ادھر سَررِشتہ خَلْق و خُلْق کا سب نرم و نازُک ہے
ادھر ہے منہ میں کَف اور ہاتھ میں حضرت کے چابُک ہے
خدا سمجھے انھیں جو ان کو اہلُ اللہ سمجھتے ہیں
کہاں مَولا کہاں مُلّا مَعاذ اللہ یہ کیا تُک ہے
۲۰ ستمبر ۲۰۱۸ء
ادھر سَررِشتہ خَلْق و خُلْق کا سب نرم و نازُک ہے
ادھر ہے منہ میں کَف اور ہاتھ میں حضرت کے چابُک ہے
خدا سمجھے انھیں جو ان کو اہلُ اللہ سمجھتے ہیں
کہاں مَولا کہاں مُلّا مَعاذ اللہ یہ کیا تُک ہے
۲۰ ستمبر ۲۰۱۸ء
پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔
راحیلؔ فاروق کی شاعری۔ غزلیات، رباعیات، آزاد، معریٰ اور پابند نظمیں، دوہے، قطعات۔۔۔ سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود!