پختہ ہونے نہ دیا خام بھی رہنے نہ دیا

28 جنوری 2017 ء

پختہ ہونے نہ دیا خام بھی رہنے نہ دیا
عشق نے خاص تو کیا عام بھی رہنے نہ دیا

ہائے ری گردشِ ایام کہ اب کے تو نے
شکوۂِ گردشِ ایام بھی رہنے نہ دیا

آخرِ کار پکارا اسے ظالم کہہ کر
درد نے دوست کا اکرام بھی رہنے نہ دیا

کوئی کیوں آئے گا دوبارہ تری جنت میں
دانہ بھی چھین لیا، دام بھی رہنے نہ دیا

عیش میں پہلے کہاں اپنی بسر ہوتی تھی
یاد نے دو گھڑی آرام بھی رہنے نہ دیا

دل کو آوارگیاں دور بہت چھوڑ آئیں
ذکرِ خیر ایک طرف، نام بھی رہنے نہ دیا

وہی زنجیر ہے تیرے بھی گلے میں راحیلؔ
جس نے سورج کو لبِ بام بھی رہنے نہ دیا

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!