک نہایت حکیمانہ اصول موجود ہے۔ اس کا مختصر بیان حالیؔ ہی کے الفاظ میں سنیے:

ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ شاعری کا مدار جس قدر الفاظ پر ہے اس قدر معانی پر نہیں۔ معانی کیسے ہی بلند اور لطیف ہوں اگر عمدہ الفاظ میں بیان نہ کیے جائیں گے ہرگز دلوں میں گھر نہیں کر سکتے۔ اور ایک مبتذل مضمون پاکیزہ الفاظ میں ادا ہونے سے قابلِ تحسین ہو سکتا ہے۔ لیکن معانی سے یہ سمجھ کر کہ وہ ہر شخص کے ذہن میں موجود ہیں اور ان کے لیے کسی ہنر کے اکتساب کی ضرورت نہیں، بالکل قطعِ نظر کرنا ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔

گویا اگرچہ معنیٰ سے کلی صرفِ نظر ممکن نہیں مگر شعر فی الحقیقت ان الفاظ کی بنا پر شعر ہے جن میں کوئی معنیٰ ادا کیا گیا ہے نہ کہ معنیٰ کوئی شے ہے کہ شعر کو شعر بنا سکے۔ یہی سبب ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ادبیاتِ عالم کے کلاسیک فن پارے تکرارِ معنوی سے مملو ہیں۔  سوفوکلیز کے ایڈی پس ریکس سے لے کر ملٹن کی جنتِ گم گشتہ تک اور توریت سے لے کر قرآنِ مجید تک جو اعلیٰ ترین حکمتیں اور لطافتیں انسانوں پر القا و الہام ہوئی ہیں معنوی اعتبار سے محض دہرائی ہوئی چیزیں ہیں۔ خود ارسطو نے مغربی تنقید کی انجیل یعنی بوطیقا میں جو اصول بیان کیے ہیں ان کی بنا یونانی ڈراما نگاروں کے ان ناٹکوں پر رکھی ہے جن کی کہانیاں یونانی دیومالا کے معدودے چند قصوں کے سوا کچھ نہ تھیں۔ یہی قصے بار بار ہر شاعر اپنے رنگ میں بیان کرتا تھا اور کامیابی کا فیصلہ طرزِ ادا پر ہوتا تھا۔ اگرچہ ارسطو کے ہاں لفظ و معنیٰ کی بحث میں بعینہٖ وہ نقطۂِ نظر نہیں ملتا جو ہمارے اسلاف میں رائج رہا ہے تاہم اتنا صاف ہے کہ کہانی، خیال یا معنیٰ کو اس نے ہرگز ہرگز ایسی شے نہیں سمجھا جس کی نقل ادبی یا فنی اعتبار سے جرم ہو۔

شیکسپئیر کے ناٹک مسلمہ طور پر پلوٹارک کی سوانح اور کچھ برطانوی تواریخ سے ماخوذ ہیں۔ گوئٹے کی مثال میں اکثر دیا کرتا ہوں کیونکہ وہ میری نظر میں مغرب کی قد آور ترین شخصیات میں سے ایک ہے۔ اس نے کرسٹوفر مارلو کے ناٹک ڈاکٹر فاؤسٹس میں پیش کی گئی داستان کو فاؤسٹ کے نام سے جرمن میں پیش کیا۔ المانی اسے محض ترجمہ یا آزاد ترجمہ سمجھنے کی بجائے طبع زاد شاہکار کے طور پر اپنے کلاسیک ادب میں جگہ دیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح یا شاید اس سے بڑھ کر جو ڈاکٹر فاؤسٹس کو انگریزی ادبیات میں حاصل ہے۔

میں حوالہ جات کا کچھ خاص قائل نہیں اور میرا خیال ہے کہ حق بات بغیر کسی خارجی تصدیق و توثیق کے بھی انصاف پسند اور سلیم الفطرت لوگوں کے دل نشین ہو جاتی ہے۔ تاہم محولہ بالا حقائق میں نے صرف اس خیال سے پیش کرنے ضروری سمجھے کہ مبادا کوئی سرقہ کی نسبت اس نظریے کو میری اختراع خیال کرے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا میں کوئی خیال، کوئی نظریہ اور کوئی اختراع ایسی نہیں ہوتی جس کے نظائر و امثال اس سے پیشتر نہ چلے آتے ہوں۔ اس لیے یہ چلن ہماری دانست میں مطلقاً بےبنیاد ہے کہ کسی خاص خیال کو اپنی جاگیر سمجھ لیا جائے اور اگر کوئی اپنے تئیں اسے ادا کرنے کی کوشش کرے تو لٹھ لے کر اس کے پیچھے پڑ جایا جائے کہ تم چور ہو۔

کعب بن زہیر کا ایک شعر حالیؔ نے مقدمہ میں نقل کیا ہے۔

وما أرانا نقول إلا مُعارًا
ومُعارًا من قولنا مكرورًا

یعنی ہم جو کچھ کہتے ہیں یا تو اوروں کے کلام سے مستعار لے کر کہتے ہیں یا اپنے ہی کلام کو دہراتے ہیں۔

یہ اصول صرف فنکارانہ تخیلات ہی سے مخصوص نہیں بلکہ فکر کے تمام پہلوؤں کو محیط ہے۔ مثلاً ڈارون کے نظریۂِ ارتقا کی نسبت کوئی نیم خواندہ اور بر خود غلط شخص یہ خیال رکھے تو رکھے کہ وہ بالکل اصلی اور نئی شے ہے مگر تاریخ ثابت کرتی ہے کہ جانداروں کو اس نقطۂِ نگاہ سے دیکھنا کوئی انوکھی چیز نہیں ہے۔ ارسطو سمیت بہت سے لوگوں کے ہاں اس نظریے کے تخم ملتے ہیں مگر ایک دلچسپ آدمی فلاسفۂِ یونان میں اناکسی مینڈر گزرا ہے جس کا فلسفہ ڈارون کے خیالات سے غیرمعمولی مماثلت رکھتا ہے۔ بات بس اتنی ہے کہ ہمارے پاس اس کے خیالات مکمل، مرتب اور منضبط صورت میں موجود نہیں لہٰذا ہم نظریۂِ ارتقا کی تفصیلات کے ضمن میں ڈارون کی منت کشی پر مجبور ہیں۔

سمجھنا چاہیے کہ انسان اس دنیا میں ایک ہی قسم کے خطرات اور خدشات کا ابتدائے آفرینش سے شکار رہا ہے اور اصلاً ایک ہی طرح کی مہمات اسے ہمیشہ درپیش رہی ہیں۔ جو جذبات و افکار خارجی دنیا سے اس قسم کے تعامل کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں وہ کم و بیش ہر زمانے میں یکساں ہیں۔ لہٰذا یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک خیال یا روش ایک زمانے میں زیادہ شائع رہی ہو مگر یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ کسی عہد میں عالمِ انسانیت اس سے یکسر عاری ہو گیا ہو۔ پس خیالات اور معانی وہ ہیں کہ کسی بھی زمانے اور کسی بھی انسان کے دل و دماغ میں بالکل آزادانہ طور پر ایک سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ انھیں کسی کی جاگیر یا ملکیت خیال کرنا بڑی خطا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ علم و ادب کے دانایانِ راز نے اپنا دامن اس سے ہمیشہ بچا کر رکھا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر سرقہ ہے کیا؟ اگر ہم کسی کے خیال کو سینہ زوری سے اپنا سمجھ کر برت سکتے ہیں تو چوری اس کے سوا کیا ہے؟

گو کہ مندرجہ بالا گفتگو میں جواب کے کافی اشارے موجود ہیں مگر یہ گرہ بھی کھولتے ہی چلیں۔ ادب و فن کی دنیا میں چوری ہماری اور اصحابِ مذکور کی رائے میں خیال کی بجائے لفظ سے تعلق رکھتی ہے۔ یعنی آپ کسی کو سارق تب کہیں گے جب اس کے ہاں کوئی مضمون بعینہٖ انھی الفاظ میں پایا جائے جن میں اس سے پہلے کسی نے باندھ رکھا ہے۔ گو کہ اس میں بھی توارد کی رعایت موجود ہے یعنی خیالات کی طرح الفاظ بھی اتفاقاً ایک سے ہو سکتے ہیں مگر اس کا فیصلہ تقدیم و تاخیر اور علم اور قصد وغیرہ کے تحقیقی اصولوں کے تحت کیا جا سکتا ہے۔ نیز ترجمہ ہرگز سرقہ نہیں ہے بلکہ اس زبان پر ایک احسان کے مترادف ہے جس میں کیا گیا ہے۔ ہمارے عہد میں ترجمے کے لیے اصل مصنف کا حوالہ لازم ہو گیا ہے اور ہم اسے ایک اچھی بات سمجھتے ہیں۔ تاہم آزاد اور تخلیقی ترجموں اور ماخوذ نگارشات کو ہماری رائے میں اب بھی اس قید سے آزاد ہی رہنا چاہیے۔

سرقہ بازی پر ایک لال بجھکڑ قسم کے قاضی کا انصاف برسبیلِ تذکرہ یاد آ گیا ہے۔ چلتے چلتے سنتے چلیے۔ خیالات کی چوری پر فریاد تو ہمارے ہاں شاید یگانہؔ کے دور سے ہوتی آئی ہے مگر اب زمینوں کے قبضے پر بھی زنجیرِ عدل ہلنے لگی ہے۔ ہمارے زمانے کے ایک شاعر منصور آفاقؔ نے ایک زمین کا ٹنٹا یوں نکالنے کی کوشش کی ہے:

تیرے دن جو مری دہلیز پہ آنے لگ جائیں
ڈوبتے ڈوبتے سورج کو زمانے لگ جائیں

۔۔۔ ذاتی طور میرا اس زمین کے بارے میں یہی خیال تھا کہ یہ کسی استاد کی زمین نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کی وجہ اس کی بحر رمل مثمن مجنون ہے۔ جسے زحافات کے ساتھ بھی ﴿فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلان﴾ تو بنا یا جا سکتا ہے لیکن ﴿فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلاتن﴾ نہیں بنایا جا سکتا۔ اور اگر بنا دیا جائے تو پھر اس کے ساتھ ﴿فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن﴾ نہیں چل سکتا ۔جب کہ جس زمین کا مقدمہ اس وقت درپیش ہے اس میں یہ دونوں وزن ایک ہی بحر کے قرار دئیے گئے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ فارسی زبان میں اس بات کی اجازت ہے مگر مجھے کوئی مثال نہیں مل سکی۔ ایک اور بات کہ ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ یہ بحر ﴿فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلان﴾ ہی ہے اور اس میں ردیف کا آخری لفظ "جائیں” فعل کے وزن پر باندھا گیا ہے تو اس کی توقع استاد شعرائے کرام سے کم ہی کی جاسکتی ہے۔

موصوف کے عروضی شعور پر تو ہم تبصرہ نہیں کرنا چاہتے مگر اتنا کہیں گے کہ جس شخص کو زبان تک کا بنیادی فہم حاصل نہ ہو اسے ادب میں ناک گھسیڑنا کیا ضرور ہے؟ کوئی شخص جو اردو کا تھوڑا سا بھی مزاج آشنا ہو وہ خواہ مخواہ ایک عروضی مسلمے سے الجھنے کی بجائے لگ جائیں بمعنیٰ شروع ہو جائیں ہی سے پا جائے گا کہ یہ ضرور کسی نئے شاعر کی حرکت ہے۔ اساتذہ تو ایک طرف رہے، اچھی اردو ہی کا یہ محاورہ نہیں۔ اسے محض اہلِ پنجاب نے ہمیشہ کی طرح اپنی جارحیت اور زبردستی کے زور پر فی زماننا اردو میں داخل کر دیا ہے۔ اردو میں اس محل پر صرف لگیں کہا جاتا ہے۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے عروض فہم۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

متفرق عروضی اصطلاحات

تنبیہ