لوگوں سے توقع تھی کہ دیوانہ سمجھتے

21 نومبر 2016 ء

لوگوں سے توقع تھی کہ دیوانہ سمجھتے
سرکار مگر آپ تو ایسا نہ سمجھتے!

سب حشر اٹھائے ہوئے امید کے ہیں، کاش
بیگانہ سمجھتے تجھے اپنا نہ سمجھتے

اب دیکھ لیا ہے تو مکرتے نہیں ورنہ
ہم لوگ تو اس حسن کو افسانہ سمجھتے

یعنی کہ ستم کو بھی کرم جان کے خوش ہوں
دیوانہ سمجھتے مگر اتنا نہ سمجھتے

حافظؔ کے تصوف نے کیا شیخ کو گمراہ
میخانے کو حضرت ہیں صنم خانہ سمجھتے

سمجھانے کو کوڑا نہ اگر عشق کا ہوتا
راحیلؔ میاں خاک بھی واللہ نہ سمجھتے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ
عید مبارک - اردو گاہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!