دنیا میں گو کہ ایسے کو تیسے ہی ٹھیک ہیں
پر کچھ فقیر جیسے ہیں ویسے ہی ٹھیک ہیں
جو ٹھیک ہی نہیں انھیں زم زم پلائیے
جو ٹھیک ہیں وہ جرعۂ مے سے ہی ٹھیک ہیں
بِک کر مشاعرے میں غزل بھی پہنچ گئی
اور یوں بھی ایسی داد سے پیسے ہی ٹھیک ہیں
کرنی ضرور چاہیے تم کو وفا مگر
انداز بےوفاؤں کے جیسے ہی ٹھیک ہیں
جو کچھ بھی ہو رہا ہے زمانے میں ٹھیک ہے
راحیلؔ صاحب آپ بھی ایسے ہی ٹھیک ہیں