حسن پر عشق کا اثر کر دوں

اردو شاعری

حسن پر عشق کا اثر کر دوں
"آ، تجھے چوم کر امر کر دوں”٭

رات کیا شے ہے طُور کے آگے؟
ایک جلوہ دکھا، سحر کر دوں

سب سمجھتا ہوں، چاہتا ہوں مگر
غلطی جان بوجھ کر کر دوں

نہ کروں مر کے داستاں انجام
زندگی عشق میں بسر کر دوں

دل میں امید کی جگہ کم ہے
تیرے غم کو ادھر ادھر کر دوں؟

سرخ پھولوں کا ذوق، اُف اللہ
چیر دوں دل، لہو جگر کر دوں

کچھ تو ایسے گناہ ہیں، راحیلؔ
عاقبت جان لوں مگر کر دوں

٭ یہ مصرع استاذی میاں حسنین شہزاد صاحب کا ہے۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ